جب بادشاہ بھی تنقید سن کر برہم نہیں ہوتے تھے
سلطان بایزید ایک ترک بادشاہ گزرا ہے ۔ اس کے زمانہ میں مولانا شمس الدین رومی حاکم عدالت تھے۔ ان کے یہاں ایک مقدمہ آیا جس میں خود سلطان بایزید گواہ تھا۔ جب مقدمہ پیش ہوا اور بادشاہ گواہی دینے کے لیے آیا تو مولانا شمس الدین نے کہا : سلطان بایزید کی شہادت معتبر نہیں ہے ، اس لیے ان کی شہادت قبول نہیں کی جاسکتی۔ بادشاہ کو غصہ آگیا۔ اس نے پوچھا اس کا سبب کیا ہے۔ مولانا شمس الدین رومی نے کہا کہ آپ نماز میں جماعت کے پابند نہیں ہیں اور جو شخص با جماعت نماز کی ادائیگی میں کو تاہ ہو اس کی گواہی معتبر نہیں۔ سلطان بایزید نے اپنی غلطی کا فوراً اعتراف کر لیا۔ بادشاہ وقت کی حیثیت سے سارا اقتدار اس کے پاس تھا اور وہ قاضی کے خلاف کارروائی کر سکتا تھا۔ مگر اس نے قاضی صاحب کی صاف گوئی پر خوشی کا اظہار کیا اور اس کے بعد پاپندی کے ساتھ نماز کے لیے مسجد میں حاضر ہونے لگا۔ سلطان نے ایک موقع پر کہا:مجھے فخر ہے کہ میری سلطنت میں ایسے ایمان دار اور انصاف پسند قاضی موجود ہیں جو بادشاہ کے آگے بھی حق کا اظہار کرنے سے نہیں رکتے۔
