غلبۂ دین کی غلط تشریح
قرآن میں غلبہ کے معاملے کو ہر جگہ خدا کی نصرت کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ غلبہ اپنے آپ کسی کے اوپر ٹپک پڑتا ہے۔ بلکہ اس کامطلب یہ ہے کہ اس دنیامیں وہی غالب ہوتا ہے جس کے حق میں اللہ تعالیٰ نے غلبہ کافیصلہ کیا ہو۔ ہمارا اصل کام یہ نہیں ہے کہ غلبہ کو نشانہ بنا کر اول روز سے براہ راست اس کے لیے تحریک چلائیں ۔ بلکہ اصل کام یہ ہے کہ اپنے آپ کو نصرت الٰہی کا مستحق بنانے کی کوشش کریں۔ جب ہم استحقاق پیدا کر دیں گے تو اللہ تعالیٰ ہمارے لیےراہیں کھولے گا۔ ہمارے لیے نفوذ کی صورتیں پیدا کرے گا جیسے اس نے حضرت یوسف علیہ السلام کے لیے، ایک مخصوص شکل میں اور آخری رسول کے لیے دوسری مخصوص شکل میں صورتیں پیدا فرمائیں ۔
یہ استحقاق کیسے حاصل ہوتا ہے ۔ اس کو قرآن میں مختلف اندازمیں بیان کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پرسورہ مائدہ (آیت 12) میں مخصوص حالات میں بسنے والے اہل ایمان کے لیے ایک سواء سبیل (واضح راستہ) بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ مسلمان منظم زندگی گزاریں۔ نماز کو قائم کریں (جس کی روح عجز اور اشتیاق کے ساتھ اپنے رب سے جڑ جانا ہے)، زکوٰۃ ادا کریں (جو گویا حرص اور خود غرضی سے اپنے آپ کو پاک کر کے ایک مزکیّٰ انسان بن جانے کا نام ہے) پھر رسولوں پر ایمان لانا اور ان کی تعزیرکرنا ہے، جو موجودہ زمانے میں یہ معنی رکھتا ہے کہ مقصد رسالت کے لیے جو دعوتی تحریکیں اٹھیں، ان کا پوری طرح ساتھ دیا جائے۔ اس راہ میں جو مزاحمتیں پیش آئیں، ان کا مقابلہ کرتے ہوئے اس دعوتی مہم کو جاری رکھا جائے۔ اور آخری چیز خدا کو قرض حسن دینا ہے۔ یعنی خدا کی راہ میں عمدہ جذبات کے ساتھ اپنے بہترین مال کو خرچ کرنا— یہ وہ سواء السبیل (واضح راستہ)ہے جس پر چلنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے انی معکم کی بشارت دی ہے۔ یعنی وہ دنیا کی زندگی میں ان کا ساتھ دے گا ان کی مدد فرمائے گا۔
لیکن اگر ذہن صحیح نہ ہو تو اس قسم کی آیتوں سے آدمی کو کوئی غذا نہیں ملے گی، اس کی توجہ اس طرح کی سواء السبیل پر لگنے کے بجائے بس سیاسی تبدیلی کی طرف لگی رہے گی۔ وہ جب بھی غلبۂ اسلام کے سوال پر سوچے گا۔ ایک سیاسی مسئلے کے طور پر سوچے گا۔ خدا کی نصرت کی طرف اس کا دھیان نہیں جائے گا۔ اور نہ اس کی مجلسوں میں اس انداز کی گفتگو ہو گی۔ وہ صرف ’’عملی پروگراموں‘‘ اور ’’سیاسی تدبیروں‘‘ کے چکر میں پڑا رہے گا۔ مگر بعد کو جب اس کی کوششیں اس واقعہ کو ظہور میں نہ لا سکیں گی، جو دراصل خدا کی مدد سے ظہور میں آتا ہے تو اس ذہنیت کے لوگ مایوسی اور انتشار میں مبتلا ہو کر دین کے اتنے حصے کو بھی چھوڑ بیٹھیں گے، جس کو وہ اجتماعی انقلاب کے بغیر حاصل کر سکتے تھے۔
