ریزرویشن کا طریقہ

ایک مرتبہ مسلمانوں کی ایک میٹنگ میں شریک ہوا۔ اس میں نہایت دھوم کے ساتھ ریزرویشن کے اصول کی وکالت کی جارہی تھی۔یعنی تعلیم اور ملازمت میں مسلمانوں کو ان کے عددی تناسب کے اعتبار سے محفوظ سیٹوں کا دیا جانا۔ کہنے والے کہہ رہے تھے کہ مسلمان اس ملک میں ترقی میں پچھڑ گئے ہیں، ان کو ترقی کی دوڑ میں شامل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کو ریزرویشن دیا جائے، ریزرویشن کے بغیر وہ آگے بڑھنے میں ناکام رہیں گے۔ ایک صاحب نے یہاں تک کہہ دیا کہ تیس سال تک دوسروں کو مواقع دینے کا طریقہ بند کردیا جائے،ا ور صرف مسلمانوں کو موقع دیا جائے۔ یہ طریقہ اس وقت تک جاری رہے، جب تک مسلمان دوسری کمیونٹی کے برابر نہ ہوجائے۔

 یہ سوچ انتہائی حد تک غیر عملی ہے۔ آپ سڑک کی سیاست خواہ کتنی ہی زیادہ چلائیں، لیکن یہ ناممکن ہے کہ نام نہاد پسماندہ طبقوں کو ریزرویشن دے کر ترقی کے راستے پر لگا دیا جائے۔ یہ اصول کہنے کے اعتبار سے خواہ کیسا ہی ہو، لیکن ترقی کے اعتبار سے وہ سراسر ناقابل عمل اصول ہے۔ ریزرویشن کے ذریعے ترقی پانا ایسا ہی ہے، جیسےترقی پانے کے لیے خوش خیالی (falsehood) میں جینا ۔

ریزرویشن نہ دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پیچھے ہونےوالوں کو ہمیشہ کے لیے پیچھے کردیا جائے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ پچھڑ گئے ہیں، ان کو دوسرا چانس دینا۔ یعنی ان کو یہ موقع دینا کہ وہ مزید محنت کرکے دوبارہ اپنے آپ کو کامیاب افراد کی فہرست میں شامل کریں، اور اس طرح ترقی کے میدان میں اپنا سفر جاری رکھیں۔

اگر آپ ترقی کی دوڑ میں پہلی بار آگے نہ آسکے، تو آپ کے لیے دوسرا موقع (second chance) اب بھی موجود ہے۔ آپ رعایت کے غیر عملی مطالبے میں وقت ضائع نہ کریں، بلکہ دوبارہ محنت کرکے سیکنڈ چانس کو اویل کریں۔ آپ کے لیے یہی واحد قابل ِعمل صورت ہے۔ دوسری کوئی صورت سرے سے قابل عمل ہی نہیں۔ زندگی کا اصول ہے— ناممکن کو چھوڑ کر ممکن کے پیچھے دوڑنا۔

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion