یہ خوش خیال مفکرین

ڈاکٹر محمد اقبال (1938-1877ء)ایک آفاقی شاعر تھے۔ نہ صرف چین و عرب بلکہ سارا جہان ان کا وطن تھا۔ ان کا سبق تھا:زمانہ باتونسازد توبازمانہ ستیز(زمانہ اگر تم سے موافقت نہ کرے تو اس سے لڑ کر زمانہ کو اپنے موافق بناؤ) انہوں نے مسلمانوں کو اس قسم کے نغمے دیے:

کافر کی یہ تعریف کہ آفاق میں گم ہے   مومن کی یہ تعریف کہ گم اس میں ہیں آفاق

مگر یہی اقبال تھے جنہوں نے1931 میں ملک کی تقسیم کا نظریہ پیش کیا۔ شاعری کی دنیا میں اقبال سارے آفاق کو اپنے اندر گم کیے ہوئے تھے۔ مگر عمل کی دنیا میں وہ پوری زمین تو درکنار ایک ملک کو بھی اپنے اندر گم کرنے کا حوصلہ نہ کر سکے ۔ وہ ملک کے کنارے ایک ایسا چھوٹا ٹکڑا حاصل کرنے پر قانع ہوگئے۔ جہاں مسلمان پہلے سے اپنی عددی اکثریت کی بنا پر غالب ہوں۔ وہ شخص جو شاعری کی سطح پر’’یزداں بکمند آور اے ہمت مردانہ‘‘ کا ترانہ گا رہا تھا وہ عمل کی سطح پر ملک کے اکثریتی فرقہ کو بھی اپنے اندر ضم کرنے کا منصوبہ بنا سکا۔ اس سے نجات کی صورت اس کی سمجھ میں صرف یہ آئی کہ بٹوارہ کر کے اپنے لیے علیٰحدگی کا ایک گوشہ تلاش کر لے— یہی موجودہ زمانہ کے اکثر مسلمان مفکرین اور مصلحین کا حال نظر آتا ہے۔ تقریر اور تحریر میں ان کی منزل چرخ نیلی فام سے بھی پرے ہوتی ہے۔ الفاظ کی دنیا میں آسمان کے ستارے بھی ان کی گرد راہ بن کر رہ جاتے ہیں۔ مگر عمل کی سطح پرآتے ہی ان کا حال ایسا ہو جاتا ہے جیسے ایک پھولا ہوا غبارہ تھا جو واقعات کی چٹان سے ٹکرا کر ختم ہوگیا۔

 مولانا محمد علی جوہر(1931-1878) عالمی اسلامی خلافت کے لیے اٹھے۔ ان کی شاندار اسلامی تقریروں سے ایک پورا براعظم گونج اٹھا۔ شعر کی فضاؤں میں وہ’’یہ بندہ دو عالم سے خفا تیرے لیے ہے‘‘ کی سطح پر پرواز کر رہے تھے۔ مگر ترکی کے مصطفی کمال پاشا نے 1921 میں خلافت کا ادارہ ختم کر دیا تو ان کی قیادت بے زمین ہو کر رہ گئی۔ اس کے بعد ان کے لیے کرنے کا کام اس کے سوا کچھ اور نہ رہا کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے مسلمان بھائیوں کو ایک مشترک وطن کی آزادی پر قربان کر دیں۔ جو شخص عالمی اسلامی خلافت پر جان دینے کے لیے اٹھا تھا اس نے ایک ایسی وطن آزادی پر جان دینا پسند کر لیا جو عملاً مسلم اقلیت کے اوپر غیر مسلم اکثریت کے غلبہ کے سوا اور کچھ نہ تھی۔ اسلامی خلافت کا مینار گاندھیائی خلافت کی بنیاد کی ایک اینٹ بن کر رہ گیا۔ مولانا ابو الکلام آزاد (1958-1888ء)نے اپنی زندگی کا آغاز الہلال اور البلاغ کی پرشور تحریروں اور مسلم اجتماعات میں اپنی عالی شان تقریروں سے کیا۔ اس وقت وہ قرآن سے کم کسی چیز پر راضی ہونے والے دکھائی نہ دیتے تھے۔ انہوں نے ’’پیغمبرانہ زبان‘‘ میں مسلمانوں کو یہ سبق دیا کہ وہ خدا کی کتاب لے کر اٹھیں اور خیر الامم کا تاج اپنے سر پر رکھ کر سارے عالم کے لیے آفتاب و ماہتاب بن جائیں۔ مگر قرآنی انقلاب کا پیغام دینے والا بالآخر ہندستانی قومیت کا پیغام دینے والا بن گیا۔ وہ شخص جس نے ’’حزب اللہ‘‘ کے قیام کو اپنا مقصد بتایا تھا وہ حزب الوطن کی سطح پر آ کر ٹھہر گیا۔1947 میں ان کی دعوت پر سارے ملک کے مسلمان لکھنؤ کنونشن میں جمع ہوگئے۔ مگر اس نازک تاریخی موڑ پر مولانا ابوالکلام آزاد کے پاس ہندستانی مسلمانوں کے لیے جو پیغام تھا وہ صرف یہ کہ— سارے مسلمان انڈین نیشنل کانگرس میں شامل ہو جائیں۔

مولانا ابو الاعلیٰ مودودی (1979-1903ء)کی مثال اور بھی زیادہ عبرت ناک ہے۔ انہوں نے اپنی تحریک کی بنیاد حاکمیت خدا پررکھی۔ انہوں نے کہا کہ زمین پر صرف خدا کے قانون کی حکمرانی قائم ہونی چاہیے۔ اس کے سوا جتنے قانون انسان نے بنائے ہیں وہ سب باطل ہیں۔ مسلمان کے لیے ایسی زندگی حرام ہے جب کہ وہ غیر خدائی قانون پر راضی ہو جائے۔ اس کو یا تو خدا کے قانون کو نافذ کرنا ہے یا اس کے نفاذ کے لیے لڑتے ہوئے مر جانا ہے:وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِما أَنْزَلَ اللهُ فَأُولئِكَ هُمُ الْكافِرُونَهُمُ الظَّالِمُونَهُمُ الْفاسِقُونَ (5:44-47)۔ یعنی، جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں، وہی ظالم ہیں، وہی فاسق ہیں۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کا کہنا تھا کہ غیر خدائی قانون کو بنانے والا قانون ساز، اس کے تحت فیصلہ کرنے والا جج، اس کو نافذ کرنے والی حکومت، سب کے سب فعل حرام کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ حتٰی کہ ایک شخص مسلمہ طور پر مجرم ہو اور اس کو انسانی قانون کے تحت سزا دی جائے تب بھی وہ جرم کی سزا نہیں ہوتی بلکہ خود ایک جرم ہوتا ہے کیوں کہ خدا کی زمین پر کسی کو یہ طے کرنے کا حق نہیں کہ کسی جرم پر کسی کو کیا سزا دی جائے نہ کسی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ بطور خود کسی سزا کو نافذ کرے۔ گویا کہ وہ شخص جو انسانی قانون کے تحت ایک قاتل کو قتل کرتا ہے وہ خود بھی ایک قاتل ہے کیوں کہ اس نے خدا کی زمین پر خدا کی اجازت کے بغیر خدا کی پیدا کی ہوئی ایک جان کو ہلاک کیا۔

 مولانا ابوالاعلی مودودی ساری عمر قانون اسلامی کے نفاذ کا مطالبہ کرتے رہے۔ عمر کے آخری حصہ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ 5 جولائی1977ء کو پاکستان میں فوجی انقلاب آیا اور جنرل محمد ضیاء الحق کی سربراہی میں ایسی حکومت قائم ہوگئی جس کو نہ صرف مولانا مودودی کی مکمل تائید حاصل تھی بلکہ ان کی اپنی جماعت کے کئی افراد اس میں ذمہ دارانہ مناصب پر فائز تھے۔ اس حکومت کے تحت مسٹر ذوالفقار علی بھٹو پر مقدمہ چلایا گیا جو خود مولانا مودودی اور ان کی جماعت کے مطالبہ ’’پہلے احتساب پھر انتخاب‘‘ کے مطابق تھا۔ ان کے لیے پورا موقع تھا کہ وہ پاکستان کے سابق وزیراعظم کو شرعی قانون کی عدالت میں کھڑا کریں اور اسلامی احکام کے مطابق ان پر باقاعدہ مقدمہ چلائیں۔ اگر وہ ایسا کرتے تو وہ ساری دنیا کے سامنے اسلام کی وہ ’’عملی شہادت‘‘ پیش کر دیتے جس کے وہ زندگی بھر مبلغ رہے تھے اور جس کے بغیر ان کے نزدیک دعوت اسلامی کا کام مکمل نہیں ہوتا— مگر مولانا ابو الاعلیٰ مودودی اور ان کی پوری جماعت کی مکمل تائید و حمایت سے مسٹر ذوالفقار علی بھٹو کا مقدمہ انسان کے بنائے ہوئے قانون کے تحت چلایا گیا۔ پاکستان میں اس وقت تین قسم کی عدالتیں ہیں۔ ایک فوجی عدالت، دوسرے شرعی عدالت، تیسرے برطانوی قانون کے تحت قائم شدہ عدالت جو تقسیم کے پہلے سے چلی آرہی ہے۔ وہ مسٹر بھٹو کے مقدمہ کو شرعی عدالت میں جاری کرا سکتے تھے۔ بالفرض اگر شرعی عدالتوں کے اختیارات محدود ہوں تو صدارتی فرمان کے ذریعہ اس کے اختیار کو وسیع بنا کر اور حسب ضرورت قاضیوں کا تقرر کر کے یہ کام عمل میں آ سکتا تھا۔ مگر یہ سب کچھ نہیں کیا گیا۔ حتٰی کہ مولانا مودودی یا ان کی جماعت کے کسی شخص نے اس کا مطالبہ تک نہیں کیا۔ مسٹر بھٹو کا مقدمہ، شرعی عدالت کو چھوڑ کر، اس عدالت کے زیر سماعت لایا گیا جو برطانوی قانون پر مبنی چلی آ رہی ہے۔ مسٹر بھٹو پر قتل کا الزام تھا جس کے لیے واضح قوانین اسلامی شریعت میں موجود ہیں۔ مگر ان کا مقدمہ جانتے بوجھتے برطانی قانونی تعزیرات کے تحت چلایا گیا ، نہ کہ اسلامی قانونی تعزیرات کے تحت۔

 پاکستان کا یہ مشہور ترین مقدمہ مولانا مودودی کی مکمل تائید و حمایت کے تحت چلتا رہا۔ یہاں تک کہ4 اپریل1979 کو مسٹر بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ جب کہ مولانا مودودی زندہ سلامت موجود تھے۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے نظریہ کے مطابق یہ ساری کارروائی: يَتَحاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ (4:60) — یعنی، اپنے معاملات کا فیصلہ کرانے کے لیے اس حاکم کے پاس جانا جو قانون الٰہی کے سوا کسی دوسرے قانون کے مطابق فیصلہ کرتا ہو — کی مصداق تھی۔ وہ مکمل طور پر غیر اسلامی تھی۔ کیوں کہ وہ انسان کے بنائے ہوئے قانون کے تحت عمل میں لائی گئی۔ مگر مولانا مودودی نے نہ صرف یہ کہ اس کے خلاف احتجاج نہیں کیا بلکہ اس کی پوری تائید کرتے رہے۔ وہ شخص جس نے اس عنوان سے شہرت پائی کہ وہ اس اصول کا سب سے بڑا مبلغ ہے کہ خدا کے نازل کردہ قانون کے سوا کسی اور قانون پر فیصلہ کرنا کفر اور ظلم اور فسق ہے، یہ طاغوتی عدالت کے پاس اپنے معاملات کے فیصلہ کے لیے جانا ہے جو سراسر ایمان کے منافی ہے۔ جو اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس اصول پر سمجھوتہ کرنے کے لیے کسی طرح راضی نہ تھا۔ اس نے خود اپنے اختیار سے اس اصول کو دفن کر دیا۔ اس نے اپنی پوری تائید اور اہتمام کے ساتھ غیر خدا کے بنائے ہوئے قانون کے تحت ایک مشہور ترین’’مجرم‘‘ پر مقدمہ چلوایا اور اسی غیر خدائی قانون کے مطابق اس شخص کو پھانسی کے تختہ پر چڑھا دیا گیا۔ وہ شخص جو ساری عمر خدائی قانون کے نفاذ کی تحریک چلاتا رہا، پہلا موقع ملتے ہی اس نے اپنے عمل سے یہ گواہی دی کہ ملک کے لیے یا کم ازکم اس کے اپنے مقصد کے لیے سب سے زیادہ کارآمد قانون وہ ہے جو انسان کا بنایا ہوا ہے— موجودہ زمانہ میں ہمارے قائدین نے بڑی بڑی اسلامی تحریکیں اٹھائیں۔ مگر وہ اپنی تحریر کی آپ تردید کرتے رہے۔ پھر جو لوگ اپنی تردید آپ کریں وہ اپنے باہر کس طرح اس کو نتیجہ خیز بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

 موجودہ زمانہ کی اسلامی تحریکوں کی ایک انوکھی خصوصیت ہے۔ وہ شان دار کامیابی حاصل کرنے کے باوجود مکمل طور پر ناکام ہو جاتی ہیں۔ پاکستان میں اسلام پسند مفکرین کا کہنا تھا کہ ملک کے 99 فیصد لوگ اسلامی نظام چاہتے ہیں۔ صرف بھٹو جیسے چند لوگ ہیں جو اسلامی نظام کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اگر ان تھوڑے سے لوگوں کو میدان سے ہٹا دیا جائے اور اس کے بعد عوامی انتخاب ہو تو سارے لوگ اسلام کو ووٹ دیں گے اور اسلامی نظام کے سوا کوئی دوسری چیز قائم نہ ہو سکے گی۔ بے شمار ناقابل بیان قربانیوں کے بعد’’بھٹوؤں‘‘ کو ختم کر دیا گیا۔ اس کے بعد اسلامی مفکرین کے پسندیدہ حکمراں جنرل محمد ضیاء الحق نے اعلان کیا کہ وہ 18 اکتوبر1977 کو پاکستان میں عام الیکشن کرائیں گے پھر اس کو ملتوی کر کے 17 نومبر1979 کی تاریخ الیکشن کے لیے مقرر کی گئی جو دوبارہ منسوخ کر دی گئی۔ دونوں بار جنرل محمد ضیاء الحق نے اعلان کیا کہ چونکہ ’’مثبت نتائج‘‘ کی امید نہیں اس لیے الیکشن ملتوی کیے جاتے ہیں۔’’بھٹوؤں‘‘ کے خاتمہ پر پاکستان کے اسلام پسند عام الفتح(1977ء) منا چکے تھے۔ مگر جب انتخاب کا وقت آیا تو معلوم ہوا کہ عوامی رائے کے ذریعے ان کے لیے اقتدار پر پہنچنا ممکن نہیں۔ ابتدائی اندازہ کرنے کے لیے ملک میں بلدیاتی الیکشن (ستمبر1979ء) کرایا گیا۔ مگر ہر قسم کی پابندیوں کے باوجود’’بھٹو پارٹی‘‘ نے80 فیصد نشستوں پر قبضہ حاصل کر لیا۔ اس کے بعد عام انتخابات کا منصوبہ مستقل طور پر ختم کر دیا گیا۔ شاندار فتح حاصل کرنے کے باوجود صرف شاندار ناکامی اسلام پسندوں کے حصہ میں آ سکی۔ اب پاکستان میں جو ’’اسلام پسند‘‘ حکومت قائم ہے وہ صرف جبر کے زور پر قائم ہے، نہ کہ عوامی تائید کے زورپر۔

