Rohingya Musalman روہنگیا مسلمان

مولانا وحید الدین خان: نیو ایج اسلام

نویں صدی عیسوی سے عرب اور دیگر مسلم تاجروں کی راکھین (قدیم اراکان) میں آمد شروع ہوئی۔ یہ برما (میانمار) کی ایک ریاست ہے ، جواس کے مغرب میں واقع ہے۔ ابتدائی دنوں میں ہی ان تاجروں میں سے کچھ لوگ وہاں آباد ہوگئے۔ان کے اثر سے مقامی آبادی میں آہستہ آہستہ اسلام پھیل گیا، یہاں تک کہ راکھین ریاست کی ایک بڑی آبادی مسلمان ہوگئی۔ صدیوں تک، اراکان کے یہ مسلمانوں برما کے باقی لوگوں کے ساتھ پرامن زندگی بسر کرتے رہے۔ یہ پرامن حالت اس وقت تک باقی رہی جب تک کہ ان کے درمیان علیحدگی پسند رجحانات پیدا نہیں ہوئے۔

تاہم 1947 میں جب مشرقی پاکستان قائم ہوا ، تو روہنگیا کےبعض جذباتی مسلم رہنماؤں نے اس کو دیکھ کر روہنگیا میں برما سے علاحدہ ایک آزاد مسلم ریاست بنانے کی کوشش شروع کردی ۔ انہوں نے اپنی اس کوشش کو "سیاسی خود اختیاری" کا نام دیا۔دھیرے دھیرے یہ تحریک تیز ہوتی گئی، اور بہت سے انتہا پسند مسلمانوں نے اس میں پوری سرگرمی کے ساتھ حصہ لیا۔ میانمار کی مرکزی حکومت نے ان کی کوششوں کو بغاوت کے طور پر دیکھا۔کیوں کہ حقیقت کے اعتبار سےیہ حکومت میانمار سے علیحدگی کی ایک تحریک تھی۔اس بغاوتی تحریک سے پہلے، روہنگیا کے مسلمان میانمار کے دوسرے لوگوں کے ساتھ پر امن طریقہ سے رہ رہے تھے۔ لیکن علیحدگی پسند رہنماؤں نے جذباتی تقریروں کے ذریعہ روہنگیا میں بسنے والے مسلم و غیرمسلم کے درمیان اختلاف کو ہوا دی۔

ان کی علیحدگی پسندانہ سرگرمیوں کو روکنے کے لئے میانمار حکومت نے ان کے خلاف سخت کارروائی کی ، جو کہ روہنگیا کے مسلم رہنماؤں کے مطابق ظلم کا عمل تھا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ حکومت میانمار کی یہ کارروائی اپنے ملک میں نظم و ضبط (law & order)کو قائم کرنے کے لیے تھی۔ 1971 میں بنگلہ دیش کے قیام نے روہنگیا کے مسلم رہنماؤں کو ایک قسم کا حوصلہ دیا، جس نے ان کی علیحدگی پسند سرگرمیوں کو اور تیز کیا، مگر نتیجہ یہ نکلا کہ میانمار کی حکومت نے پہلے سے کہیں زیادہ سختی سے بغاوت کی تحریک کو کچل دیا۔ یہ ہے مختصر طور پر روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا پس منظر۔

جب میں لکھنؤ میں تھا ، شاید 1966کی بات ہے ۔ ایک دن، ایک عالم دین نے مجھ سے کہا کہ وہ میانمارجا رہےہیں۔ انھوں نے مزید یہ پوچھا کہ کیا میں ان کے ساتھ برما جاسکتا ہوں۔ میں نے پوچھا کہ کیوں، انہوں نے جواب دیا کہ وہاں مسلم ریاست کے قیام کی تحریک چل رہی ہے،میں بھی اس میں بھر پور طور پر حصہ لینا چاہتا ہوں۔ میں نے ان کی بات کی سختی سے مخالفت کی۔ میں نے ان سے کہا کہ کچھ لوگ اس قسم کی تحریک چلاکر سوچتے ہیں کہ وہ اسلام کے نام پر ریاست قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں، حقیقت کے اعتبار سے اس طرح کی ہر ایک سرگرمی صرف کشیدگی اور نقصان میں اضافہ کے ہم معنی ہے۔میں نے ان سے مزید یہ کہا کہ میں ان کے اس عمل کو سخت ناپسند کرتا ہوں، جو کہ اپنی شکل کے اعتبار سے حقیقی اسلام نہیں ہے ، بلکہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے تنازعہ اور خون خرابے کا سبب ہوگا۔ میں نے یہ واضح کیا کہ میں ان چیزوں میں ان کی حمایت نہیں کرسکتا۔میرے جواب کو سن کر مذکورہ عالم مجھ سے ناراض ہو کرچلے گئے۔

 1966 کے بعد سے، روہنگیا مسلمان کے بارے میں میری رائے صرف ایک ہی ہے، اور وہ ہے: روہنگیا مسلمانوں کا معاملہ ظلم کا نہیں ہے، بلکہ مسلم رہنماؤں کی طرف سےاختیار کیے گیےغلط سیاسی موقف کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انجام کاہے، جس کو روہنگیا کے مسلم لیڈروں نے بھڑکا کر ان کے لیےجذباتی ایشو بنادیا ۔اگر تصویر کے دونوں رخ کو دیکھاجائے، تو اس سے ایک آدمی اس نتیجے پر پہنچے گا کہ روہنگیا مسلمان ظلم کا شکار نہیں ہیں، اس کے بجائے وہ مسلم رہنماؤں کی ان سیاسی سرگرمیوں کی قیمت ادا کررہے ہیں، جو کہ غیر حقیقت پسندی پر مبنی تھی۔ اس طرح کی علیحدگی پسند تحریک کسی بھی ملک کے لئے ناقابل قبول ہے، اگرچہ اس کو حکومتِ خود اختیاری  کا خوبصورت نام دے دیاجائے۔ روہنگیا مسلمانوں کی مشکلات کا صرف ایک ہی حل ہے۔ وہ یہ ہے کہ وہ اپنی بغاوت اور عسکریت پسندانہ سرگرمیوں کو لازمی طور پر ختم کریں ۔وہ اس حقیقت کو قبول کریں کہ وہ میانمار قومیت کا ایک بڑا حصہ ہیں۔

انہیں علیحدگی پسند رجحانات کو اپنے دلوں سےنکال دینا چاہئے، تب مجھے یقین ہے کہ میانمار کی حکومت ان کو قبول کرے گی، اور مسئلہ پوری طرح پرامن طریقہ سے حل ہو جائےگا۔ علیحدگی پسند تحریک نے روہنگیا مسلمانوں کی حالت کو بد سے بدتر کیا ہے۔ اگرچہ اس سے پہلے وہ میانمار میں خوشحالی کی زندگی گزار رہے تھے۔اصل یہ ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کا بہترین مفاد علاحدہ ملک میں نہیں ہے، بلکہ میانمار کی ریاست کا حصہ بن کر رہنے میں ہے۔ یہ مذہبی اور سیکولر احساس دونوں اعتبار سے درست ہے۔

1934 میں، مَیں نے مذہبی تعلیم کے لئے اعظم گڑھ کے اندر ایک عربی ادارہ، مدرسۃ الاصلاح میں داخلہ لیا۔ اس مدرسہ میں میرا صرف ایک دوست تھا، عبد الرشید رنگونی (وہ برما کا تھا)۔ وہ ایک مہذب شخص تھا، اور اس وقت کے برما کے بارے میں وہ بہت اچھی رائےرکھتا تھا۔اس کے تاثر کی بنیاد پر برما کے لوگوں کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے، میں یہ کہوں گا کہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کی جانے والی کارروائی کا الزام برما حکومت کی انتظامیہ کے اوپر نہیں ہے، بلکہ ان غیرحقیقت پسندانہ سرگرمیوں پر ابھارنے والے رہنماؤں کے اوپر ہے،جنھوں نے اس خطہ میں تشدد کی سرگرمیاں شروع کیں۔ ان متشددانہ کارروائیوں کو بڑھاوا دینےاور صورت حال کو سنگین کرنے میں باہر کے مسلم رہنماؤں نے بھی حصہ لیاہے۔

 لیکن میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ برما کے لوگ بہت اچھے ہیں، وہ روہنگیا مسلمانوں کو دوبارہ کھلےدل سے قبول کریں گے۔ بشرطیکہ روہنگیا مسلمان یہ تسلیم کریں کہ علیحدگی پسند رہنماؤں کی طرف سے وہ غلط رہنمائی کا شکار ہوئے ہیں، اور اب وہ میانمار کے وفادار شہری بن کر رہیں گے۔ روہنگیا مسلمانوں کو یہ جاننا چاہئے کہ اس دنیا میں دوستی اور دشمنی دونوں اضافی چیزیں ہیں۔ اگر آپ کسی دوسرے شخص کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے تو وہ بھی یقینی طور پر آپ کو ایک دوست کے طور پر قبول کرے گا۔ اس قدرتی قانون کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ (41:34)