By
Maulana Wahiduddin Khan
ذريعه: الرساله، دسمبر 2014

کسی مشن کے دو دور ہوتے ہیں— استحکام (consolidation) اور توسیع (expansion) - الرسالہ کا دعوتی مشن اللہ کے فضل سے استحکام کے دور سے گزر کر اب توسیع کے دور میں داخل ہوگیاہے- نہ صرف انڈیا میں بلکہ دوسرے ملکوں میں بار بار اس کی مثالیں سامنے آرہی ہیں-

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ 13 اکتوبر 2014 کی صبح کو ممبئی سے محبوب بھائی (Mob: 9619163993) کا ٹیلیفون آیا- ممبئی میں پہلے شہر میں دعوتی کام شروع ہوا، اس کے بعد ممبئی کی ٹیم نے مہاراشٹر اسٹیٹ کے دوسرے مقامات کے لئے دعوتی سفر شروع کیا- یہ منصوبہ کامیاب رہا- اب ممبئی کی ٹیم نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ دعوتی توسیع کے اس کام کو ملکی سطح پر چلائیں گے- اس نئے پروگرام کے تحت ممبئی کی ٹیم جلد ہی کلکتہ جانے والی ہے- اس خبر پر مجھے بہت خوشی ہوئی، اور میں نے ان کے لئے دعائیں کیں- خاص بات یہ ہے کہ یہ تمام پروگرام وہ لوگ کسی مرکزی ہدایت کے بغیر کررہے ہیں- یہ کسی مشن کے زندہ مشن ہونے کا ثبوت ہے-

میں نے محبوب بھائی سے کہا کہ آپ لوگ اسی طرح دعوتی توسیع کے میدان میں آگے بڑھئے، اِن شاء اللہ جلد ہی وہ وقت آئے گا جب کہ آپ لوگ عالمی (global) سطح پر دعوت کا یہ کام انجام دیں گے- میں نے کہا کہ حیدرآباد میں ہمارے ایک ساتھی بابو بھائی (وفات: 1987) تھے، الرسالہ مشن سے ان کو نہایت گہرا تعلق تھا- وہ اپنے ساتھیوں سے کہتے تھے کہ دعوت کا منصوبہ آپ لوگ بنائیے، پیسہ مجھ سے لے جائیے- میں نے کہا کہ یہی بات بے شمار گنا زیادہ بڑے پیمانے پر اللہ رب العالمین کے لئے درست ہے- قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ داعیانِ حق کی مدد کرتا ہے-

قرآن کی ایک آیت یہ ہے: ولینصرن اللہ من ینصرہ (الحج: 40) اور بے شک اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اللہ کی مدد کرے-قرآن کی اس آیت میں اللہ کی جس نصرت کا ذکر ہے، اس سے مراد دعوت الی اللہ ہے- دعوت الی اللہ، اللہ رب العالمین کا سب سے زیادہ محبوب کام ہے- اس بناپر اس کام کو اللہ نے اپنی مدد کرنا بتایا ہے-

دعوت الی اللہ کے کام کو اللہ کی مدد کرنا بتایا گیاہے، اس پہلو سے غور کیجئے تو یہ کہنا درست ہوگاکہ قرآن کی اس آیت کے ذریعہ اللہ یہ اعلان کررہا ہے کہ— اے بندے، تو دعوت کی پلاننگ کر، مددگار اسباب میری طرف سے تمھارے اوپر انڈیل دئے جائیں گے- محبوب بھائی سے میں نے کہا کہ ممبئی کو انڈیاکی کمرشیل راجدھانی کہاجاتا ہے- شاید اللہ نے یہ مقدر کردیا ہو کہ ممبئی دعوت الی اللہ کے کام کی دعوتی راجدھانی بنے- موجودہ کمیونی کیشن کے زمانے میں یہ بات پوری طرح ممکن ہے- اس کے ممکن ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں-

الرسالہ کا دعوتی مشن پورے معنوں میں ایک مشن ہے، لیکن اس کی کوئی فارمل تنظیم (formal organisation) نہیں- اس مشن سے وابستہ لوگ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں، اور ہر ایک ذاتی جذبہ (self spirit) کے تحت کام کررہا ہے- ہر ایک اس طرح کی سرگرمی کے ساتھ کام کررہا ہے، گویا کہ یہ اس کا ذاتی کام ہے-

ابتدائی زمانے کا واقعہ ہے، میں ایک عرب ملک میں تھا، وہاں ایک عرب شیخ نے پوچھا کہ آپ کا برنامج (پروگرام) کیا ہے- میں نے کہا: برنامجنا ہو إعداد المبرمجین (ہمارا پروگرام، پروگرام ساز انسان بناناہے)-

اللہ کے فضل سے آج یہ بات واقعہ بن چکی ہے- الرسالہ مشن کے افراد مختلف ملکوں میں پھیلے ہوئے ہیں- معروف معنوں میں ان کا کوئی تنظیمی ڈھانچہ نہیں- وہ رسمی طورپر کسی مرکزی ہدایت سے بندھے ہوئے نہیں- اس کے باوجود ہر ایک سرگرم ہے-

اس کا سبب یہ ہے کہ الرسالہ مشن کوئی سیاسی مشن نہیں- الرسالہ مشن لوگوں کو جنت کی طرف بلانے کا مشن ہے- الرسالہ مشن قرآن کی اِس آیت کی یاددہانی ہے کہ لمثل ہذا فلیعمل العاملون (الصافات: 61)- اس جنتی نشانہ نے الرسالہ مشن کو ہر ایک کے لئے اس کے ذاتی انٹرسٹ کی چیز بنا دیا ہے-

Category/Sub category

Related Tags

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom