میں نے یہ تحریر دو قسطوں میں مولانا کی خدمت میں روانہ کی ۔ پہلی بار 25 ستمبر کو اور دوسری بار 26 نومبر کو ۔ دوسری قسط کے ساتھ پھر میں نے حسب ذیل خط لکھا۔
اعظم گڈھ ،26 نومبر 1962ء
اعظم گڈھ ،26 نومبر 1962ء
محترمی سلام مسنون
عرض یہ ہے کہ میں نے جو تحریر مرتب کی ہے ، اس کے دو حصے ہیں ۔ ایک حصہ میں آپ کی فکر پر نظریاتی گفتگو کی گئی ہے او ر دوسرے حصے میں اس فکر کی عملی نتائج کا بیان ہے ۔
میرا اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ نے اسلامی مشن کی جو تشریح کی ہے ۔ یا دوسرے لفظوں میں شریعت اور مشروع لہ کے درمیان جس نسبت کو بیان کیا ہے ، وہ مجھے قرآن سے ثابت ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔ اس لیے میرے نزدیک اصل اہمیت صرف پہلے حصہ کی ہے ۔ باقی دوسرا حصہ یعنی عملی نتائج ، تو ان کی اہمیت اس وقت ہے جب کہ پہلی بات صحیح ہو ۔ اگر پہلی بات غلط ثابت ہو جائے تو مذکورہ نتائج خواہ انھیں بطور واقعہ تسلیم بھی کر لیا جائے ، ان کی اس حیثیت سے کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی کہ وہ کسی نظریاتی خامی کے سبب سے پیدا ہو ئے ہیں۔
اس لیے فی الحال میں آپ کے سامنے اپنی تحریر کا صرف پہلا حصہ۔ نظریاتی حصہ۔ رکھنا چاہتا ہوں ۔ مرسلہ مضامین کو دیکھنے کے بعد آپ کے سامنے یہ بات آجائے گی کہ وہ کیا وجوہ ہیں جن کی بنا پرمیں کہتا ہوں کہ آپ کی تعبیر قرآن سے ثابت نہیں ہوتی ۔ اسی کے ساتھ ’’ دین کا صحیح تصور ‘‘ کے عنوان سے جو مضمون روانہ ہے ،اس میں میں نے اپنی فہم کے مطابق دینی تقاضوں کی وہ تشریح پیش کرنے کی کوشش کی ہے جو میرے نزدیک دین کی صحیح تشریح ہے۔
اس طرح ان تمام مضامین کو دیکھنے کے بعد نظریاتی حیثیت سے میری پوری بات آپ کے سامنے آجائے گی ۔ مجھے امید ہے کہ ان کو دیکھ کر آپ اپنے واضح اور تفصیلی جواب سے مطلع فرمائیں گے ۔
خادم وحید الدین
