چترپور ، 18 اگست 1962ء
چترپور ، 18 اگست 1962ء
مکرمی و محترمی! السلام علیکم و رحمۃ اللہ
1۔میں نے 7 اگست کو جناب وحید الدین کے نام الحسنات کے پتہ پر کارڈ لکھا، سب سے پہلے آپ وہ کارڈ ان سے لے کر پڑھیں، اس کا جواب 30 اگست کو انہوں نے یہ دیا :
مکرمی و محترمی! سلام مسنون
گرامی نامہ مورخہ 7 اگست ملا، آپ نے لکھا ہے ’’میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ اعظم گڑھ چلے آئیں اور پھر ہمارے آپ کے درمیان مراسلت ہو، ہو سکتا ہے آپ پر اپنی تعبیر کی غلطی واضح ہو جائے۔‘‘ میں آپ کے مشورہ کو قبول کرتا ہوں۔ چنانچہ آج ہی امیر جماعت کو خط لکھ رہا ہوں کہ وہ مجھے اعظم گڑھ جانے کی اجازت دے دیں، ان شاء اللہ، ان کا جواب آنے کے بعد جو صورت ہو گی اس پر عمل کروں گا، اور اس کے مطابق آپ کو مطلع کر دوں گا۔‘‘
یہ ہے جناب وحید صاحب کا جواب، سوا ل یہ ہے کہ میرے کارڈ میں صرف یہی مشورہ تو نہ تھا، دوسرا ایک اور اہم سوال یہ تھا کہ ہم کو اطلاع ملی تھی کہ وہ اپنے مقالہ کو جلد شائع کرنے کے لیے بہت بیتاب ہیں۔ یہی نہیں بلکہ کوئی رسالہ نکالنا چاہتے ہیں، مگر سرمایہ فراہم ہونے کی کوئی شکل نظر نہیں آتی، ظاہر ہے اس سے مجھے توحش ہو؟ میں نے پوچھا کہ کیا یہ اطلاع صحیح ہے، اور یہ کہ آپ نے ایسی حالت میں دو راہوں میں سے کونسی راہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں راہوں کی میں نے نشان دہی کی اور پھر بتایا کہ آپ کونسی راہ اختیار کریں۔ بہرحال آپ پہلے وہ کارڈ لے کر پڑھیں اور پھر مطلع ہوں کہ انہوں نے کارڈ کے سب سے اہم سوال کو اپنے جواب مورخہ 13 اگست میں بالکل نظرانداز کر دیا۔ اس سے متعلق کوئی نقطہ اور شوشہ تک ان کے جواب میں نہیں ہے، آخر کیوں، کیا یہ چیز آدمی کو نیت میں شبہ کرنے کا جواز نہیں دیتی، یہ طریقہ اگر جان بوجھ کر انہوں نے اختیار کیا ہے تو اسے سیاسی بازی گری کہتے ہیں۔ اس سے انھیں بچنا چاہیے، یہ تقویٰ القلب کے منافی ہے میں آپ کی وساطت سے ان سے درخواست کرتا ہوں کہ اس اہم ترین خلش کے سلسلے میں کچھ کہیں جو بھی کہیں کہیں ضرور۔
انہوں نے آخر میں لکھا ہے کہ کوئی گستاخی ہوئی ہو تو اس کے لیے مجھے معاف فرمائیں گے۔ اس کے جواب میں عرض ہے کہ میں نے ہمیشہ اس کو اپنی تحقیر تصورکی ہے کہ آدمی میری بات کا بطرز مستقیم جواب نہ دے، یا نظرانداز کر جائے اور اس کے جواب میں میرے سوال کا کوئی جواب نہ ہو۔ آپ جواب نہیں دینا چاہتے تو یہ کیوں نہیں لکھ سکتے کہ میں فلاں بات کا جواب نہ دوں گا۔ پھر میں سوچتا کہ مجھے متعلقہ معاملہ میں کیا کرنا چاہیے، لیکن میرے سوال کو بالکل تشنہ چھوڑنا اس کو ہمیشہ میں نے نیت تحقیر تصورکیا ہے۔
جناب وحید الدین خاں کو میرا سلام کہیے اور یہ کہ میرے اس کارڈ میں اگر کچھ تلخی آ گئی ہو تو واجب ہے ان پر کہ اس کا خیال نہ کریں۔ کیوں کہ یہ تلخی خود ان کی پیدا کردہ ہے۔
والسلام جلیل احسن
