شعبۂ تصنیف سے استعفیٰ منظور ہونے کے بعد رام پور سے رخصت ہو کر میں اپنے وطن اعظم گڑھ چلا آیا۔ یہاں سے کچھ دنوں خطوط کاتبادلہ ہوتا رہا بالآخر میں نے حسب ذیل خط روانہ کیا۔
اعظم گڑھ، 15 اکتوبر 1962ء
اعظم گڑھ، 15 اکتوبر 1962ء
محترمی مولاناابواللیث صاحب سلام مسنون
گرامی نامہ مورخہ9 اکتوبر ملا۔ اس پر غور کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اس طرح کی جزئی بحثیں اگر میں نے جاری رکھیں تو وہ کبھی ختم نہیں ہوں گی۔ اس لیے مناسب یہی معلوم ہوتا ہے کہ اب تک کے غور و فکر کے بعد میں جس نتیجے پر پہنچا ہوں اس کو آخری طور پر آپ کے سامنے رکھ دوں۔
یہ حقیقت اب کافی کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ مجھ کو جماعت اسلامی کے انداز فکر سے اختلاف ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب میرے اور جماعت کے درمیان نظریاتی اتحاد کا رشتہ کمزور ہو چکا ہے۔ مگر اس کے بعد بھی دو امکانات ایسے تھے جن کی بنا پر میں اب بھی جماعت اسلامی سے وابستہ رہنے کے لیے سوچ سکتا تھا۔ مگر افسوس کہ یہ امکانات بھی اب باقی نہیں رہے۔
پہلی بات یہ کہ میں سمجھتا تھا کہ میرا نظریاتی اختلاف زیادہ تر صرف مولانامودودی کے لٹریچر سے ہے۔ ورنہ جہاں تک موجودہ ذمہ داروں کا تعلق ہے وہ میرے نقطۂ نظر سے بڑی حد تک اتفاق کریں گے۔ چنانچہ مولانا صدر الدین صاحب نے میرے اندازے کے خلاف مکمل طور پر میری تردید کی تو میں نے رام پورمیں ایک رفیق سے کہا کہ ’’مولانا نے اس میں صدرالدین اصلاحی کی حیثیت سے جواب نہیں دیا ہے بلکہ جماعت اسلامی کی وکالت کی ہے۔‘‘ اس کی ایک نمایاں مثال یہ ہے کہ اس سے پہلے تیسرا القرآن میں قاتِلوهُم حَتّى لا تَكونَ فِتنَةٌ کی تشریح میں انہوں نے مولانامودودی سے اختلاف کیا تھااور بعینہٖ وہی بات لکھی تھی جو میں نے اپنی تحریر میں پیش کی ہے۔ مگر اب جو میرا جواب دینے بیٹھے تو لفظ بلفظ مولانا مودودی کی حمایت کر دی (مقابلے کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن اور تیسیرا القرآن میں سورہ بقرہ کی آیت 193 کا حاشیہ)۔
مگر ظاہر ہے کہ یہ میرا ذاتی احساس ہے۔ ورنہ آپ حضرات نے اپنے جواب میں جو موقف اختیار کیا ہے، اسی کو مجھے آپ کا واقعی موقف سمجھنا چاہیے۔ اور اس لحاظ سے جب میںسوچتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ میرے لیے اب یہ گنجائش باقی نہیں رہی کہ میں مولانا مودودی کے لٹریچر سے اختلاف کے بعد اس بنیاد پر جماعت اسلامی ہند سے وابستہ رہوں کہ جہاں تک موجودہ ذمے داروں کا تعلق ہے وہ میرے نقطۂ نظر سے قریب ہیں۔ صدر الدین صاحب کا جواب جو آپ کی طرف سے مجھے دیا گیا ہے۔ اس نے میری اس خوش فہمی یا غلط فہمی کو مکمل طور سے ختم کردیا ہے۔
دوسری بات عملی صورت حال سے تعلق رکھتی ہے۔ ایسا ہوتا ہے کہ ذہنی اور فکری اختلاف کے باوجود دو اشخاص کسی مشترک مقصد کی خاطر مخلصانہ تعاون کے لیے آمادہ ہو جاتے ہیں۔ اور میں کسی بھی مرحلہ میں اپنے آپ کو اس کے لیے راضی کر سکتا تھا۔ مگر اب مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خلوص کی وہ فضا ہمارے اور آپ کے درمیان باقی نہیں رہی ہے جس میں اس طرح کا تعاون ہواکرتا ہے۔ اس سے پہلے مجھے اس سلسلے میں بعض زبانی رپورٹیں ملی تھیں، مگر میں نے کبھی انھیں اہمیت نہیں دی۔ لیکن اب مجھے ذاتی طور پر ایک ایسی تحریر ملی ہے جس کو کسی طرح نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ آپ کا وہ خط ہے جو آپ نے میری جوابی تحریر مولانا صدرالدین صاحب کے پاس بھیجتے ہوئے ان کے نام دہلی سے لکھا تھا۔ صدرالدین صاحب نے جب رامپورمیں مجھے میری تحریر واپس کی تو لفافہ کے اندر آپ کا وہ خط بھی پڑا ہوا تھا۔ یہ خط آپ کے ہاتھ سے پنسل سے لکھا ہوا ہے، اور اس کے ضروری حصہ کی نقل یہ ہے:
وحید الدین خاں صاحب کی تازہ تحریر بھیج رہا ہوں۔ اسے پڑھ کر مطلع فرمائیے کہ ابھی ان سے کچھ بات کرنے کی گنجائش ہے یا ان کو لکھ دیا جائے کہ ہم کو جو کچھ کرناتھا کر چکے۔ اب وہ اپنے لیے جو فیصلہ چاہیں کر لیں۔ مجھے تو اب ان کی طرف سے تقریباً مایوسی ہی ہے۔ مولانا جلیل احسن صاحب نے بھی مراسلت شروع کر دی ہے۔ لیکن اول تو مجھے یہ امید نہیں کہ خاں صاحب ان کے طرز یا طریق کی تاب لا سکیں گے۔ دوسرے وہ اب اس مرحلہ میں داخل ہو چکے ہیں جس میں کسی کی بھی بات شاید کچھ اثرانداز نہ ہو سکے۔ یوں بعد کو پلٹا کھائیں تو بات دوسری ہے۔ بہرحال میں نے جلیل احسن صاحب کو لکھ دیا ہے کہ جو کچھ ان کو پڑھانا لکھانا ہے، جلد اس سے فارغ ہو جائیں اور وحید الدین صاحب کو یہ کہ مراسلت کے لیے اعظم گڑھ جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بہتر یہ ہو گا کہ رام پور ہی میں رہ کر خط و کتابت کریں۔ دیکھیے کیا جواب دیتے ہیں، آپ کا جواب آنے پر پھر اس کے مطابق وحید صاحب کو خط لکھ دوں گا۔
)اقتباس خط مورخہ 28 اگست 1962ء(
آپ کا یہ خط میرے لیے کس قدر تکلیف دہ ہے میں اس کو بیان نہیں کر سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس خط نے خوش گمانی کی وہ تمام بنیادیں ڈھا دیں جو نظریاتی اختلافات کے باوجود میں نے آپ سے قائم کررکھی تھیں۔ انصر صاحب اور دیگر رفقاء جن سے میںرامپور میں قریبی تعلق رکھتا تھا، وہ گواہی دیں گے کہ میں آپ کے بارے میں کتنے اچھے خیالات رکھتا تھا۔ مگر افسوس کہ آپ کی اس تحریر نے ان تمام باتوں کی تصدیق کر دی جن کو میرے کان عرصہ سے سن رہے تھے۔ مگر میرا دل جن پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا تھا۔
کس قدر حیرت کی بات ہے کہ اس طویل مدت میں جب سے میری یہ بحث چل رہی ہے آپ نے ایک بار بھی اپنی اس حق پسندی اور خیرخواہی کا ثبوت نہیں دیا کہ آپ مجھے زبانی یا تحریری طور پرمطمئن کرنے کی کوشش کرتے۔ حتیٰ کہ اس سلسلے میں آپ کو میں نے آپ کا وہ وعدہ یاد دلایا جو آپ نے اپنے خط مورخہ 29 جنوری 1962ء میں کیا تھا، ’’رہا میری ذاتی رائے کا سوال تو اگر آپ اسے معلوم کرنا چاہیں گے تو تحریر پڑھنے کے بعد میں بے تکلف عرض کر دوں گا‘‘۔ پھر بھی آپ خاموش رہے۔ صدر الدین صاحب کی تحریر کے جواب میں جو کچھ میں نے لکھا اور اس میں جو صریح حقیقتیں میں نے پیش کیں، ان پر بھی میرے اصرار کے باوجود آپ نے قطعاً کوئی تبصرہ نہیں فرمایا۔ البتہ کیاتو یہ کہ جلیل احسن صاحب کو لکھ دیا کہ مجھے ’’پڑھانا لکھانا‘‘ شروع کر دیں۔ اس کے باوجود آپ میرے بارے میں وہ الفاظ لکھتے ہیں جو مذکورہ بالا خط کی ابتدا میں درج ہیں۔ پھر آپ کا یہ جملہ کہ ’’یوں بعد کو پلٹا کھائیں تو بات دوسری ہے‘‘۔ وہ تو اتنا سخت ہے کہ اس کو پڑھنے کے بعد مجھے ایسامحسوس ہوا گویا آپ نے مجھے ذبح کر دیا ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے میرے اندر یہ حس توزندہ نہیں ہے کہ حق سامنے آئے تو اسے پہچانوں اور اسے قبول کر لوں۔البتہ اس ذلیل حرکت کی ضرور آپ مجھ سے توقع رکھتے ہیں کہ ’’مصالح‘‘ کی بنا پر قلابازی کھاؤں اور جس چیز کے خلاف آج تنقید کررہا ہوں، اس کو محض کسی مفاد کے پیش نظر آئندہ بلادلیل قبول کر لوں۔ کاش آپ کا یہ خط دیکھنے کے لیے میں زندہ نہ رہتا، کاش میں اس سے پہلے مر چکا ہوتا۔
آپ کے اس خط پر میں جتنا غور کرتا ہوں میرے ان احساسات میں اضافہ ہی ہوتا جاتاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس میں نہ حق پسندی کا اظہار ہے اور نہ اپنے ایک رفیق کے بارے میں واقعی خیر خواہی کا۔ اس میں نہ جماعت کا درد نظر آتا ہے اور نہ اسلام کا۔ پھر جب میں سوچتا ہوں کہ میرے نام آپ کے خطوط اور مجھ سے آپ کی گفتگوؤں کا انداز اس سے بالکل مختلف رہا ہے جو صدرالدین صاحب کے نام آپ کے اس خط میں نظر آتا ہے تو مزید افسوس ہوتا ہے کیوں کہ دو عملی کا رویہ عام انسانی نقطۂ نظر سے بھی کوئی مناسب بات نہیں ہے۔
مندرجہ بالا وجوہ سے اب مجھے جماعت اسلامی ہند سے وابستگی کی کوئی بنیاد نظر نہیں آتی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آخری ٹھہراؤ جو میرے لیے ممکن ہو سکتا تھا وہ بھی اپنی جگہ سے ہٹ گیا ہے۔ اس لیے گزارش ہے کہ جماعت اسلامی کے ارکان کی فہرست سے میرا نام خارج کر دیں۔
مندرجہ بالا نظریاتی اختلاف اور بے اعتمادی کی فضا میں اب میرے لیے جماعت میں رہنے کا کوئی سوال نہیں ہے۔
وحید الدین
