مسلمان:کل اور آج
آج کل کسی بڑے قومی ادارہ کا ذکر ہو تو مشکل ہی سے اس کے ذیل میں کسی مسلمان کا نام آتا ہے۔ مگر آزادی سے قبل صورت حال بالکل مختلف تھی۔ اس وقت قومی اداروں کے ساتھ مسلمانوں کے نام اتنی کثرت سے وابستہ تھے کہ کسی ادارہ کے تذکرہ کے ذیل میں کچھ نہ کچھ مسلمانوں کا تذکرہ آ جانا ضروری تھا۔ مسٹر ڈی۔ ڈی لکھن پال (سابق صدر ریڈیو مینوفیکچررس ایسوسی ایشن آف انڈیا) پچھلے دور میں لمبی مدت تک آل انڈیا ریڈیو سے متعلق رہے ہیں۔ انہوں نے قومی نشریاتی ادارہ سے متعلق اپنی یادداشت شائع کی ہے (ٹائمس آف انڈیا3 جولائی 1975ء)۔ اس مضمون میں آل انڈیا ریڈیو کے سابقہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے جن شخصیتوں کے نام آئے ہیں ان کی تعداد کل آٹھ ہے جن میں سے چار مسلمان ہیں:
سرابراہیم رحمت اللہ، وائی اے فضل بھائی، حاجی حسن علی، سراکبر حیدری
اسی طرح سوتنتر لیڈر مسٹر مینو مسانی (پیدائش1905) سے ایک اخبار نویس نے پوچھا: آپ اپنی زندگی میں سب سے زیادہ کس سے متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا: یوسف مہر علی نے میری زندگی کو نئے افکار سے دو چار کیا، میرا کردار بدلا اور میری قوت فکر کو جلا دی۔ وہ میرے کالج کے ساتھی تھے اور میں اپنی زندگی میں سب سے زیادہ انہیں سے متاثر ہوا ہوں (شبستان)۔
انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول میں کثرت سے اس قسم کی مثالیں ملتی ہیں۔ بوڑھے غیر مسلموں میں کتنے ہی ایسے ملیں گے جو اپنی زندگی کی سب سے زیادہ قابل ذکر شخصیت کی حیثیت سے کسی مسلمان کا نام لیں گے۔ مگر اب یہ صورت حال بدل چکی ہے۔ اب اس ملک کے مسلمان زندگی کی سرگرمیوں میں قائدانہ مقام سے ہٹ کر پیچھے کی صفوں میں جا چکے ہیں۔
اس فرق کی وجہ کوئی ظلم یا تعصب نہیں ہے۔ اس کی وجہ تمام تر اقتصادی ہے۔ قدیم ہندوستان کی اقتصادی بنیاد زراعت پر قائم تھی۔ اس زمانہ میں مسلمانوں کے قبضہ میں بڑی بڑی زمینداریاں تھیں۔ یہ صورت حال ان کو نہ صرف حوصلہ اور اعتماد دیتی تھی بلکہ وہ مالی قیمت بھی ادا کرتی تھی جو کسی شعبہ میں آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہے۔ قدیم زمین دار خاندانوں ہی سے عام طور پر وہ لوگ نکلتے تھے جو علم و عمل کے مختلف شعبوں میں ترقی کرتے تھے۔ آزادی کے بعد اقتصادیات کی بنیاد زمین کے بجائے صنعت و تجارت ہوگئی۔ مسلمان نئے اقتصادی نظام میں اپنی جگہ نہ بنا سکے اس لیے وہ زندگی کے تمام شعبوں میں بھی پیچھے رہ گئے۔
گزرے ہوئے’’کل‘‘ کو واپس لانے کے لیے احتجاج اور مطالبات کی مہم چلانا اپنی محرومی کی مدت کو مزید لمبا کرنا ہے۔ ہمارے لیے کرنے کا واحد کام یہ ہے کہ محنت اور لیاقت کے ذریعہ اقتصادیات کی زمین کو دوبارہ حاصل کریں۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ آج کی دنیا میں ہم کو اپنا کھویا ہوا مقام حاصل ہو سکے ۔
ترکی کی یہ تاریخ ایک انتہائی مثال ہے جو بتاتی ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلم ممالک کس طرح حالات کا اندازہ کرنے میں ناکام رہے اور نتیجۃ ًوقت کے مطابق اپنے عمل کی منصوبہ بندی نہ کر سکے ۔ اسی کے ساتھ ترکی کی تاریخ میں دو اور علامتی مثالیں بھی ہیں۔ ملی کام کے لیے جان دار کارکنوں کا نہ ملنا، اور تیاری کے بغیر اقدامات۔
جدید ترکی میں دو شخصیتیں علمی و فکری حیثیت سے انتہائی نمایاں نظر آتی ہیں۔ ایک نامق کمال (1888-1840ء) دوسرے ضیاء گوک الپ (1924-1875ء)دونوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ دونوں ترکی کے علاوہ عربی اور فرنچ زبانیں جانتے تھے۔ انیسویں صدی کی مسلم دنیا کی دوسری تمام شخصیتوں کی طرح اگرچہ یہ دونوں ہی سیاست سے متاثر تھے۔ اور سیاسی انقلاب کو سب سے بڑا کام سمجھتے تھے۔ تاہم دونوں میں یہ فرق تھا کہ نامق کمال نسبتاً معتدل اور متوازن فکر کے آدمی تھے۔ وہ عملی سیاست سے متاثر ہونے کے باوجود اسلامی اصطلاحوں میں سوچتے تھے اور’’ترک اتحاد‘‘ کے بجائے’’اسلامی اتحاد‘‘ کے الفاظ بوتے تھے۔ مزید یہ کہ نامق کمال کو ترکی کی جدید نسل میں مقبولیت بھی حاصل ہوئی۔ خالدہ ادیب خاتم نے ان کے بارے میں لکھا ہے:
’’نامق کمال ترکی جدید کی محبوب ترین شخصیت تھی۔ ترکی کے افکار و سیاسیات کی تاریخ میں ان سے زیادہ کسی دوسری شخصیت کی پرستش نہیں کی گئی‘‘۔
Halde Edib, Turkey faces west, p.84
دوسری طرف ضیاء گوک الپ ایک آزاد خیال آدمی تھا۔ اس کے فکری نظام میں اسلام بنیادی عامل کی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔ اس نے دعوت دی کہ ترکی کی تعمیر نو خالص قومی اور مادی بنیادوں پر کی جائے۔ وہ اسلامی تہذیب کے بجائے مغربی تہذیب کا پرجوش علم بردار تھا۔
ترکی کی بعد کی تاریخ بناتی ہے کہ ترکی میں نامق کمال جیسے لوگوں کے افکار کو غلبہ نہیں ملا۔ بلکہ ضیا گوک الپ جیسے لوگ عملاً وہاں کی سیاست و قیادت پر چھا گئے۔ اس کی کم ازکم ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ضیا گوک الپ کے افکار کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کمال اتاترک (1924-1881ء) جیسا طاقتور اور مضبوط ارادہ کا آدمی مل گیا تھا۔
اس کے علاوہ ایک وجہ اور بھی ہے۔ نامق کمال نے اگرچہ اپنی قوم کے ایک طبقہ میں محبوبیت حاصل کی۔ تاہم اپنے خطیبانہ ادب میں وہ جن خیالات کو پیش کر رہے تھے، ان کے اندر روایتی لوگوں کے لیے خواہ کتنی ہی اپیل ہو، جدید افکار کے عالمی سیلاب میں اس کی حیثیت ایک قسم کے رومانی خواب کی تھی۔ اصولی طور پر بلاشبہ یہ بات درست ہے کہ اسلام کو اجتماعی اداروں کی بنیاد ہونا چاہیے۔ مگر ایک ایسی دنیا میں جہاں عملی طور پر سیکولرافکار کا غلبہ ہو، کوئی شخص اپنا علیحدہ جزیرہ تعمیر نہیں کر سکتا۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ عمومی فکری فضا کو اس کے موافق بنا لیا جائے۔