اب ایران کی مثال لیجیے۔ شاہ محمد رضا پہلوی نے جب جنوری1979ء میں بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ ملک کو چھوڑا اور فروری1979 ء میں آیت اللہ روح اللہ خیمنی فاتحانہ انداز سے تہران کے ہوائی اڈہ پر اترے تو اسلام پسندوں نے اس کو ایسا انقلاب قرار دیا جس کی کوئی دوسری مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ مگر بے مثال کامیابی حاصل کرنے کے باوجود ایران کو نئے انقلاب نے جو کچھ دیا وہ صرف وحشت و بربریت تھی۔ ایران کے عوام کو اسلام کی برکتوں کا کوئی تجربہ نہ ہو سکا۔ اٹلی کی ایک صحافی خاتون اور یانافلاسی(oriana Fallaci) نے اسلامی انقلاب کے بعد ایران کا دورہ کیا اور ایران کے مطلق حکمراں آیات اللہ روح اللہ خمینی کا انٹرویو لیا۔ خاتون نے موصوف سے پوچھا’’ میں نے ایران کے دورہ میں دیکھا کہ یہاں اسلامی انقلاب کے نتائج سے لوگ بہت غیر مطمئن ہیں۔ ہر طرف انتشار اور بدنظمی پھیلی ہوئی ہے۔ آپ کے اسلامی انقلاب کا وہ پھل لوگوں کو نہیں ملا جس کا ان سے انقلاب سے پہلے وعدہ کیا گیا تھا۔ حتٰی کہ یہاں کچھ لوگ ہیں جو اندیشہ کر رہے ہیں کہ ایران کے لیے بہت مشکل ایام آنے والے ہیں۔ آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے‘‘ آیات اللہ خمینی جن کی عمر80 سال ہو چکی تھی۔ اس کے جواب میں کہا: ہم اس بچہ کی طرح ہیں جس کی عمر ابھی صرف چھ ماہ ہے۔ ہمارے اسلامی انقلاب کی عمر صرف چھ مہینے ہے۔ ہم اپنے سفر کے آغاز میں ہیں۔ آپ ایسے بچہ سے کیا امید کر سکتی ہیں جس کی عمر ابھی صرف چھ مہینے ہو(ٹائمس آف انڈیا18 نومبر1979)۔

ایران کے اسلامی لیڈر کا یہ جواب صرف اس بات کا اقرار ہے کہ ان کا انقلاب شاندار کامیابی کے باوجود صرف شاندار ناکامی تک پہنچا ہے۔ کیوں کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ تحریک’’بچہ‘‘ ہوتی ہے، انقلاب کبھی’’بچہ‘‘ نہیں ہوتا۔ انقلاب تو کسی تحریک کے مکمل عمر کو پہنچنے کا نام ہے۔ پھر وہ بچہ کیسے ہو سکتا ہے۔ وہ انقلاب جو انقلاب کے مرحلہ میں پہنچ کر بچہ ہو وہ انقلاب ہی نہیں۔ وہ صرف ایک ہڑبونگ ہے جس کو غلطی سے انقلاب کا نام دے دیا گیا ہے — یہی وجہ ہے کہ الٰہی خلافت کے نام پر اٹھنے والے جب اقتدار پاتے ہیں تو فوراً انسانی آمریت قائم کر دیتے ہیں۔ کیوں کہ ملک کے مایوس اور ناراض عوام کے درمیان اپنی زندگی کی کوئی صورت انہیں آمریت کے سوا نظر نہیں آتی۔’’اسلامی نظام‘‘ قائم کرنے کے دعوے دار بالآخر ’’غیر اسلامی نظام‘‘ قائم کر کے اس کے سایہ میں بیٹھ جاتے ہیں۔

موجودہ زمانہ کے انتہائی بڑے بڑے اسلامی مفکرین و مصلحین کا یہ عبرت ناک انجام کیوں ہوا۔ اس کے اسباب کو مختلف طریقوں سے بیان کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ایک مشترک سبب یہ ہے کہ یہ تمام مفکرین دراصل روحانی مفکرین تھے ، نہ کہ حقیقت پسند مفکرین، اور رومانی دنیا میں جو خیالی محل بنایا گیا ہو و ہ حقیقت کی دنیا میں کوئی واقعی نتیجہ پیدا نہیں کر سکتا۔ رومانویت (Romanticism) جو اٹھارویں صدی سے لے کر جنگ عظیم اول تک ایک خاص صورت میں یورپ میں پائی جاتی تھی، وہی انیسویں اور بیسویں صدی کے مسلم مفکرین پر اپنے حالات کے لحاظ سے چھائی رہی ہے۔ ہر قوم جس کا ایک شاندار ماضی ہو اور پھر وہ زوال کا شکار ہو جائے، اس کے بعد جب اس کے درمیان حیاء نو کی تحریک اٹھتی ہے تو اس میں خوش خیال مفکرین کثرت سے جنم لیتے ہیں۔ وہ اپنے تصوراتی ماضی کے زیر اثر اپنے مستقبل کے بارے میں حسین خواب دیکھتے ہیں جو ہمیشہ مبالغہ آمیز حد تک خیالی ہوتا ہے۔ حقیقی دنیا میں کوئی واقعہ پیدا کرنے کے لیے لمبا وقت اور خشک عمل درکار ہوتا ہے۔ جب کہ خیالی دنیا میں شان دار قلعہ کھڑا کرنے کے لیے الفاظ بول دینے کے سوا کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔ اس لیے ماضی اور مستقبل کے درمیانی فاصلہ کو طے کرنے کے لیے الفاظ کے بڑے بڑے پل بننے شروع ہو جاتے ہیں۔ ایسے دور میں حقیقت پسندانہ بات کرنے والے کی کوئی قدر نہیں ہوتی۔ البتہ آنے والے مستقبل کا جو شخص جتنا زیادہ مبالغہ آمیز نقشہ دکھائے ا تنا ہی زیادہ وہ عوام میں مقبول ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ شعوری یا غیر شعوری طور پر تمام مفکرین خوش خیالیوں کا محل کھڑا کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ اور جس کا فرضی محل جتنا زیادہ شاندار ہو اتنی ہی زیادہ بھیڑاس کے گرد جمع ہو جاتی ہے۔ اس قسم کی بھیڑ تخریبی نوعیت کا کوئی’’انقلاب‘‘ برپا کرنے میں ممکن ہے کامیاب ہو جائے۔ مگر وہ تعمیری نوعیت کا انقلاب لانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوتی۔ کیوں کہ تخریبی انقلاب کے لیے تو کسی ’’بھٹو‘‘ یا کسی ’’شاہ رضا‘‘ کا گلا گھونٹ دینا کافی ہے۔ مگر تعمیری انقلاب کے لیے’’مارنا‘‘ نہیں بلکہ’’زندہ کرنا‘‘ پڑتا ہے۔ اس کے لیے ہوش درکار ہے، نہ کہ جوش۔ اس کے لیے حقیقت پسندی درکار ہے، نہ کہ خوش خیالی۔ تعمیری انقلاب کے لیے لمبی خاموش جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے، اس کے لیے مثبت عوامل درکار ہوتے ہیں۔ اس کا تقاضا ہوتا ہے کہ اس کے مطابق حقائق و واقعات کی زمین فراہم کی جائے۔ مگر یہ وہ چیزیں ہیں جو خوش خیال مفکرین کے یہاں سرے سے موجود نہیں ہوتیں۔ ا ن کا سرمایہ ہوتا ہے— غلو، لفاظی، خیال آرائی، شاعرانہ بلند پروازی۔ اور ظاہر ہے کہ حقیقت کی دنیا میں ان چیزوں کی کوئی قیمت نہیں۔ ان کا خیالی محل اپنے لیے حقیقی زمین نہ پا کر اچانک منہدم ہو جاتا ہے۔

اوپر کی گفتگو کا یہ مطلب نہیں کہ موجودہ زمانہ کے ان اسلامی مفکرین و مصلحین نے کوئی مفید کام نہیں کیا۔ ہر تحریک میں کچھ نہ کچھ مفید پہلو ہوتے ہیں اور ان کی تحریکوں کے دوران بھی بلاشبہ کئی مفید کام انجام پائے۔ مگر یہ تحریکی مجموعی طور پر:وَإِثْمُهُما أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِما (2:219)۔ یعنی، ان کا نقصان ان کے نفع سے زیادہ ہے، کا مصدق تھیں۔ اور سب سے بڑا نقصان جو ان تحریکوں کے ذریعہ امت مسلمہ کو پہنچا وہ ذہنی بگاڑ تھا۔ یہ براہ راست طور پر انہیں تحریکوں کا نتیجہ ہے کہ مسلمان موجودہ زمانہ میں دنیا کی تمام قوموں سے زیادہ جذباتی اور غیر حقیقت پسند ہو کر رہ گئے ہیں۔ کوئی تحریک جو انسانی معاشرہ میں اٹھے، ضروری نہیں کہ وہ اپنے مقررہ عملی نشانہ تک پہنچنے میں کامیاب ہو۔ تاہم عملی نتیجہ نہ پیدا کر کے بھی وہ ایک نتیجہ لازماً پیدا کرتی ہے، اور وہ فکری نتیجہ ہے۔ ہر تحریک کم ازکم اپنے متاثر ہونے والوں میں ، سوچنے کا ایک ڈھنگ، رائے قائم کرنے کا ایک طریقہ، معاملات کے بارے میں فیصلہ کا ایک ذہن دیتی ہے۔ اس لیے کسی تحریک کی قدر و قیمت کو اس اعتبار سے متعین نہیں کیا جا سکتا کہ وہ عملی طور پر اپنی مقررہ منزل تک پہنچی یا نہیں۔ بلکہ کسی تحریک کی قدر و قیمت کو جانچنے کا اصلی معیار یہ ہے کہ اس نے جن افراد کو متاثر کیا ان کے اندر اس نے کس قسم کا فکری مزاج پیدا کیا۔ اس اعتبار سے موجودہ زمانہ کی اسلامی تحریک کو دیکھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے قوم کے مزاج کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔

موجودہ زمانہ میں ہمارے مفکرین و مصلحین کا ایک طبقہ وہ ہے جس کا تمام تر سرمایہ بڑے بڑے الفاظ تھے۔ اس نے شاعرانہ ترنگوں، جوشیلی تقریروں اور خطیبانہ تحریروں کے ذریعہ اپنی تحریکیں چلائیں۔ الفاظ کے زور پر واقعات برآمد نہیں ہو سکتے تھے۔ چنانچہ ان تحریکوں نے قوم کے افراد کو صرف جذباتی بنانے میں مدد دی۔ لوگ الفاظ کو واقعہ کا بدل سمجھنے لگے۔ حقیقت پسندانہ طرز فکران سے رخصت ہوگیا۔ خیال آرائیوں سے وہ اس نتیجہ کی امید کرنے لگے جو اس دنیا میں صرف حقیقی عمل کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ دوسری طرف وہ مفکرین تھے جو خود بھی غلو کا شکار ہوئے اور اپنے افکار سے دوسرے بہت سے لوگوں کو غلو کا شکار کیا۔ وہ سیاسی کارروائیوں کے ذریعہ ملت کا مستقبل برآمد کرنا چاہتے تھے۔ مگر ان کی غلو پسندی صرف سیاسی عمل پر قانع نہ ہوئی ۔ انہوں نے اپنے سیاسی عمل کو جائز ثابت کرنے کے لیے پوراسیاسی فلسفہ بنایا، حتٰی کہ خود قرآن و اسلام کو سیاسی بنا ڈالا۔ جو لوگ اس فکر سے متاثر ہوئے ان کے لیے خدا کا دین ایک قسم کا سیاسی نظریہ بن کر رہ گیا۔ وہ بطور خود یہ سمجھتے رہے کہ انہوں نے مکمل اسلام کو پالیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے جس اسلام کو پایا اس میں سب کچھ تھا مگر وہی چیز نہ تھی جو اسلام کا اصل مقصود ہے— تعلق باللہ اور خوف آخرت۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion