نتائج کی خامی نظریاتی خامی کا ثبوت

اوپر ’’نتائج‘‘ کے عنوان کے تحت جو کچھ میں نے لکھا ہے، وہ خود زیرِ بحث تعبیر کے حامیوں کے نزدیک ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ مگر ان میں ایسے افراد بہت کم ملیں گے جو یہ تسلیم کر لیں کہ یہ نتائج کسی نظریاتی خامی کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ دراصل انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ نظریاتی سطح پر اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتا۔ البتہ عملی اعتبار سے بہت جلد اپنی کوتاہیوں کا اقرار کر لیتا ہے۔ کیوں کہ یہاں یہ اصول اس کو تسکین دینے کے لیے موجود رہتا ہے کہ— ’’انسان بہرحال انسان ہے وہ غلطیوں سے پاک نہیں ہو سکتا‘‘۔

یہ بات اگرچہ بذات خود صحیح ہے۔ مگر اس موقع پر اس کا استعمال صحیح نہیں۔ اس مخصوص بحث کے ضمن میں یہ کہنا بالکل درست ہو گا کہ یہ نتائج اگر واقعہ ہیں تو وہ صریح طور پر اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہاں نظریاتی خامی پائی جا رہی ہے۔

میں مانتا ہوں کہ کسی نظریے پر ایمان رکھنے والوں کے اندر اس نظریے کے عملی تقاضوں کا پایا جانا ضروری نہیں۔ مگر یہ بات تحریک کے مومنین اوّلین کے بارے میں نہیں ہے۔ بلکہ ان لوگوں سے متعلق ہے جو بعد کو تحریک میں شامل ہو جاتے ہیں۔ تحریک اپنی ابتداء میں خالص نظریاتی ہئیت کا نام ہوتی ہے اس وقت صرف وہی لوگ اس کی طرف بڑھتے ہیں جو اس کے مخصوص افکار سے متاثر ہوں جن کے ذہن کو تحریک اس حد تک بدل دے کہ وہ اس کے خیالات کے مقابلے میں اپنے خیالات کو غلط سمجھنے لگیں۔ اور بالقصد ایک زندگی کو چھوڑ کر دوسری زندگی اختیار کریں۔ اس کے بعد تحریک اگر غالب اور حکمراں حیثیت حاصل کر لے تو اس وقت اس کا دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ اب نظریاتی اپیل کے علاوہ سیاسی دباؤ، معاشی مفاد اور عوامی رحجان بھی اس کے حق میں ہو جاتے ہیں۔ اس وقت بہت سے لوگ اِن دوسرے اسباب کے تحت اس کی اطاعت قبول کر لیتے ہیں، وہ کسی ذہنی تبدیلی کے نتیجے میں نہیں بدلتے، بلکہ محض وقتی مصالح کے تحت اپنے نام اور ظاہری رویے میں دوسروں سے مطابقت پیدا کر لیتے ہیں۔

ان میں سے پہلی قسم کے جو لوگ ہیں، اگر ان کے اندر کوئی خرابی پیدا ہو تو اس کا سبب اصل نظریے میں ڈھونڈنا چاہیے۔ کیوں کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو براہ راست تحریک کے نظریات نے کھینچا تھا۔ وہ اپنی ابتدا ہی سے تحریک کے نظریاتی مظاہر کی حیثیت سے وجود میں آئے تھے۔ وہ تحریک کی چلتی پھرتی تعبیر تھے۔ وہ اپنی سابقہ زندگی کو لیے ہوئے تحریک میں نہیں گھسے تھے۔ بلکہ اس کو چھوڑ کر آئے تھے اور اپنے آپ کو اس طرح تحریک کے حوالے کیا تھاکہ وہ جیسا چاہتی ہے ویسا انھیں بنائے۔ اس لیے یہ بالکل قدرتی بات ہے کہ ان کی اچھائی اور برائی کو تحریک کی طرف منسوب کیا جائے۔ البتہ دوسری قسم کے لوگوں کی خامیوں کا ذمے دار نظریہ نہیں ہے۔ انہوں نے اس نئے معبود کو مرجع پرستش بنایا ہی نہیں تھا، جس کو تحریک پیش کر رہی تھی۔ بلکہ وہ اپنے بت خود اپنی آستینوں میں لیے ہوئے تھے، پھر ایسے لوگوں کامطالعہ تحریک اور اس کے نظریات کی بنیاد پر کس طرح کیا جا سکتا ہے۔

مگر جہاں تک اسلامی تحریک کا تعلق ہے، اس سلسلے میں ایک اور بات ہے جو اس سے بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ اسلام لانا دراصل خدا سے تعلق جوڑنا ہے۔ یہ اپنے آپ کو رب العالمین کی سرپرستی میں دینا ہے۔ اس لیے جب کسی کا تعلق خدا سے قائم ہو تو اس کو وہ سب کچھ ملنا چاہیے جو ایسے لوگوں کو خدا کی طرف سے دیا جاتا ہے۔ اگر یہ عطیات کسی مدعیِ ایمان کو حاصل نہ ہوں تو یہ اس بات کا یقینی ثبوت ہو گا کہ آدمی کا ایمان ابھی حقیقی معنوں میں وہ ایمان نہیں بنا جس کی تعلیم دینے کے لیے خدا کا رسول آیا تھا۔

اللہ کا وعدہ ہے کہ جو لوگ ایمان لائیں گے وہ ان کا ’’ولی‘‘ بن جائے گا اور انھیں تاریکی سے نکال کر روشنی میں لے آئے گا (البقرہ، 2:257) اس لیے مومن کو کبھی اس صورت حال سے دوچار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ محسوس کرے کہ اس کی راہ روشن نہیں ہے۔ اس کے پاس کوئی ایسا واضح پروگرام نہیں ہے جس کے لیے وہ متحرک ہو۔ خدا کا وعدہ ہے کہ جو لوگ اس کی طرف بڑھیں گے وہ اپنے راستے انھیں دکھائے گا (العنکبوت،29:69) اس لیے مومن کی زندگی میں کبھی ایسا مرحلہ نہیں آنا چاہیے کہ حالات کے اندر وہ کوئی راستہ نہ پا رہا ہو، جس سے وہ اپنے رب کی طرف بڑھ سکے۔ خدا کا وعدہ ہے کہ جو لوگ صحیح راہ اختیار کریں گے وہ ان کے ایمان اور خشوع کو بڑھائے گا۔ وہ ہدایت کی راہ میں انھیں ترقی دیتا چلا جائے گا۔ (انفال،8:2؛بنی اسرائیل،17:109؛محمد، 47:17) اس لیے ایسا کبھی نہیں ہونا چاہیے کہ مومن بے حسی اور تنزل میں مبتلا ہو۔ اس کا اسلام جمود کا شکار ہو کر رہ جائے۔ خدا نے کہا ہے کہ وہ اپنے وفادار بندوں کی اس طرح قدر دانی کرتا ہے کہ ان کے اوپر ’’تقویٰ کا لباس‘‘ اوڑھاتا ہے۔ انھیں اپنے ’’رزق خیر‘‘ سے کھلاتا پلاتا ہے جو دنیا کے مادی رزق سے کہیں بہتر ہے (الاعراف ، 7:26؛ طہٰ، 20:131) اس لیے ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ آدمی ایمان لانے کے باوجود لباسِ خیر سے ننگا پڑا رہے، اور رزق ِرب سے اس کی روح کی پرورش نہ کی جائے۔ خدا کا وعدہ ہے کہ جو لوگ ایمان اور عمل صالح کی روش اختیار کریں گے۔ وہ ان کے لیے ’’حیات طیبہ‘‘ کا انتظام فرمائے گا۔ (النحل، 16:97) وہ انھیں دینی زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرے گا، اس لیے ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ایمان لانے والے انھیں مشاغل اور سرگرمیوں میں مصروف ہو کر رہ جائیں، جن میں دوسرے اہل دنیا پڑے ہوئے ہیں۔ وہ عبادت اور شہادت کی مطلوب زندگی حاصل کرنے کی سعادت نہ پائیں۔

یہ نتائج اگر حقیقت کی دنیا میں موجود ہیں، اور یقیناً موجود ہیں، تو یہ اس بات کا صریح ثبوت ہیں کہ آدمی خدا کے منبع فیض سے اپنا تعلق قائم نہ کر سکا۔ وہ کہیں اور اٹکا ہوا ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion