خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

مولانا جلیل احسن صاحب سے میری مراجعت کی روداد فروری 1962ء سے شروع ہوتی ہے۔ اس مہینہ کے شروع میں جب وہ رام پور تشریف لائے تھے، اور جناب عبدالحئی صاحب (ایڈیٹر الحسنات اور رکن شوریٰ) کے یہاں مقیم تھے۔ انہوں نے پہلی بار میری تحریر دیکھی۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ مولانا نے میری تحریر دیکھ لی ہے، تو میں نے ان کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کا تبصرہ دریافت کیا۔ انہوں نے کہا کہ زبانی گفتگو کے بجائے میں اس کے بارے میں تحریری طور پر اپنی رائے دینا چاہتا ہوں۔ البتہ مجھے آپ کی تحریر کی ایک نقل درکار ہو گی۔ میں نے کہا یہ میرے لیے اور زیادہ خوشی کی بات ہے،کیوں کہ تحریری تبصرہ کی صورت میں زیادہ تفصیل کے ساتھ آپ کی رائے حاصل ہو گی۔ اور زیادہ بہتر شکل میں اس پر غور کرنے کا موقع ملے گا۔ میں نے فوراً وعدہ کر لیا، کہ ان شاء اللہ میں جلد ہی اس کی نقل آپ کو فراہم کر دوں گا۔

اس وقت میری تحریر ان کو پڑھنے کے لیے عبدالحئی صاحب نے اپنی طرف سے دی تھی۔ اس لیے وہ خود بھی مولانا کا تبصرہ معلوم کرنے کے بہت مشتاق تھے۔ چنانچہ انہوں نے کافی کریدنے کی کوشش کی۔ مگر مولانا آخر تک نہیںکھلے۔ بڑی مشکل سے صرف ایک جملہ کہا:

’’اس تحریر کو پڑھ کر میں سخت کبیدہ خاطر ہوا‘‘

اس کے بعد 10 مارچ 1962ء کی ڈاک سے میں نے تحریر کی ایک نقل مولانا جلیل احسن صاحب کے نام روانہ کر دی۔ اس کے وصول ہونے کے بعد مولانا نے لکھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ اپنی تحریر کو مزید مکمل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس لیے جب اس کو مکمل کر چکیں تو اس کی نقل مجھے بھیجیں۔ اس وقت میں اپنی رائے دے سکوں گا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے حسب ذیل خط کے ساتھ میرا مضمون واپس بھیج دیا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion