شاعر کا اعتراف
طرماح بن حکیم (وفات 100 ھ) اور کمیت بن زید اسدی (وفات 126ھ)دونوں ہم عصر تھے۔ دونوں کا نسب ، وطن اور مذہب بالکل الگ الگ تھا ۔ طرماح قحطانی ، شامی اور خارجی تھا۔ اس کے بر عکس کمیت، عدنانی، کوئی اور شیعہ تھا۔ جیسا کہ معلوم ہے، خارجی، حضرت علی کے دشمن تھے۔ خوارج کے چھ بڑے فرقے ہوئے ہیں:از ارقہ ، نجدات ، صفریہ ، عجارده ، اباضیہ، ثعالبہ ۔ یہ سب حضرت عثمان و حضرت علی سے برأت و بیزاری میں متفق ہیں اور اپنے اس عقیدے کو تمام عبادتوں سے افضل سمجھتے ہیں۔ طرماح کا تعلق فرقہ از ارقہ سے تھا جو اتنا متشدد تھا کہ حضرت علی کو نعوذ باللہ کافر کہتا تھا اور آپ کے قاتل ابن ملجم کو بر سر حق سمجھتا تھا۔ دوسری طرف کمیت شیعہ ہونے کی وجہ سے حضرت علی کی تعریف میں اتنا غلو کرتا تھا کہ آپ کو بشریت سے بلند مانتا تھا۔
اس شدید نظریاتی اختلاف کے باوجود دونوں ایک دوسرے کے گہرے دوست تھے۔ کمیت کہتا تھا ’’ہم دونوں عوام سے بغض رکھنے میں متفق ہیں‘‘ ایک بار دونوں شاعر ، مخلد بن یزید مہلبی کے یہاں گئے۔ اس نے دونوں کو عزت سے بیٹھایا اور شعر سنانے کے لیے کہا۔ طرماح نے کہا:ہر گز نہیں شاعری کی عزت یہ نہیں کہ میں کھڑا ہو جاؤں اور وہ مجھے ذلیل کرے’’ مخلد غصہ ہو گیا۔ اس نے کہا:تم کمیت کے لیے جگہ خالی کر دو‘‘ اب کمیت آگے بڑھا اور کھڑے ہو کر اشعار سنانے شروع کیے ۔ مخلد بہت خوش ہوا۔ اور اس کو پچاس ہزار درہم انعام دیے ۔ جب دونوں باہر نکلے تو کمیت نے آدھے درہم طرماح کو دیدئے۔ اس نے کہا:’’اے ابو ضبیہ ، تم خوددار ہو اور میں موقع پسند ہوں۔ اور وقت کے مطابق کام کرتا ہوں‘‘۔
