دین پر عمل

ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے:لَیَحْمِلَنَّ شِرَارُ ہَذِہِ الْأُمَّةِ عَلَى سَنَنِ الَّذِینَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِہِمْ أَہْلِ الْکِتَابِ حَذْوَ الْقُذَّةِ بِالْقُذَّةِ(مسند احمد، حدیث نمبر 17135)۔ یعنی اس امت کے شرارت پسند لوگ پچھلے اہل کتاب کے طریقے کو اپنائیں گے ، جیسےایک تیر دوسرے تیر کی طرح ہوتا ہے۔اس حدیث کے مطابق، مسلمان اپنے بگاڑ کے زمانے میں وہی کریں گے، جو یہود و نصاری نے اپنے بگاڑ کے زمانے میں کیا تھا۔البتہ یہاں ایک فرق ہے۔ وہ یہ کہ پچھلے پیغمبروں کا لایا ہوا خدائی پیغام محفوظ نہیں۔ اس کے برعکس، پیغمبر اسلام کا لایا ہوا قرآن پوری طرح محفوظ ہے، آپ کی سنت بھی پوری طرح محفوظ ہے۔ اس طرح یہ امکان ہمیشہ باقی رہے گا کہ قرآن وسنت کے مطالعہ سے دین محمدی کو دوبارہ دریافت کیاجائے، اور اس کو اصل صورت میں اختیار کیا جائے۔ قرآن وسنت کا محفوظ ہونا، اس بات کی گارنٹی ہے کہ مجموعے کی سطح پر خواہ بگاڑ آجائے، لیکن افراد کی سطح پر ہمیشہ امت میں ایسے افراد موجود رہیں گے، جو اصل دین کو دوبارہ دریافت کرکے مکمل طور پراس کی پیروی کریں۔

موجودہ دور میں زندگی گزارنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ میڈیامیں اپنا وقت گزاریں۔ بے خوف دل کے ساتھ لوگوں سے بحثیں کریں۔ آپ کا سارا کنسرن میڈیا کی خبریں ہو، نہ کہ قرآن و حدیث میں بیان کردہ باتیں۔ اس قسم کے لوگوں کا ذہنی شاکلہ (mindset) میڈیا کی خبروں کی بنیاد پر بنے گا، نہ کہ قرآن اور سنت کی بنیاد پر ۔ یہی وہ لوگ ہیں، جو پچھلی قوموں کی پیروی کرتے ہیں۔

دوسری شکل یہ ہے کہ تعاہدبالقرآن (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5033) آپ کی مصروفیت ہو،یعنی قرآن و حدیث میں غور و فکر آپ کے دن رات کاعمل بنا ہوا ہو۔ آپ قرآن کے معانی کو سمجھنے میں اپنے صبح و شام گزارتے ہوں۔ آپ قرآن و حدیث میں گہرا غور و فکر کرنے والے بنے ہوئے ہوں۔ اس طرح مطالعہ اور غور و فکر کے نتیجے میں آپ پر قرآن کے اور حدیث کے نئے نئے معانی کھلیں، اور پھر آپ ان کو اپنی زندگی میں اپنا رہنما بنا لیں۔ یہی لوگ حقیقی معنوں میں ربانی انسان ہیں۔

Magazine :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion