اعظم گڑھ، 12 نومبر 1962ء
اعظم گڑھ، 12 نومبر 1962ء
محترمی سلام مسنون
گرامی نامہ مورخہ 7 نومبر 1962ء ملا۔ مولانا ابواللیث صاحب کے خط کی مکمل نقل میں نے انھیں بھیج دی ہے اگر آپ پورا خط دیکھنے کی ضرورت محسوس کرتے ہوں تو دہلی خط لکھ کر اسے حاصل کر سکتے ہیں۔
آپ نے لکھا ہے کہ آپ نے پہلے ہی مجھے یہ بات بتا دی تھی کہ آپ ’’سوالات‘‘ کریں گے، اور اب اسی ’’نقشہ‘‘ کے مطابق عمل کر رہے ہیں۔ مگر میں افسوس کے ساتھ کہنا چاہتاہوں کہ اس سے پہلے آپ نے جو کچھ لکھا تھا اس سے میں ہرگز یہ نہیں سمجھا تھاکہ آپ اس قسم کے عجیب و غریب سوالات کریں گے، جیسے کہ آپ نے کیے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ کا سب سے پہلا خط جو مجھے موصول ہوا وہ 15 مارچ 1962ء کا ہے۔ یہ خط آپ نے مدرستہ الاصلاح (سرائمیر) سے لکھاتھا۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:
’’آدمی اتنے طویل مقالے کو پڑھے گا۔ پھر آپ سے سوالات کرے گا۔ توضیح مدعا کا طالب ہو گا دلائل پر گفتگو کرے گا۔‘‘
آپ کے ان الفاظ کا مطلب میں یہی سمجھا تھا کہ ایک بات جو میں نے آپ کے سامنے رکھی ہے چوں کہ آپ کو اس سے اتفاق نہیں ہے اور آپ اس کو غلط سمجھ رہے ہیں، اس لیے آپ مراسلت کے ذریعہ اس معاملہ میں میری غلطی کو مجھ پر ظاہر فرمانے کی کوشش کریں گے، اور اس کی شکل یہ ہو گی کہ میں نے اپنی تحریر میں جو کچھ پیش کیا ہے، حسب ضرورت مجھ سے اس کی مزید توضیح کرائیں گے، میرے دلائل پر کلام کریں گے اور میری باتوں پرتنقیدی سوالات کر کے میرے استنباط و استنتاج کے بارے میں میری غلطی مجھ پرواضح کریں گے۔
اسی تصورکے تحت میں نے آپ کے اس طریق تبصرہ سے اتفاق کر لیا تھا۔ مگر اس سلسلے میں جب آپ کا خط مورخہ 6 ستمبر 1962ء ملا تو میں نے دیکھا کہ وہ اس سے مختلف ہے جو آپ کے پچھلے الفاظ سے میں نے سمجھا تھا۔ آپ کے اس خط میں میرے مدعا اور میرے دلائل پر کوئی گفتگو نہیں تھی۔ بلکہ اس میں مجرد قسم کے سوالات تھے جن کے بارے میں یہ کچھ نہیں بتایا گیا تھاکہ ان کااصل مسئلہ سے کیاتعلق ہے، وہ میری کس دلیل پرتنقید ہے۔ اورمیری وہ کون سی بات ہے جس کے بارے میں یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ اورکیوں پیدا ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے سوالات کو میں غیر متعلق نہ کہوں تو اور کیا کہوں۔
آپ لکھتے ہیں کہ ’’اگر میں نے آپ سے یہ سوال کیا ہوتا کہ آپ کے سر میں کتنے بال ہیں۔ یااعظم گڑھ کے بند میں ریت اور مٹی کا تناسب کیا ہے تو بلاشبہ یہ آپ کی تحریر کے موضوع سے بالکل غیر متعلق بات ہوتی ۔ ‘‘ میں عرض کروں گا کہ غیر متعلق سوال کی یہی ایک صورت نہیں ہے، یہ بھی غیر متعلق سوال ہی کی ایک قسم ہے کہ میں آپ سے کہوں کہ جماعت اسلامی نے اسلامی مشن کا جو تصور پیش کیا ہے، وہ قرآن سے ثابت نہیں ہوتا، اور جن جن آیتوں سے اس مشن کے حق میں استدلال کیا جاتا ہے، ان پر گفتگو کر کے بتاؤں کہ کیوں میرے نزدیک یہ آیتیں اس تصورِ مشن کا ماخذ نہیں بنتیں۔ اس کے جواب میں آپ میرے دعوے یا دلیل پرکچھ کہے بغیر بس اس قسم کے مجرد سوالات کرنا شروع کر دیں ’’بتاؤ فلاں آیت میں ’’لیقوم میں لام کیسا ہے‘‘ اور فلاں جگہ ’’وکذالک میں واو کا عطف کس پر ہے‘‘ تو ان کو بھی سوال کے الفاظ کی حد تک اصل مسئلے سے غیرمتعلق کہا جائے گا۔
آپ کی یہ روش میرے لیے سخت حیرت انگیز ہے کہ پچھلے 9 مہینے سے جب سے کہ میرا مسئلہ آپ کے سامنے آیا ہے، آپ اصل مسئلے کے بارے میں مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں ، اور صرف غیر متعلق باتوں میں وقت ضائع کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں آپ کی یہ روش صرف میرے ساتھ نہیں ہے بلکہ جیسا کہ رامپورمیں جلال الدین انصر صاحب اور عبدالحئی صاحب نے مجھے بتایا تھا، ان لوگوںنے بہت چاہا کہ آپ میری تحریر کے بارے میں اپنا خیال انھیں بتائیں اور میرے استدلال پر گفتگو کریں مگر بار بار کی کوشش کے باوجود آپ قطعاً اس کے لیے تیار نہیں ہوئے، اب میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس میں آپ کے کیا مصالح پوشیدہ ہیں۔
خادم وحید الدین
