اس کے بعد میں نے حسب  ذیل خط مولانا مودودی کے نام روانہ کیا۔ 

رامپور، 14 اگست 1963ء

رامپور، 14 اگست 1963

گرامی نامہ مورخہ 5 اگست ملا۔ میں سمجھتا تھا کہ آپ مجھ سے اس قدر ناراض ہو چکے ہیں کہ اب شاید آئندہ خط وکتابت کا سلسلہ جاری نہ رہ سکے گا ۔ مگر اب تازہ خط کو دیکھ کر امید پیدا ہو گئی ہے کہ ابھی اس بات کا ’’ امکان ‘‘ باقی ہے کہ آپ مجھ سے ان مسائل پر گفتگو کریں جنھیں میں اپنے مضمون میں زیرِ بحث لایا ہوں ۔

محترم مولانا ! اگر میں اپنے آپ کو جانتا ہوں ، اور شاید دنیا میں سب سے بڑی حقیقت جس کو آدمی جان سکتا ہے ، وہ اس کی اپنی ذات ہی ہے ، تو میں عرض کروں گا کہ میرے بارے میں آپ کا یہ تصور بالکل خلاف واقعہ ہے کہ میں ’’ سخت زعم اور ادعا ‘‘ میں مبتلا ہوں۔ اور جس نقطہ نظر پر میں نے تنقید کی ہے اس سے مجھے اس قدر ’’ کد ‘‘ پیدا ہو چکی ہے کہ میں ’’مناظرہ بازی‘‘ کی سطح پر  اتر آیا ہوں ، اور اب میرا یہ حال ہے کہ یہ امر بھی مشتبہ ہو گیا ہے کہ میرے اندر ’’ احتساب نفس ‘‘ کی صلاحیت باقی ہے یا نہیں ۔ میرے نقطہ نظر سے آپ کا اختلاف تو میرے لیے حیرت انگیز نہیں۔ مگر آپ کا یہ ریمارک ضرور حیرت انگیز ہے ۔ کیوں کہ جب میں اپنا جائزہ لیتا ہوں تو اپنی اندرونی کیفیت کو اس کے بالکل خلاف پاتا ہوں جو بد قسمتی سے آپ نے سمجھا ہے ۔ یہ میرے متعلق ایسی بات ہے جس کی میں اس دنیا میں سب سے زیادہ یقین کے ساتھ تردید کر سکتا ہوں ۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اب سے چار مہینہ پہلے جب دہلی میں فیصلہ کیا گیا کہ میں اپنی تحریر کی ایک نقل آپ کے پاس بغرض تبصرہ بھیجوں تو میرے متعدد ساتھیوں نے مجھ سے کہا کہ پوری تحریر بھیجنا مناسب نہ ہو گا ۔ بلکہ صرف اس کا وہ حصہ بھیجنا چاہیے جس میں نظریاتی اور علمی بحث کی گئی ہے ، بلکہ مولانا ابو اللیث صاحب نے تو فرمایا تھا کہ الگ سے ایک سوالنامہ مرتب کرو جس میں خالص مستفسرانہ انداز میں متعلقہ آیات کے بارے میں اپنا اشکال پیش کیا گیا ہو۔ اور اسی کو بھیجو۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ مولانا مودودی چونکہ ذاتی طور پر تم سے واقف نہیں ہیں اس لیے وہ پوری تحریر دیکھ کر تمہارے بارے میں غلط فہمی میں پڑجائیں گے ۔ مگر میں نے ان لوگوں کا مشورہ نہیں مانا ۔ اور پوری تحریر کو بھیجنا اس لیے زیادہ مناسب سمجھاتا کہ پوری بات آپ کے سامنے آجائے اور آپ زیادہ واضح طور پر اس کا جواب دے سکیں ۔ جہاں تک غلط فہمی کے اندیشہ کا سوال تھا میں نے کہا ۔ مودودی صاحب کے متعلق میں جانتا ہوں کہ وہ بڑے وسیع ظر ف کے آدمی ہیں ۔ اسی کے ساتھ وہ ان مخصوص لوگوں میں سے ہیں جو تحریر دیکھ کر آدمی کو پہچان لیا کرتے ہیں ۔ اس لیے وہ محض کچھ الفاظ اور انداز بیان کی وجہ سے میرے بارے میں کوئی غلط رائے قائم نہیں کریں گے ۔مگر شاید اس دنیا کا یہ عالمگیر اصول ہے کہ کوئی چیز استثناء سے خالی نہیں ۔

