کریٹیو عمل
اہل ایمان کے عمل کی ایک صورت یہ ہے کہ وہ قرآن و حدیث کو پڑھیں، پھر اس پر عمل کریں۔ مثلاً یہ کہ پانچ وقت نمازیں پڑھنا، اور رمضان کے مہینے میں روزے رکھنا، وغیرہ۔ ایک اور خاص عمل یہ ہے کہ ایک شخص غور وفکر کرکے کوئی مطلوب عمل دریافت کرے، اور اس کو روبعمل لانے کی پلاننگ کرے۔ اس دوسرے عمل کو کریٹیو عمل کہہ سکتے ہیں۔ اجتہادی عمل اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک کریٹیو عمل ہے۔ ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے:إِذَا اجْتَہَدَ الْحَاکِمُ فَأَخْطَأَ، کَانَ لَہُ أَجْرٌ، وَإِذَا اجْتَہَدَ فَأَصَابَ، کَانَ لَہُ أَجْرَانِ (مسند ابو یعلیٰ، حدیث نمبر 228)۔ یعنی جب حاکم اجتہاد کرے اور اس کا وہ حکم درست نہ ہو تو اس کو ایک اجر ملے گااور اگر اس نے اجتہاد کیا اور اس میں وہ درستگی کو پہنچ گیا، تو اس کے لیے دہرا اجر ہے۔
اجتہادی عمل یا کریٹیو عمل کی اتنی زیادہ اہمیت ہے کہ کرنے والا اس میں غلطی کرے تب بھی اس کو ایک ثواب ہے، اور اگر اجتہاد درست ہو تو دہرا ثواب ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ لوگوں کے اندر تخلیقی عمل کے لیے زیادہ سے زیادہ شوق (incentive)پیدا ہو۔کریٹیو عمل میں آدمی کو بہت زیادہ جد و جہد کرنی پڑتی ہے، اس لیے اس کا ثواب بہت زیادہ ہے۔مثال کے طور پر ایک شخص نے قرآن و حدیث اور موجودہ حالات پر غور کیا، اس کے بعد اس کو یہ دریافت ہوئی کہ موجودہ زمانے میں ایک انٹرنیشنل زبان وجود میں آئی ، جس کے ذریعے انٹرنیشنل تبلیغ کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔اس کےبعد وہ یہ کرے کہ انٹرنیشنل زبان میں قرآن کا معیاری ترجمہ تیار کرے، اور اس کو ساری دنیا میں پھیلائے تو یہ کریٹیو عمل ہوگا۔ عام عمل کا بھی ثواب ہے، لیکن کریٹیو عمل کا ثواب بہت زیادہ ہے۔ تخلیقی عمل کا خاص تعلق دعوتی عمل سے ہے۔ دعوت میں تخلیقی عمل کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ مثلاً اگر آپ قرآن کی دعوت کو عالمی سطح پر پھیلانا چاہیں تو اس کےلیے بہت زیادہ تخلیقی فکر کو کام میں لانا پڑے گا۔ تخلیقی عمل کے بغیر کوئی بڑا دعوتی کام انجام نہیں دیا جاسکتا ہے۔
