جب خدا کی زمین تعصبات سے خالی تھی
ستر سال پہلے کی دنیا آج کی دنیا سے کتنی مختلف تھی، اس کا ندازہ کرنے کے لیے یہاں ہم مولانا شبلی نعمانی کی تحریر نقل کرتے ہیں جو انھوں نے 1909 میں لکھی تھی:
یہ واقعہ حیرت سے سنا جائے گا کہ کولہا پور کی ریاست نے ، جو ایک ہندو ریاست ہے ، ایک مسلمان طالب علم کو اپنے صرف سے ندوۃ العلماء کے دارالعلوم میں اس غرض سے بھیجا ہے کہ وہ یہاں ایک مذہبی تعلیم پائے۔ ریاست مذکور کے افسر تعلیم کنج لال صاحب دیوالی ایم۔ اے کا جو خط اس کے متعلق ہمارے پاس آیا ہے اس کا اقتباس حسب ذیل ہے :
’’کچھ دن ہوئے مفاخرت نامہ والا شرف صدور لایا تھا۔ موقع پاکر وہ حضور مہاراجہ صاحب دام ملکہ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ حضور ممدوح اس کا مضمون سن کر بہت مسرور ہوئے اور فرمایا کہ طالب علم کو وہاں روانہ کیا جائے ۔ امید کہ یہ نوجوان جناب کے دار العلوم سے اتناذ خیرہ علوم لے کر واپس آئے گا کہ کل گرد و نواح کے مسلمان اس پر فخر کریں گے۔‘‘
موجودہ دنیا میں یہ کس قدر عجیب آواز ہے۔ لیکن در حقیقت یہ اس عجیب و غریب بے تعصبی کی بقیہ یاد گاریں ہیں جو تیموریوں نے ہندستان میں غیر مذہب والوں کے ساتھ برتی تھیں۔ تیموریوں نے کیا کیا۔ اس سوال کا جواب پچھلی تاریخوں نے بار بار دیا۔ لیکن مخالفین کو تسلی نہیں ہوتی ۔ اس لیے ان کو زندہ مثالوں کی طرف نظر اٹھانی چاہیے۔ ان کو حیدر آباد جانا چاہیے جہاں سالانہ تین لاکھ روپے صرف شیوالوں، مندروں اور بت خانوں کی تعمیر اور مرمت میں صرف کیا جاتا ہے۔ میں نے خود اپنے زمانہ قیام (حیدر آباد) میں دیکھا کہ ایک گاؤں کے ہندو نے درخواست کی کہ ہمارے آس پاس کوئی شیوالہ نہیں ہے جس میں ہم لوگ اپنی مذہبی عبادت بجالائیں ، اس درخواست پر ریاست سے چھ ہزار روپیہ عطا ہوا۔
گیا میں بدھ مت کا سب سے بڑا مندر ہے ، اس کے آس پاس آج سلاطین تیموریہ کے تیرہ فرامین ہیں ( میں نے خود جا کر دیکھا ہے ) جس میں جاتریوں اور پجاریوں کے مصارف کے لیے زمین اور جاگیریں عطا کی گئی ہیں۔ ریاست پٹیالہ ایک سکھ ریاست ہے۔ میں نے خود وہاں جا کر معلوم کیا ہے کہ کوئی مسجد تعمیر کی جاتی ہے تو ریاست کی طرف سے ایک معین رقم اس کام کے لیے ملتی ہے۔ اور یہ قاعدہ مدت سے چلا آرہا ہے‘‘۔
الندوہ، ماہ جولائی 1909ء
