سوال و جواب

سوال

آپ کو لفظ"جہاد" کی تعریف میں کچھ لیف لیٹس روانہ کیے جارہے ہیں ۔ غور اور صبر کے ساتھ پڑھ کر اس کا جواب دیں۔ ان کو پڑھ کر یہی سمجھ میں آتا ہے کہ قرآن کو خدائی کتاب کہنے والا انسانیت کا دشمن ہے اور سرودھرم سمبھاؤ کا بھی دشمن ہے۔ (شیواگوڑ، سنگاریڈی)

جواب

شیواگوڑصاحب نے اپنے اس خط کے ساتھ ہمیں انگریزی میں41صفحہ کی فوٹوکاپیاں بھیجی ہیں ۔ اس کا جواب یہاں تحریر کیا جاتا ہے ۔ آپ نے اپنے خط میں قرآن کی 24 آیتیں نقل کی ہیں جن میں اس طرح کی باتیں ہیں —ان سے لڑو ، ان سے دوستی نہ کرو ، ان کے ساتھ نرمی سے نہ پیش آؤ۔ ان کے خلاف جہاد کرو ، وغیرہ۔

واضح رہےکہ قرآن کی یہ آیتیں جو آپ نے نقل کی ہیں وہ غیر مسلم کے ساتھ مسلمان کےتعلق کو نہیں بتاتیں۔ بلکہ وہ جنگ کرنے والوں کے ساتھ مسلمان کے تعلق کو بتاتی ہیں ، اور جنگ کے معاملہ میں یہی ساری دنیا کا مسلمہ اصول ہے ۔ان آیتوں کی بنیاد پر آپ نے اسلام کے بارے میں جو شدید رائے قائم کی ہے ، وہ سرا سر غلط فہمی پر مبنی ہے ۔ آپ نے قرآن کی مذکورہ آیتوں کو عمومی معنوں میں لے لیا ہے ۔ حالانکہ یہ آیتیں ہنگامی حالات کے لیے ہیں ۔ یہ اس وقت کے لیے ہیں جب کہ مسلمانوں اور دوسری قوم کے درمیان حالت جنگ (state of war)قائم ہوگئی ہو، اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ حالت جنگ میں ہمیشہ ایسا ہی کیا جاتا ہے۔ جہاں تک نارمل حالات میں لوگوں کے ساتھ مسلمان کے سلوک کا تعلق ہے وہ دوسری آیتوں سے معلوم ہوتا ہے جو قرآن میں کثرت سے موجود ہیں ۔

ان دوسری آیتوں میں مسلمانوں کوتمام انسانوں کے ساتھ ہمدردی اور غم خواری کا سلوک کرنے کاحکم دیا گیا ہے (سورہ البلد،90:17) ۔اسی طرح حکم ہے کہ در گزر (tolerance)کا طریقہ اختیار کرو(سورہ الاعراف، 7:199)۔ اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ، لَا یَضَعُ اللَّہُ رَحْمَتَہُ إِلَّا عَلَى رَحِیمٍ، قَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّہِ، کُلُّنَا یَرْحَمُ، قَالَ: لَیْسَ بِرَحْمَةِ أَحَدِکُمْ صَاحِبَہُ یُرْحَمُ النَّاسُ کَافَّةً (مسند ابو یعلیٰ الموصلی، حدیث نمبر 4258)۔ یعنی اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اللہ اپنی رحمت صرف رحم کرنے والے پر کرتا ہے۔ لوگوں نے کہا: ہم سب رحم کرتے ہیں، آپ نے کہا: تمھارا اپنے ساتھی پر رحم کرنا مراد نہیں ہے، تمام انسانوں کے ساتھ رحم کا معاملہ کیا جائے،وغیرہ وغیرہ۔

جہاں تک غیرمسلموں سے تعلق کا معاملہ ہے ، قرآن میں اس کی بابت ایک بنیادی اصول مقرر کردیا گیا ہے ۔وہ یہ ہے: لَا یَنْہَاکُمُ اللَّہُ عَنِ الَّذِینَ لَمْ یُقَاتِلُوکُمْ فِی الدِّینِ وَلَمْ یُخْرِجُوکُمْ مِنْ دِیَارِکُمْ أَنْ تَبَرُّوہُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَیْہِمْ إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِینَ۔ إِنَّمَا یَنْہَاکُمُ اللَّہُ عَنِ الَّذِینَ قَاتَلُوکُمْ فِی الدِّینِ وَأَخْرَجُوکُمْ مِنْ دِیَارِکُمْ وَظَاہَرُوا عَلَى إِخْرَاجِکُمْ أَنْ تَوَلَّوْہُمْ وَمَنْ یَتَوَلَّہُمْ فَأُولَئِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ (60:8-9)۔ یعنی اللہ تم کو ان لوگوں سے نہیں روکتا جنھوں نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ نہیں کی۔ اور تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا کہ تم ان سے بھلائی کرو اور تم ان کے ساتھ انصاف کرو۔ بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اللہ بس ان لوگوں سے تم کو منع کرتا ہے جو دین کے معاملہ میں تم سے لڑے اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا۔ اور تمہارے نکالنے میں مدد کی کہ تم ان سے دوستی کرو، اور جو ان سے دوستی کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔

قرآن کی ان دونوں آیات کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے تم سے جنگ نہیں کیا ان سے تم کو بھلائی کا معاملہ کرنا چاہیے۔مگر جو لوگ تمھارے خلاف جنگی کارروائی کررہے ہیں، ان کے ساتھ بطور ڈیفنس جنگ کرو۔ قرآن کے مطابق، عام انسانوں کو تکلیف دینا سخت منع ہے، بلکہ عدو(enemy) اور مُقاتل (combatant) کے درمیان بھی فرق کرنا چاہیے۔ قرآن کا حکم یہ ہے کہ بظاہر اگر کوئی شخص یا گروہ تمہارا دشمن ہو تب بھی تم کواس کے ساتھ اچھا تعلق قائم رکھنا چاہیے۔

جیسا کہ قرآن میں دوسرے مقام پر یہ حکم دیا گیا ہے کہ ایک شخص اگر بظاہر تمہارا دشمن ہو تب بھی تم اس کے ساتھ احسن طریقے پر معاملہ کرو، عین ممکن ہے کہ وہ کسی دن تمہارا دوست بن جائے۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں:وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ (41:34)۔ یعنی بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔

ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان کو جنگ کی اجازت صرف اس وقت ہے جب کہ فریق مخالف کی طرف سے حملہ کا آغاز ہوچکا ہو۔ لیکن جو اس جنگ میں شامل نہیں ہیں، ان کو بالکل بھی تکلیف نہیں دی جائے گی، خواہ وہ دل میں دشمنی رکھتا ہو۔ بین اقوامی معاملات میں یہی مساویانہ سلوک ساری دنیا کا مسلمہ اصول ہے اور اسلامی شریعت میں بھی مساویانہ سلوک کے اسی اصول کو اختیار کیا گیا ہے ۔

واضح رہےکہ قرآن بیک وقت ایک واحد کتاب کی صورت میں نہیں اترا ۔ بلکہ وہ حالات کے اعتبار سے 23 سال کے دوران اترا ۔ 23سال کی اس مدت کو عمومی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔ ایک 20 سال ، دوسرے 3سال ۔23سالہ مدت نزول میں 20 سال گویا امن کے سال تھے اور تقریباً 3 سال جنگی حالات کے سال ۔ آپ نے جن 24آیتوں کا حوالہ دیا ہے وہ مذکورہ تقسیم کے مطابق 3 سال والے ایمرجنسی کے حالات میں اتریں ۔ قرآن کی دوسری آیتیں20 سال والی مدت میں اتریں اور وہ سب کی سب امن اور انصاف اور انسانیت جیسی مثبت تعلیمات پر مشتمل ہیں۔

سوال

قرآن میں کئی آیتیں ایسی ہیں جو مسلمانوں سے کہتی ہیں کہ کافروں کو قتل کرو۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان جہادی ہوگئے ہیںاور غیر مسلموں کو قتل کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں ۔مثلاً قرآن میں یہ آیت ہے: وَاقْتُلُوہُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوہُمْ وَأَخْرِجُوہُمْ مِنْ حَیْثُ أَخْرَجُوکُمْ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَلَا تُقَاتِلُوہُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّى یُقَاتِلُوکُمْ فِیہِ فَإِنْ قَاتَلُوکُمْ فَاقْتُلُوہُمْ کَذَلِکَ جَزَاءُ الْکَافِرِینَ (2:191)۔ یعنی اور قتل کرو ان کو جس جگہ پاؤ اور نکال دو ان کو جہاں سے انھوں نے تم کو نکالا ہے۔ اور فتنہ سخت تر ہے قتل سے۔ اور ان سے مسجد حرام کے پاس نہ لڑو جب تک کہ وہ تم سے اس میں جنگ نہ چھیڑیں۔ پس اگر وہ تم سے جنگ چھیڑیں تو ان کو قتل کرو۔ یہی سزا ہے کافروں کی۔

سوال یہ ہے کہ قرآن میں جب تک اس طرح کی آیتیں موجود ہیں تو مسلمانوں کا غیر مسلموں کے ساتھ شانتی سے رہنا کیسے ممکن ہے۔(اشوک سنگھل ، نئی دہلی)

جواب

یہ آیت خود ہی یہ بتارہی ہے کہ جنگ کا حکم کافر کے خلاف نہیں ہے بلکہ مقاتل (حملہ آور) کے خلاف ہے۔ جیسا کہ خود اسی آیت میں کہا گیا ہے :فَاِنْ قٰتَلُوْکُمْ فَاقْتُلُوْھُمْ (پس اگر وہ جنگ چھیڑ دیں تو تم بھی دفاع میں اُن سے جنگ کرو)۔ اسی طرح مذکورہ آیت سے پہلے یہ آیت ہے : وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا( 2:190)۔ یعنی جو لوگ تم سے جنگ کرتے ہیں اُن سے تم (دفا ع میں) جنگ کرو ، اور تم خود جارحیت (aggression)نہ کرو۔

چنانچہقرآن اور پیغمبر اسلام کی سنت کا مطالعہ کیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں صرف دفاعی جنگ جائز ہے اور اُس کا اختیار بھی صرف حاکمِ وقت کو حاصل ہوتا ہے، کسی غیر حکومتی گروہ کو مسلح جد جہد (armed struggle)کی ہرگز اجازت نہیں۔ اسی طرح اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں قتال (جنگ) کا حکم ایک عارضی(temporary) سبب کے لیے ہے، وہ اسلام کا کوئی ایسا حکم نہیں ہے، جو ہر لمحہ جاری ر ہے۔ جب دفاع کا سبب ختم ہوجائے تو جنگ کا حکم بھی عملاً موقوف (suspend) ہوجائے گا، یعنی جب امن کا زمانہ ہو تو جنگ نہیں کی جائے گی۔ یہی اسلام کی ابتدائی تاریخ میں پیش آیا۔ اسلام کے ابتدائی دور میں ، ماضی کے تسلسل (continuation) کے تحت جنگ کی صورت پیش آئی ۔یعنی انھوں نے پیغمبر اسلام کے خلاف ناحق جنگ چھیڑ دی اور اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفاعی قدم اٹھانے پر مجبور کردیا۔ مگر جنگ کا یہ حکم عارضی تھا۔ قرآن کے الفاظ میں، جب فریقِ مخالف نےاپنا اوزار (ہتھیار)رکھ دیا تو جنگ کا خاتمہ ہوگیا(محمد، 47:4)۔

اس سلسلہ میں دوسری بات یہ ہے کہ قرآن میں جن چند مقامات پر کافر کا لفظ آیا ہے ،اُس سے پیغمبر اسلام کے زمانے کےانکار کرنے والے مراد ہیں ۔ قرآنی اصطلاح کے مطابق،ایسا نہیں ہے کہ لفظ کافر ابد تک کے لیے ہر غیر مسلم گروہ کے لیے بولا جائے گا، یعنی کافر کسی قوم کا یانسل کا دائمی لقب نہیں ہے۔ چنانچہ اہل اسلام نے بعد کے زمانہ کے لوگوں کے لیے جو الفاظ استعمال کیے وہ کافر یا کفارنہ تھے بلکہ یہ وہی الفاظ تھے جو کہ قومیں خود اپنے لیے استعمال کر رہی تھیں ۔ مثلاً ہنو د ، یہود، نصاریٰ، مجوس ، بودھ(بوذا) وغیرہ۔ اسلامی اصول کے مطابق ، کسی قوم کو اسی لفظ سے پکارا جائے گا جو لفظ اُس نے خود اپنے لیے اختیار کیا ہو۔

قرآن کے مطابق، پیغمبر وں نے جب اپنے زمانہ کے غیر مومن لوگوں کو پکارا تو اُنہوں نے یہ نہیں کہا کہ اے کافرو، بلکہ یہ کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ۔ چنانچہ قرآن میں پیغمبر کی زبان سے پچاس بار یہ الفاظ آئے ہیں :یَاقَوْمِ (اے میری قوم ) ۔ اسی طرح قرآن میں پیغمبر وں کے ہم زمانہ غیر مومنین کو اُن کی قوم کا نام دیا گیا ہے۔ مثلاً : قوم لوط ، قوم صالح ، قوم ہود، قوم نوح، وغیرہ۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک پیغمبر کو اُس کے مخالفین نے پتھر مارا اور ان کی پیشانی سے خون بہنے لگا، اُس وقت پیغمبر کی زبان سے یہ الفاظ نکلے :رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِی، فَإِنَّہُمْ لَا یَعْلَمُونَ (مسند احمد، حدیث نمبر 4057)۔اے میرے رب ، میری قوم کو معاف کردے کیوں کہ وہ لوگ نہیں جانتے۔

اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر وں کا نظریہ دوقومی نظریہ نہ تھا ، بلکہ وہ ایک قومی نظریہ تھا۔ یعنی جو قومیت پیغمبر کی تھی وہی قومیت پیغمبر کے مخاطبین کی تھی۔ پیغمبر اور اُس کے مخاطبین کے درمیان جو فرق تھا، وہ قومیت کا فرق نہ تھا بلکہ عقیدہ اور مذہب کا فرق تھا ۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْن(109:6)۔ یعنی تمہارے لیے تمہارا دین، اور میرے لیے میرا دین۔

قرآن میں الا نسان (واحد ) کا لفظ65 بار آیا ہے، اور الناس (جمع ) 240 بار آیا ہے۔ اس کے مقابلہ میں کافر کا لفظ صرف پانچ بار قرآن میں آیا ہے اور اُس کی جمع الکفار ، الکافرون اور الکافرین کے الفاظ 150بار آئے ہیں ۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں قرآن کا تصور کیا ہے۔ قرآن کی نظر میں یہ زمین دارالانسان ہے ، نہ کہ دارالحرب (جنگ کا میدان)۔

Magazine :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion