لاہور، 5 اگست 1962ء
لاہور، 5 اگست 1962ء
محترمی و مکرمی السلام علیکم و رحمۃ اللہ
آپ کا عنایت نامہ مورخہ 25 جولائی ملا۔ ایک مدت کے تحریری کام اور بکثرت لوگوں سے معاملات کرتے کرتے میرے اندر کم از کم اتنی صلاحیت پیدا ہو گئی ہے کہ کسی شخص کے مضمون کو پڑھ کر اس کی ذہنی کیفیت کو سمجھ سکوں۔ آپ کا مضمون پڑھنے کے بعد آپ کے ذہن کی جو کیفیت میرے سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ ایک طرف آپ کے اندر سخت زعم اور ادعا پیدا ہو چکا ہے۔ اور دوسری طرف جس نقطۂ نگاہ کی تردید آپ کرنا چاہتے ہیں اس کے خلاف آپ کے اندر اچھی خاصی کد پیدا ہو چکی ہے۔
حتی کہ آپ بڑے جوش وخروش سے اس کو پیش کرنے والے پر چوٹیں کر گزرے ہیں۔ اس حد تک پہنچ چکنے کے بعد اب آپ مجھ سے رجوع فرماتے ہیں ۔ کیا آپ مجھ سے توقع رکھتے ہیں کہ میں آپ سے مناظرہ بازی کروں ؟ براہ کرم آپ اپنے مضمون کو خود تنقیدی نگاہ سے دیکھیں کہ اس میں آپ کس مقام سے بول رہے ہیں اور مجھے آپ نے کیا فرض کر کے ازاول تا آخر گفتگو فرمائی ہے ۔ اگر آپ کے اندر ابھی کچھ احتساب نفس کی صلاحیت باقی ہے تو مجھے امید ہے کہ آپ اپنے مضمون کے تنقید ی مطالعہ کے بعد خود اس نتیجے پر پہنچ جائیں گے کہ اس کے بارے میں جو طرز عمل میں نے اختیار کیا ہے ۔ اس کے سوا کوئی دوسرا طرز عمل میں اختیار نہیں کر سکتا تھا ۔ اس کے بعد اگر آپ اس مقام بلند سے جس پر آپ نے اپنے آپ کو فائز سمجھ کر کلام کیا ہے کچھ نیچے اترنے پر راضی ہوں ، اور یہ بھی محسوس فرمائیں کہ جس آدمی پر آپ نے پے درپے گرفتیں فرمائی ہیں وہ کم از کم طفل مکتب نہیں ہے ، تب اس امر کا امکان پیدا ہو گا کہ میں ان مسائل پر آپ سے گفتگو کروں جنھیں آپ اپنے مضمون میں زیرِ بحث لائے ہیں ۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو آپ کے لیے وہی دو راستے کھلے ہیں جن کا میں نے پہلے ذکر کر دیا ہے۔
براہ کرم صاف گوئی کو غیظ وغضب نہ سمجھیے ۔ میں آپ کو کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں رکھنا چاہتا۔ اس لیے کسی لاگ لپیٹ کے بغیر اپنے تاثرات پہلے بھی ظاہر کر دیے تھے ، اور اب بھی کر رہا ہوں ۔
خاکسار ابو الا علیٰ