میں تسلیم کرتا ہوں کہ میری تحریر کا انداز بظاہر سخت ہے ۔ لیکن اگر آپ میری سطروں کے پیچھے جھانک سکتے تو آپ کو نظر آتا کہ وہاں ایک شکستہ دل ، ایک سراپا تشویشناک قلب اور عجز کے انتہائی احساس کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ آپ لکھتے ہیں کہ تم جس ’’ مقام بلند‘‘ پر اپنے کو فائز سمجھ رہے ہو اس سے کچھ نیچے اترو تو گفتگو ہو سکتی ہے ۔ مگر میں سچ کہتا ہوں کہ ’’ کچھ ‘‘ نیچے اترنے کا سوال ہی کیا ہے ، میں تو ہمہ تن اپنے کو نیچے پڑا پاتا ہوں ۔ میری قلبی کیفیت اور میرا واقعی احساس آپ کی اس تشخیص سے اتنا دور ہے کہ مجھے بار بار تعجب ہوتا ہے کہ کیا اس دنیا میں اتنی خلاف واقعہ رائے بھی قائم کی جا سکتی ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ اس واقعہ سے میرے سمجھ میں یہ بات آگئی کہ اگر کوئی شخص اپنے جیسے گوشت پوست رکھنے والے ایک انسان کو سمجھنے میں اتنی بڑی غلطی کر سکتا ہے تو اس کا امکان بدرجہ اولیٰ تسلیم کرنا چاہیے کہ ایک شخص خدا کے دین کو سمجھنے میں غلطی کر جائے ۔

غور فرمائیے۔ اگر میرے اندر ادعائی نفسیات کام کر رہی ہوتی تو کیا یہ ممکن تھا کہ میں آپ کا تبصرہ معلوم کرنے کے لیے بے چین رہتا ۔ میں پچھلے دو سال سے مسلسل یہاں کے انتہائی اوپر کے افراد سے ان مسائل پر گفتگو کر رہا ہوں ۔ اپنے خیالات قلم بند کر کے لوگوں کو دکھا رہا ہوں ، اتنے طویل مضمون کی نقلیں تیار کر کے اہل علم رفقا ء کے مطالعہ کے لیے بھیج رہا ہوں ۔ کیا ’’ زعم ‘‘ میں مبتلا ہونے والے آدمی کا طرز عمل یہی ہوتا ہے ۔ اگر میں جھوٹے زعم میں مبتلاہوتا تو یقیناً مجھے یہ کرنا چاہیے تھا کہ اپنا مضمون مرتب ہوتے ہی فوراً سے ان بہت سے پرچوں میں سے کسی ایک میں بھیج دیتا جو اس طرح کے مضامین کا گویا منھ کھولے ہوئے انتظار کر رہے ہیں ۔ مگر میں سچ کہتاہوں کہ مجھے اس تصور سے گھن آتی ہے کہ میں مخالف پرچوں میں چھپوں اور جماعت کے خلاف اس قسم کی سطحی اشتہار بازی کروں جو بہت سے لوگ عرصہ سے کر رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ میرے سامنے اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ میں یہ معلوم کروں کہ اسلام کا صحیح تصور کیا ہے ۔ اب چونکہ آپ نے امید دلائی ہے کہ آپ کچھ شرطوں کے ساتھ میرے خیالات پر تبصرہ کر سکتے ہیں ، تو میں عرض کرتا ہوں کہ میں کسی بھی قسم کے تحفظ اور استثناء کے بغیر آپ کی ہر شرط ماننےکے لیے تیار ہوں۔ اس سلسلے میں آپ جو صورت بھی تجویز فرمائیں ، میں اس کو بے چون وچرا تسلیم کر لوں گا۔ آپ یقین رکھیں کہ مجھے ہار جیت کا کوئی اندیشہ قطعاً امن دامن گیر نہیں ہے ۔ میں اپنی جیت اس کو سمجھتا ہوں کہ مجھے حق معلوم ہو جائے ، خواہ وہ میری بات ہو یا کسی اور کی بات ۔

آخر میں یہ بھی عرض کر دوں کہ میری اصل پیچیدگی کیا ہے ۔ میری اصل پیچیدگی یہ ہے کہ آپ نے اپنی مختلف تحریروں اور تقریروں میں اسلامی نصب العین یا انبیاء کے مشن کا جو تصور دیا ہے (واضح ہو کہ مشن کا تصور ، نہ کہ سیاست کو اسلام میں شامل کرنا ) وہ مجھے کسی آیت یا حدیث میں نہیں ملتا۔ اس سلسلے میں اب تک جتنے استدلال سامنے آئے ہیں وہ سب کے سب مجھے اصل بات کو ثابت کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں ۔

میں اسی اشکال کے سلسلے میں خاص طور پر آپ کا جواب معلوم کرنا چاہتا ہوں ، باقی امور جو میری تحریر میں آپ کو نظر آئے ، وہ میرا اصل مسئلہ نہیں ہے ۔ بلکہ اصل بات کو پورے مجموعہ میں رکھ کر دیکھنے کی کوشش میں یہ تمام چیزیں زیرِ تحریر آگئی ہیں ۔ آپ کو اختیار ہے کہ ان کے بارے میں کوئی جواب دیں یا نہ دیں ۔ اگر آیات کا مفہوم متعین ہو گیا تو بقیہ مسائل آپ سے آپ حل ہو جائیں گے ۔

        خادم وحید الدین

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion