کیسی عجیب غفلت

مولانا عبید اللہ سندھی (1944-1872ء) ایک نو مسلم تھے۔ وہ پنجاب کے ایک سکھ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ بچپن سے غیر معمولی ذہین تھے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے اپنا نام’’عبید اللہ‘‘ اس لیے رکھا کہ وہ اس سلسلہ میں سب سے پہلے جس کتاب سے متاثر ہوئے وہ’’تحفۃ الہند‘‘ تھی جس کے مصنف کا نام ’’عبید اللہ‘‘ ہے۔

 اس کتاب میں اسلام کا تقابل دوسرے مذاہب سے کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ کتاب پڑھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سکھ مذہب اور ہندو دھرم سے غیر مطمئن ہوگئے۔ اس کتاب نے ان کے اندر اسلام کی طرف ابتدائی رحجان پیدا کر دیا۔ تاہم ابھی وہ قطعی فیصلہ نہیں کر سکے تھے۔ بعد کو انہوں نے بتایا کہ’’ میں سوچتا تھا کہ اسلام بت پرستی کے خلاف ہے۔ مگر مسلمان اپنے بزرگوں کی قبروں کے ساتھ جو کچھ کرتے ہیں وہ بھی تو ایک طرح کی بت پرستی ہے‘‘۔ یہ سوال ان کے لیے اسلام قبول کرنے کے راستے میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔

 اپنے دل کی یہ کھٹک انہوں نے کچھ مسلمانوں سے بیان کی۔ چنانچہ ایک مسلمان نے انہیں شاہ محمد اسماعیل شہید کی کتاب’’تقویۃ الایمان‘‘ دی اور اس کو پڑھنے کا مشورہ دیا۔ اس کتاب کا موضوع شرک کی مختلف صورتوں کی تردید اور توحید کا اثبات ہے۔ انہوں نے جب اس کتاب کو پڑھا تو ان کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ اسلام توحید خالص کا دین ہے۔ انہوں نے جانا کہ مسلمانوں کی قبرپرستی مسلمانوں کے اپنے بگاڑ کا نتیجہ ہے۔ ورنہ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے وہ قبرپرستی کا بھی ویسا ہی مخالف ہے جیسا وہ بت پرستی کا مخالف ہے۔

ان دو کتابوں کے مطالعہ کے بعد ان کا نظریاتی سفر بڑی حد تک پورا ہو چکا تھا۔ تاہم آبائی مذہب کو چھوڑ کر نئے مذہب کی طرف بڑھنے کے لیے جس طاقت ور محرک کی ضرورت ہے وہ ابھی ان کے اندر پیدا نہیں ہوا تھا۔ یہ کام ایک اور کتاب کے مطالعہ سے انجام پاگیا۔ یہ ’’احوا ل آخرت ‘‘ تھی۔ اس کتاب میں قیامت کی ہولناکی اور جنت و دوزخ کی باتیں درج ہیں۔ پچھلی کتابوں کے مطالعہ سے اگر ان کا دماغ ہلا تھا تو آخری کتاب کے مطالعہ سے ان کا دل ہل گیا اور انہوں نے اپنے آبائی مذہب کو چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا۔

یہ تینوں کتابیں جن کا ذکر ہوا وہ اردو کتابیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ کہ50 سال یا100 سال پہلے کے ہندستان میں یہ ممکن تھا کہ اردو زبان کو غیر مسلموں میں اسلام کی تبلیغ کا ذریعہ بنایا جا سکے ۔ کیسا عجیب اور کیسا قیمتی امکان تھا جس کو ہمارے تمام اصا غرواکابر نے بے فائدہ سیاست کی ہنگامہ آرائیوں میں کھو دیا۔ قانون قدرت کے مطابق اس کی سزا ہمیں یہ ملی ہے کہ اب غیر مسلموں میں دین پہنچانے کے لیے ہمیں کئی اجنبی زبانوں میں اسلامی لٹریچر فراہم کرنا ضروری ہوگیا ہے اور اردو زبان کا یہ حال ہوا ہے کہ غیر مسلم تو درکنار اب خود مسلم نسلوں تک بھی اس کے ذریعہ دین کا پیغام پہنچانا ممکن نہیں۔ جو کام پہلے صرف ایک زبان کے ذریعہ ہو سکتا تھا اس کے لیے اب ہم کو کئی زبانوں کی ضرورت ہے۔

آزادی کے بعد ہندستان کے مسلمانوں کی جدوجہد کا کم ازکم ایک نمایاں عنوان اردو رہا ہے۔ اردو کے خاتمہ کا مرثیہ پڑھنا ہمارے تمام لیڈروں کا محبوب ترین مشغلہ ہے۔ مگر کوئی یہ نہیں سوچتا کہ جب آزادی ہند سے پہلے ملک کی سب سے زیادہ عام زبان اردو تھی تو آزادی ہند کے بعد وہ یہاں اجنبی کیسے بن گئی۔

زبان ان چیزوں میں سے ہے جس کا تسلسل اگر تاریخ میں ایک بار قائم ہو جائے تو اس کو توڑنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ تسلسل قائم ہونے کے بعد وہ خود اپنے زور پر قائم رہتی ہے۔ اس کے بعد کوئی بہت بڑا اجتماعی بھونچال ہی اس کو توڑ سکتا ہے۔ ورنہ عام حالات میں اس کا تسلسل تاریخ میں جاری رہے گا۔ وہ ختم نہیں ہو سکتا۔

 ہندستان میں اردو کے خاتمہ کے واحد ذمہ دار خود مسلمان ہیں۔ مسلمانوں نے اس ملک میں دو قومی سیاست چلائی اور اس کو اس اجتماعی بھونچال تک لے گئے جس کا دوسرا نام تقسیم ہے۔ تقسیم ملک کا بھونچال ہی دراصل وہ واقعہ ہے جس نے اردو کے تسلسل کو ہندستان میں ختم کر دیا۔ اگر مسلمانوں کی احمقانہ سیاست سے یہ بھونچال پیش نہ آتا تو ناممکن تھا کہ اس ملک میں اردو کا اس طرح خاتمہ ہو جائے جو آج ہمیں اپنی آنکھوں سے نظر آتا ہے۔

 اس کی ایک مثال ہندستان کی فلمی صنعت ہے۔ ہندستانی فلموں کی دنیا میں اردو زبان آج بھی زندہ ہے جب کہ ملک کے بقیہ حصہ میں وہ موت سے دو چار ہو رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ’’فلم‘‘ کی حیثیت ہر ملک میں اور اسی طرح ہندستان میں بھی، ایک جزیرہ کی ہے۔ فلم کی دنیا عام طور پر سیاسیات اور قومی ہنگاموں سے الگ الگ زندہ رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندستانی فلموں کے جزیرہ میں اردو آج بھی، پہلے کی طرح، زندہ ہے۔ جب کہ بقیہ ملک میں وہ اپنی سابقہ حیثیت کھو چکی ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion