ہماری زندگی کا ایک دردناک پہلو
سابق وزیر اعظم ملیشیاتنکو عبد الرحمٰن (1990-1903) نے بتایا کہ ملیشیا میں جو غیر مسلم آباد ہیں، وہ اسلام کے بارے میں جاننے کے بہت شائق ہیں، مگر مسلمانوں کو اس سے کوئی دل چسپی نہیں کہ ان کو اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ البتہ الیکشن کے موقع پر غلط قسم کی سیاست بازی کے ذریعہ وہ غیر مسلموں کو اسلام سے کچھ متوحش کر دیتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی جماعت ’’پرکم‘‘ کی کوششوں سے ملیشیا میں تقریباً 30 ہزار اور صباح میں ایک لاکھ آدمی اسلام قبول کر چکے ہیں ۔ سراوک میں ہر دن لوگ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں ۔ مگر مسلمان ان کو اپنے معاشرہ میں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ حتٰی کہ بعض لوگ ان نو مسلموں سے مصافحہ تک نہیں کرتے۔ کیوں کہ ان کے خیال کے مطابق ان کے ہاتھ سور کی چربی سے گندے ہو چکے ہیں۔ تنکو عبد الرحمٰن لکھتے ہیں:
Today I am fighting a long battles to get these Muslim converts accepted in to the Malay community
ان نو مسلموں کو ملایا کے مسلم معاشرہ شامل کرنے کے لیے میں ایک تنہا جنگ لڑ رہا ہوں (اسلامک ہر الڈ، کوالا لمپور، دسمبر 1975)۔
تنکو عبد الرحمٰن اپنی سیاسی زندگی کے زمانہ میں ملیشیا کی مقبول ترین شخصیت تھے۔ مگر جب انھوں نے سیاست کی ہنگامی زندگی کو چھوڑ کر تعمیری کام کرنا چاہا تو اب وہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ تنہا ہیں۔ ان کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں۔
یہی موجودہ زمانہ میں ساری دنیا کے مسلمانوں کا حال ہے ۔ وہ کسی قائد کا ساتھ صرف اس وقت دیتے ہیں جب کہ وہ ان کو جذباتی سیاست کی شراب پلا رہا ہو۔ خاموش کام کرنے والوں کا ساتھ دینے کا ان کے اندر حوصلہ نہیں ۔ اس مشکل کا واحد حل یہ ہے کہ ہمارے درمیان کچھ قائد ایسے نکلیں جو عزت و شہرت کی قربانی پر اپنے آپ کو خاموش تعمیری کاموں میں لگادیں۔ جب قائدین کی ایک نسل اس طرح اپنے آپ کو گم نامی کے قبرستان میں دفن کر چکی ہو گی، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ ملت کو حقیقی معنوں میں دنیا کے اندر عزت و سر بلندی کا مقام حاصل ہو۔ اگر ہمارے قائدین شہرت و عزت کی فضاؤں میں پرواز کر رہے ہوں اور عوام کو تعمیری کام کا وعظ سنائیں ، تو یہ کام کبھی انجام نہیں پاسکتا۔ بد قسمتی یہ ہے کہ تنکو عبد الرحمٰن جیسے تعمیری کام کا ذوق رکھنے والے ہمارے یہاں صرف استثنا کا درجہ رکھتے ہیں ۔
