خبر غلط تھی
نیل آرم اسٹرانگ مشہور امریکی خلا باز ہیں۔ وہ تاریخ کے پہلے انسان ہیں جنہوں نے 21 جولائی 1969ء کو چاند پر قدم رکھا۔ وہ اس سے پہلے امریکہ کے خلائی ادارہ ناسا (Nasa) سے متعلق تھے۔ اب اس سے الگ ہو کر وہ ایک یونیورسٹی میں پروفیسر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔
پچھلے دنوں ملیشیا کے اخبار اسٹار (10جنوری1983ء) اور سری لنکا کے ڈیلی نیوز پیپر(29جنوری1983ء) میں ایک خبر چھپی جو بہت جلد دوسرے مسلم اخبارات میں نقل ہو کر دنیا بھر میں پھیل گئی۔ یہاں ہم اسٹار کی خبر اور اس کا ترجمہ نقل کرتے ہیں:
دنیا کے مشہور خلاباز آرم اسٹرانگ پہلے شخص ہیں جنہوں نے چاند پر قدم رکھا۔ وہ اس کے بعد سے مسلمان ہوگئے ہیں اور وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ جب پہلی بار انہوں نے چاند پر قدم رکھا تو انہوں نے وہاں ایک آواز سنی جو ان کے لیے اور ان کے ساتھیوں کے لیے بہت صاف تھی۔ اس وقت ان کو خیال آیا کہ ان کے کانوں کو دھوکا ہو رہا ہے۔ کیوں کہ اس وقت وہ چاند کو پہلی بار دیکھ رہے تھے۔ اور ان پر ایک استعجاب کی کیفیت طاری تھی۔ بعد میں وہ مختلف ملکوں میں لیکچر دینے کے لیے گئے۔ اس دوران وہ قاہرہ (مصر) بھی گئے۔ وہاں انہوں نے وہی آواز دوبارہ سنی جو انہوں نے چاند پر سنی تھی۔ انہوں نے اپنے قریب کے مصری ساتھی سے پوچھا کہ یہ آواز کیا ہے۔ ان کو بتایا گیا کہ یہ اذان ہے جو عبادت کی پکار ہے اور اس میں خدا کی بڑائی بیان کی جاتی ہے۔ آرم اسٹرانگ کو بہت تعجب ہوا۔ کیوں کہ یہ ان کے حافظہ کے مطابق وہی آواز اور وہی الفاظ تھے جو انہوں نے چاند پر سنے تھے۔ اس وقت انہوں نے اسلام کے متعلق جاننے کا فیصلہ کیا اور بالآخر اسلام قبول کر لیا۔ اس کے نتیجہ میں انہوں نے اپنی قابل رشک ملازمت کھو دی۔ مگر ان کا کہنا ہے کہ میں نے خدا کو پا لیا ہے۔ اور اب کسی چیز کی کوئی اہمیت نہیں۔
یہ خبر دوسرے اخبارات میں نقل ہوئی تو اس میں مزید اضافے بھی کر دیے گئے۔ مثلاً یہ کہ آرم اسٹرانگ نے چاند کی آواز کو ٹیپ ریکارڈ کر لیا تھا اور زمین پر آ کر اذان کی آواز کو اس سے ملایا، وغیرہ۔
اس سلسلہ میں راقم الحروف نے ایک خط مسٹر آرم اسٹرانگ کو لکھا تھا۔ انہوں نے اس خبر کی تردید کی ہے اور اس کو بے بنیاد بتایا ہے۔ اس سلسلے میں ان کے ذاتی دستخط سے جو جواب موصول ہوا ہے اس کا عکس علیٰحدہ صفحہ پر دیا جا رہا ہے۔ آرم اسٹرانگ اپنے جواب میں لکھتے ہیں:
آپ کے خط کا شکریہ۔ میرے اسلام قبول کرنے کی خبریں، اذان کی آواز کو چاند پر اور اس کے بعد قاہرہ میں سننا، سب خلاف واقعہ ہیں۔ میں کبھی مصر نہیں گیا۔ ملیشیا، انڈونیشیا اور دوسرے مقامات کے کچھ رسالوں اور اخبارات نے یہ خبریں بغیر تصدیق کیے ہوئے چھاپی ہیں۔ اس نااہل صحافت نے آپ کو جو بھی زحمت دی ہو اس کے لیے میں معذرت چاہتا ہوں—
خلوص کے ساتھ، آرم اسٹرانگ
خبر کے مطابق اس واقعہ میں حکومت امریکہ بھی ملوث تھی۔ کیوں کہ خبر میں بتایا گیا تھا کہ اسلام قبول کرنے کی وجہ سے مسٹر آرم اسٹرانگ کی سرکاری ملازمت ختم کر دی گئی ہے۔ اس بنا پر خود حکومت امریکہ نے بھی اس کی تردید کا اہتمام کیا۔12مئی 1983ء کو نئی دہلی کے امریکن سنٹر میں ایک خصوصی ٹیلی پریس کانفرنس ہوئی۔ اس میں اخبارات کے نمائندوں کو موقع دیا گیا کہ وہ ٹیلی فون کے ذریعہ براہ راست آرم اسٹرانگ سے بات کریں۔ اس ٹیلی پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے امریکی خلاباز نے اپنے قبول اسلام کی تردید کی (ہندستان ٹائمس/13مئی1983ء)۔ مزید انہوں نے کہا کہ اسلام کی تعلیمات کبھی ان کے سامنے نہیں آئیں اور نہ انہوں نے قرآن کا مطالعہ کیا ہے:
کیسی عجیب بات ہے کہ مسلمانوں نے آرم اسٹرانگ اور ان جیسے دوسرے بندگان خدا کے سلسلہ میں اپنی تبلیغی ذمہ داریوں کو تو پورا نہیں کیا۔ البتہ فرضی کہانیاں بنا کر خوش ہو رہے ہیں کہ چاند سے لیکر امریکی خلاباز تک سب کو ان کے دین اعظم نے فتح کر رکھا ہے۔
