ظہور آیات کا مقام

محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین تھے۔ آپ کے بعد پچھلے انبیاء کی نبوتیں عملی طور پر منسوخ ہوگئیں۔ اب صرف آپ کی نبوت خدا کی نظر میں مستند نبوت ہے اور صرف آپ کی پیروی سے کسی کو نجات مل سکتی ہے۔ پیغمبر اسلام کے ظہور کے ذریعہ اللہ نے یہ چاہا کہ وہ اپنے اس فیصلہ کا ایک حسی مظاہرہ یا علامتی نمونہ دکھائے۔ چنانچہ اس کے لیے معراج میں یہ کیا گیا کہ سابقہ انبیاء کو ایک مقام پر جمع کیا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل کی ہدایت پر ان کی امامت فرمائی اور تمام انبیاء نے آپ کی قیادت میں آپ کے پیچھے نماز ادا کی (وَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي جَمَاعَةٍ مِنَ الأَنْبِيَاءِ  ۔ ‌فَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَأَمَمْتُهُمْ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 172)۔

امامت انبیاء کا یہ واقعہ کعبہ(عرب) میں بھی ہو سکتا تھا۔ مگر اس کے لیے معراج ہوئی اور آپ کو بیت المقدس(فلسطین) لے جایا گیا۔ اس کی وجہ قرآن میں یہ بتائی گئی ہے— تاکہ ہم پیغمبر کو اپنی نشانیاں دکھائیں : لِنُرِيَهُ مِنْ آياتِنا (الاسراء 17:1)۔ بیت المقدس تاریخی طور پر وہ مقام بن چکا تھا جہاں امت یہود کے سلسلہ کی خدائی نشانیاں پچھلے ہزاروں سال سے ظاہر ہو رہی تھیں۔ اب معراج کے موقع پر خود نبی آخرالزماں کو خدائی نشانی دکھانے کے لیے وہاں لے جانا ظاہر کرتا ہے کہ کعبہ اور بیت المقدس دونوں کی وراثت اب آپ کی امت کو دے دی گئی۔ پھر جب بیت المقدس مسلمانوں کے حصہ میں آیا تو اس کی وہ دینی اور آیاتی حیثیت بھی انہیں کی طرف لوٹ آئے گی جو قدیم انبیا کے زمانہ میں انہیں حاصل تھی۔

بائبل سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل پر جب خدا کی رحمت ہوتی تو وہ فلسطین میں فارغ ا لبال اور ذی اقتدار بنا دیے جاتے۔ اور جب ان پر خدا کا عتاب ہوتا تو فلسطین ان سے چھن جاتا اور وہ سخت مصیبتوں کی زد میں آ جاتے۔ فلسطین بنی اسرائیل کے مرحوم یا معتوب ہونے کی علامت تھی۔ یہی معاملہ خدا کا اب مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ فلسطین مسلمانوں کے حق میں حکم خداوندی کی علامت ہے۔ اگر مسلمانوں کو فلسطین پر غلبہ حاصل ہو اور وہاں وہ امن کی زندگی بسر کر رہے ہوں تو سمجھنا چاہیے کہ خدا ان سے خوش ہے۔ اور اگر مسلمانوں کو فلسطین پر غلبہ حاصل نہ ہو تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ عتاب خداوندی کی زد میں آگئے ہیں (احبار، باب26، استثنا، باب28)۔

نبی آخر الزماں کے ظہور کے بعد بیت المقدس اور کعبہ دونوں کی وراثت آپ کی امت کو دی جا چکی ہے۔ اس اعتبار سے امت مسلمہ کے بارے میں مرحومیت یامعتوبیت کا اظہار کعبہ کی سطح پر بھی ہو سکتا تھا۔ مگر کعبہ دین محفوظ کا قبلہ اور اس کا قیامت تک کے لیے مرکز ہے، اس لیے اس کو تخریبی فتنوں سے بچانا بھی ضروری ہے۔ کعبہ محفوظ نہ رہے تو دین کی محفوظیت بھی خطرہ میں پڑجائے گی۔ اس بنا پر ضروری ہوا کہ امت مسلم کے بارے میں آیات رحمت یا آیات غیر رحمت کے ظہور کے لیے بیت المقدس کو بدستور اپنی سابقہ حیثیت پر باقی رکھا جائے۔

 فلسطین کے مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کو امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت سمجھنا خدا کی سنت سے بے خبری کا ثبوت ہے۔ یہ دراصل خدا کا وہ معاملہ ہے جو وہ حاملین کتاب کے ساتھ اس وقت کرتا ہے جب کہ وہ حامل کتاب ہونے کی ذمہ داری کو ادا نہ کر رہے ہوں۔ پہلے یہود کتاب الٰہی کے حامل تھے۔ اس لیے پچھلے زمانہ میں یہود کے ساتھ یہ معاملہ ہوتا رہا۔ اب مسلمان کتاب الٰہی کے حامل ہیں، اس لیے اب خدا کا وہ معاملہ فلسطین کے مسلمانوں کے ساتھ ہوگا جو پہلے فلسطین کے یہود کے ساتھ کیا جا رہا تھا۔

پھر یہ کام یہود سے کیوں لیا جا رہا ہے، اس کی خاص مصحلت ہے۔ یہود کا فلسطین میں جمع ہونا اور ان کے ذریعہ مسلمانوں کو ذلت کی سزا دینا بیک وقت دو مقاصد کا حامل ہے۔ ایک طرف ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہود کو ایک مقام پر جمع کر کے بالآخر انہیں کوئی سخت اجتماعی سزا دی جانے والی ہے۔ دوسری طرف ایک ’’مغضوب‘‘ قوم کے ذریعہ مسلمانوں کو سزا دینا اس شدت عتاب کو بتا رہا ہے جس کا مورد اس وقت مسلمان بن رہے ہیں اور اس وقت تک بنتے رہیں گے جب تک وہ دوبارہ اپنے آپ کو کتاب الٰہی کی بنیاد پر کھڑا نہ کریں۔

 آج تمام دنیا کے مسلمان فلسطینیوں کی حمایت پر متحد ہیں۔ شاید عالم اسلام کا دوسرا کوئی بھی ایسا مسئلہ نہیں جس پر ان کے درمیان اتنا زیادہ اتفاق پایا جاتا ہو۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ تمام دنیا کے مسلمانوں نے فلسطین کے مسئلہ کو اپنا مسئلہ بنا رکھا ہے۔ مسلمانوں کے تمام اصاغرو اکابر اس معاملہ میں یکساں طور پر امریکہ اور اسرائیل کی مذمت کر رہے ہیں اور مجاہدین فلسطین کے نام اپنے حمایتی الفاظ نشر کرنے میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانا چاہتے ہیں۔ اس طرح فلسطین کا مسئلہ، عملاً تمام دنیا کے مسلمانوں کا مسئلہ بن گیا ہے۔ فلسطینی مسلمانوں کی عزت تمام مسلمانوں کی عزت ہے اور فلسطینی مسلمانوں کی بے عزتی تمام مسلمانوں کی بے عزتی۔

 اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی عمومی حمایت کسی بھی درجہ میں فلسطینیوں کے مسئلہ کو حل کرنے میں کامیاب ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ فلسطینی مسئلہ دن بدن سخت سے سخت تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسئلہ کسی اور مقام پر پیدا ہوا ہے اور مسلمان اس کا حل کسی اور مقام پر تلاش کر رہے ہیں۔

 یہ مسئلہ امریکہ اور اسرائیل کی سطح پر نہیں ہے بلکہ خدا کی کتاب کی سطح پر ہے۔ اگر یہ امریکہ کا مسئلہ ہوتا تو ہم اس کو اسی طرح حل کر چکے ہوتے جس طرح ویت نام نے اس کو بہت پہلے حل کر لیا۔ خدا کی کتاب کے ساتھ غفلت اور بے انصافی نے یہ مسئلہ پیدا کیا ہے اور خدا کی کتاب کے ساتھ غفلت اور بے انصافی کو ختم کر کے ہی یہ مسئلہ دوبارہ ختم ہو سکتا ہے۔

 یہ واقعہ مزید اس بات کی علامت ہے کہ اس وقت مسلمانوں کے درمیان جو کچھ اسلام کے نام پر ہو رہا ہے وہی وہ چیز نہیں جو اللہ تعالیٰ کو ان سے مطلوب ہو یا جو کتاب الٰہی کی اقامت کے ہم معنی ہو۔ کیوں کہ موجودہ زمانہ میں اتنی بڑی بڑی اسلامی شخصیتیں پیدا ہوئی ہیں اور اتنے بڑے پیمانہ پر اسلامی کام ہو رہے ہیں کہ اگر یہی وہ چیز ہوتی جو خدا کو مطلوب ہو تو کبھی ممکن نہ تھا کہ مسلمان عتاب خدا وندی کی زد میں آئیں کیوں کہ یہ سب کام مقدار میں اتنے زیادہ ہیں کہ اگر وہ صحیح اور مطلوب ہوں تو ان پر نصرت خداوندی کا نزول ہونا چاہیے ، نہ کہ عتاب خداوندی کا۔

 یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے جس پر آج تمام دنیا کے مسلمانوں کو غور کرنا چاہیے۔ کیوں کہ خدا اگر انہیں رد کر دے تو پھر ان کے لیے نہ دنیا میں کوئی جگہ ہے اور نہ آخرت میں۔ غیر مطلوب سرگرمیاں، خواہ وہ ین کے نام پر کی جا رہی ہوں، کسی کو خدا کی نظر میں رحمت و نصرت کا مستحق نہیں بناتیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion