الفاظ ،  الفاظ ،  الفاظ

’’سیکولر اور جمہوری قوتوں کو منظم کیجیے‘‘

’’خیر پسند اور شر بیزار انسانوں کو پکارئے‘‘

’’ووٹوں کی طاقت کو دباؤ کی سیاست کے لیے استعمال کیجیے‘‘

’’جلسوں اور کانفرنسوں کے ذریعہ اپنی آواز بلند کیجیے‘‘

’’اپنے حقوق کے لیے احتجاج اور مطالبات کی دھوم مچایئے‘‘

’’ظالمانہ حکومت کو متحدہ طاقت سے اکھاڑ پھینکیے‘‘

’’جمعہ کے روز مسجدوں اور مدرسوں میں یوم دعا منایئے‘‘

’’لوگوں کے دلوں کے دروازہ پر دستک دیجیے‘‘

ہر روز کاغذ کے لاکھوں ورق اس قسم کے الفاظ سے سیاہ ہو رہے ہیں۔ اور بے شمار لاؤڈ ا سپیکر ہر دن ان کو فضا میں بکھیر رہے ہیں۔ مگر ان کوششوں سے اتنا فائدہ بھی حاصل نہیں ہوتا جتنا قوم کی جیب سے ان پر خرچ کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب ا لفاظ کی پہلوانی ہے اور الفاظ کی پہلوانی کسی قوم کو حقیقت کی دنیا کا سورما نہیں بنا سکتی۔

 فرض نماز کا وقت ہو جائے اور مسجد سے آواز بلند ہو:حی علی الصلوٰۃ (آؤ نماز کی طرف) تو اس وقت عبادت الٰہی کا مقام مسجد ہوتا ہے۔ ہر شخص کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ مسجد میں آ کر اپنے عابد ہونے کا ثبوت دے۔ اس کے برعکس اگر ایک شخص ایسا کرے کہ عین اس وقت مسجد کے باہر میدان میں شامیانہ لگائے اور لاؤڈ اسپیکر پر’’فلسفہ عبادت‘‘ کے موضع پر لمبی تقریر شروع کر دے تو یہ اس کے عابد ہونے کا ثبوت نہ ہوگا بلکہ صرف ظالم ہونے کا ثبوت ہوگا۔ کیوں کہ اس وقت کسی کے لیے اپنے عابد ہونے کا ثبوت دینے کا مقام مسجد ہے، نہ کہ جلسہ گاہ میں عبادت کے عنوان پر شاندار تقریر۔

اس قسم کی غیر مطلوب عبادت آج لوگوں کے اندر بہت بڑے پیمانہ پر جاری ہے، دور کے ’’مظلومین‘‘ کے بارے میں تجویزیں اور بیانات چھپ رہے ہیں۔ حالاں کہ مظلوموں سے ہمدردی کا ثبوت دینے کا مقام سب سے پہلے آدمی کا اپنا پڑوس ہے۔ دوسروں کو انسانیت اور اخلاق کا سبق دینے کے لیے کانفرنسیں منعقد کی جا رہی ہیں۔ حالاں کہ انسانیت دوست اور بااخلاق حقیقتاً وہ ہے جو خود اپنے معاملات میں انسانی اور اخلاقی اصولوں کی پیروی کرے۔ ملت کو بچاؤ کا نعرہ ہر ایک لگا رہا ہے مگر فرد کو بچانے اور اس کے حقوق ادا کرنے کی فرصت کسی کو نہیں۔ آدمی اپنے خدا پرست ہونے کا ثبوت وہاں دینا چاہتا ہے جہاں اس کی خدا پرستی ایک شاندار چیز بن کر لوگوں سے خراج تحسین حاصل کرے، حالاں کہ اس کا خدا جہاں اس کی خداپرستی کا امتحان لینے کے لیے کھڑا ہوا ہے وہ مقامات وہ ہیں جہاں سب کچھ کر کے بھی آدمی کو کوئی عزت اور شہرت حاصل نہیں ہوتی۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion