خط و کتابت مولانا صدرالدین اصلاحی
اس سلسلے میں سب سے پہلے مولانا صدرالدین صاحب اصلاحی کا نام آتا ہے۔ موصول امیر جماعت اور پوری مجلس شوریٰ کے متفقہ فیصلہ کے تحت خاص طور پر میری تحریر کا جواب تیار کرنے کے لیے مامور کیے گئے تھے۔ اور ان سے کہا گیا تھا، کہ اگر وہ ضرورت سمجھیں تو چار مہینے کا اپنا پورا وقت دے کر اس کا مکمل اور مفصل جواب لکھیں۔ اس فیصلے کے مطابق، میں نے 22 اپریل 1962ء کی صبح کو اپنی تحریر کی ایک نقل رام پور میں مولانا صدر الدین صاحب کے حوالے کر دی۔
جولائی 1962ء کی 29 تاریخ تھی، دن کے گیارہ بجے میں رام پور میں جماعت اسلامی ہند کے مرکزی کتب خانہ میں بیٹھا ہوا مطالعہ میں مشغول تھاکہ پیچھے سے آواز آئی— ’’اپنی امانت‘‘۔ دیکھا تو جناب افضل حسین خاں صاحب (ناظم درس گاہ) کھڑے تھے۔ انہوں نے ایک لفافہ میری طرف بڑھا دیا۔ یہ وہی لفافہ تھا جس کے لیے میں پچھلے چند مہینوں سے سراپا انتظار بنا ہوا تھا۔ اس میں مولانا صدر الدین صاحب کی وہ تحریر تھی جو انہوں نے مجلس شوریٰ کے فیصلے کے مطابق میری تحریر کے جواب میں مرتب کی تھی۔ اور اسی کے ساتھ امیر جماعت مولانا ابواللیث صاحب کا ایک چھوٹا سا خط حسب ذیل مضمون پر مشتمل تھا :
مولانا صدر الدین صاحب کا مضمون ارسال خدمت ہے۔ براہ عنایت اسے مطالعہ فرمانے کے بعد مطلع فرمائیں کہ اصولی طور پر آپ کہاں تک اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ آپ کے تاثرات معلوم ہونے کے بعد اگر ضرورت محسوس ہوئی تو زبانی بات چیت کے لیے یا تو میں خود رام پور حاضر ہوں گا یا آپ کو دہلی آنے کی تکلیف دوں گا خدا کرے یہ مضمون آپ کی تشفی کا موجب ثابت ہو اور ہم اور آپ بدستور ایک دوسرے کی رفاقت میں اپنا سفر جاری رکھ سکیں۔‘‘
لفافہ کھول کر میں نے مولانا صدر الدین صاحب کے جواب کی سرخی دیکھی۔ لکھا ہوا تھا ’’تعبیر کی غلطی کا ایک اجمالی جائزہ‘‘ جی چاہا کہ فوراً پڑھنا شروع کر دوں ۔ مگر مجھے اپنا وہ عہد یاد آیا جو میں نے اپنے خدا سے کیا تھا۔ میں فوراً اٹھا،کتابیں الماری میں رکھیں، کمرہ بند کیا اور قریب کی مسجد میں جا کر وضو کیا۔ دو رکعت نما ز پڑھی اس کے بعد بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ دعا کی:
’’خدایا! جو کچھ تیرے نزدیک حق ہے، اس کو مجھ پر واضح کر دے، میں پناہ مانگتا ہوں کہ اپنی عقل کے پیچھے بھٹکتا رہوں، یقینا ًایک روز ایسا آنے والا ہے، جب تیرے فرشتے، ایسے فرشتے جن کو میں لوٹانھیں سکتا، میرے پاس آئیں گے اور مجھ کو پکڑ کر تیرے پاس حاضر کر دیں گے، خدایا اس روز تو مجھ سے جو کچھ چاہے گا وہ مجھ کو آج ہی بتا دے، پردہ اٹھنے کے بعد میں جو کچھ دیکھوں گا وہ آج ہی مجھے دکھا دے‘‘۔
میں نے عہد کیا تھا کہ جب صدر الدین صاحب کا تبصرہ مجھے ملے گا تو پہلے میں دو رکعت نماز پڑھ کر خدا سے دعا کروں گا، اور پھر ا س کا مطالعہ کروں گا۔ چنانچہ اس عہد پر عمل کر لینے کے بعد اب میں نے اصل تحریر پڑھنی شروع کی، اور اس کو پہلی فرصت میں ختم کرڈالا۔ اس کے بعداس کو بار بار پڑھا۔ اس پر نوٹ تیار کیے، اس میں جو حوالے تھے ان کو نکال کر دیکھا یہاں تک کہ تحریر ملنے کے چوتھے دن یعنی2اگست کو میرے ذہن نے فیصلہ کر دیا کہ یہ تحریر نہایت ناقص ہے، اپنے خیالات پر میرا یقین بڑھ گیا۔ اور میں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ اس تبصرہ کے ذریعہ اس نے میرے ذہن کی مزید صفائی اور میرے خیالات کی مزید وضاحت کا انتظام فرمایا ہے۔
اس کے بعد 10 اگست کو بذریعہ خط میں نے امیر جماعت کو مطلع کیا کہ مولانا صدر الدین صاحب کے جواب سے میرے اصل نقطۂ نظر میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، اس کے جواب میں ان کا خط مؤرخہ13 اگست 1962ء ملا جو امیر جماعت کی خط و کتابت میں شامل ہے، اس خط کے مطابق میں نے مولانا صدر الدین صاحب کی تحریر کے بارے میں اپنے خیالات کا ایک خلاصہ امیر جماعت کے پاس بھیج دیا، یہ تبصرہ امیر جماعت کی وساطت سے مولانا صدر الدین صاحب کے علم میں بھی آ چکا تھا۔ مگر اس کے باوجود وہ اپنے جواب کی صحت پر مصر تھے اور میری بات کو بدستور غلط سمجھ رہے تھے۔ اس لیے میں نے چاہا کہ میں ان کے جواب پر اپنا مفصل تبصرہ ان کی خدمت میں روانہ کروں اور اس کے بعد وہ اپنے ان دلائل سے مجھے مطلع فرمائیں جن کی بنا پر وہ میرے جواب کو قابل رد سمجھتے ہیں، اس طرح دونوں کے لیے زیادہ تفصیل کے ساتھ ایک دوسرے کے نقطہ نظر پر غور کرنے کا موقع مل سکتا تھا۔
چنانچہ میں نے امیر جماعت کو لکھا کہ اگر مولانا صدر الدین صاحب میرے جواب پر تبصرہ کرنے کے لیے آمادہ ہوں تو میں ان کی تحریر کے بارے میں اپنا مفصل جواب لکھ کر روانہ کر دوں، میری درخواست پر امیر جماعت نے مولانا صدرالدین صاحب کو خط لکھ کر دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ وحید الدین خاں نے اپنے مختصر تاثرات میں اس سے پہلے جو طرز اختیار کیا تھا، اگر ان کے مفصل جواب کا طرز وہی رہتا ہے تو اس پر وہ تبصرہ کرنے سے معذور ہوں گے۔ (یہ مختصر تاثرات امیر جماعت کی خط و کتابت میں شامل ہیں)
یہ اطلاع مجھے امیر جماعت کے خط مورخہ13 اکتوبر 1962ء کے ذریعہ ملی۔ چنانچہ اس کے حوالہ سے میں نے مولانا صدر الدین صاحب کے نام حسب خط روانہ کیا :
اعظم گڑھ20 اکتوبر 1962 ء
محترمی! سلام مسنون
آپ کی تحریر کے جواب میں جو دوسری تحریر میں نے مرتب کی ہے، اس کی مکمل نقل بھیجنے کے سلسلے میں میں نے امیر جماعت کو لکھا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ جب میں اس کی نقل بھیجوں تو اس کو پڑھنے کے بعد آپ اپنے تاثرات سے بھی ضرور مجھے مطلع فرمائیں، اس سلسلے میں مجھے امیر جماعت کا ایک خط موصول ہوا جس میں وہ لکھتے ہیں:
’’جواب کے سلسلے میں مولانا صدر الدین صاحب سے میں نے معلوم کیا تھا وہ فرماتے ہیں کہ اگر ان کی تحریر کا جواب پڑھنے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ اس پر تبصرہ کرنا افادیت کا حامل ہو گا تو ان شاء اللہ تبصرہ کروں گا، لیکن اگر یہ جواب اس طرز کا ہوا جس طرز کا مختصر جواب وحید الدین خاں صاحب پہلے دے چکے ہیں، تو ایسے جواب پر کسی تبصرے سے مجھے معذور سمجھا جائے۔ان کی یہ بات معقول ہے، آپ اس سلسلے میں جو فیصلہ فرمائیں اس سے براہ راست ان کو مطلع کر دیں۔‘‘
مجھے افسوس ہے کہ میں امیر جماعت کی اس رائے سے اتفاق نہیں کر سکتا کہ آپ کی یہ’’بات معقول ہے‘‘۔ آخر میری مختصر تحریر میں وہ کون سا طرز تھا، جس کی بنا پر آپ اسے جواب دینے کے قابل نہیں سمجھتے، میں نے اس میں لفاظی نہیں کی ہے،بلکہ قطعی حقیقتیں پیش کی ہیں جن کے بارے میں آپ کو بہرحال کوئی نہ کوئی رائے دینی چاہیے۔ مثال کے طور پر اقیموالدین کی آیت کے سلسلے میں میں نے لکھا تھا کہ یہاں الدین سے مراد کل دین نہیں بلکہ اصل دین ہے اور اس کے لیے واضح قرائن موجود ہیں، چنانچہ مفسرین نے بالاتفاق یہی مراد لیا ہے، اس کے جواب میں آپ نے لکھا:
’’مفسرین کرام کا یہ خیال اگرچہ اپنی جگہ بالکل صحیح ہے کہ آیت کا اصل مدعا یہی ہے، مگر اس کے باوجود آیت کے منشا سے یہ مسئلہ بالکل خارج بھی نہیں ہے کہ اصل دین کے بعد تفصیلی پیروی کس شریعت کی جائے گی، بلکہ الذی اسم موصول خاص لا کر اللہ تعالیٰ نے اس سوال کے جواب کی طرف بھی اشارہ کر دیا ہے۔ چنانچہ جن علما کی نظر اس طرف جا سکی ہے انہوں نے ساتھ کے ساتھ اس حقیقت کی بھی وضاحت کر دی ہے کہ — اقامت دین کے اس حکم میں شریعت کے تفصیلی احکام بھی داخل ہیں اور پورے کے پورے داخل ہیں۔‘‘
اس سلسلے میں آپ نے جلالین کے دو شارحین کا حوالہ اپنے اس دعوے کی تائید میں پیش کیا ہے کہ وہ اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ کے اس حکم میں تمام کی تمام شریعت کو داخل مانتے ہیں، مگر جب میں نے اصل کتاب کی طرف رجوع کیا تو معلوم ہوا کہ آپ کے دونوں حوالے بالکل غلط ہیں۔ چنانچہ میں نے اپنے جواب میں دونوں شرحوں کی پوری متعلقہ عبارت نقل کر دی اور دکھایا کہ آپ کے اس دعوے کی حقیقت صرف یہ ہے ان دونوں حضرات نے جو بات الَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ کے فقرہ کے بارے میں کہی تھی، وہ بالکل غلط طور پر آپ نے اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ کے فقرے کے ساتھ جوڑ دی، حالانکہ دوسرا فقرہ جس کے بارے میں اصل بحث ہے، اس کے متعلق جلالین کے اصل متن اور اس کی دونوں شرحوں میں یہ صراحت موجود ہے کہ اس میں عموم مراد نہیں۔
اب ظاہر ہے کہ آپ کے لیے دو ہی راہ ہے، یا تو آپ اعتراف کریں کہ آپ سے حوالہ دینے میں غلطی ہوئی، یا یہ ثابت کریں کہ ان شرحوں کے بارے میں جو بات میں کہہ رہا ہوں وہ صحیح نہیں، ایسی سنگین بات کے سلسلے میں آپ کی خاموشی حیرت انگیز ہے۔ اگر ایسی باتیں بھی آپ کے نزدیک ناقابل جواب ہیں تو میں نہیں سمجھتا کہ وہ کون سی بات ہو گی جس کا جواب دینا آپ ضروری سمجھیں گے۔
میری مختصر تحریر میں جو طرز ہے وہ یہی ہے کہ مجھے دلیل کی بنیاد پر آپ کی باتیں غلط معلوم ہوئیں اور ان کو میں نے بے لاگ طور پر ظاہر کر دیا، اب اگر یہ طرز آپ کے نزدیک مناسب نہیں ہے تو اس کا دوسرا بدل یہی ہے کہ میں بے دلیل آپ کی باتیں مان لوں، لیکن اگر میں ایسا کر سکتا تو اس بحث و مباحثہ کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی۔
میں دوبارہ آپ سے گزارش کروں گا کہ آپ اپنے مذکورہ بالا فیصلہ کو واپس لے لیں اور مجھے اپنی اس آمادگی سے مطلع فرمائیں کہ آپ میرے جواب کو پڑھنے کے بعد اس کے بارے میں اپنے تاثرات سے مجھے مطلع فرمائیں گے تاکہ اس کی مکمل نقل آپ کی خدمت میں بھیجی جا سکے۔
خادم وحید الدین
