ڈائری 1986

13 جولائی 1986

آج کل کچھ لوگ مجھے بے حد پریشان کیے ہوئے ہیں۔ ان باتوں کو سوچ کر اچانک میرا دل بھر آیا۔ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے اور میری زبان سے نکلا:

جنھوں نے سورج اور چاند کی بڑائی کی ان کو لوگوں نے اوتار بنا لیا۔جنھوں نے انسانوں کی بڑائی کی،ان کو اپنا بزرگ اور پیشوا بنا لیا۔جنھوں نے قوم اور ملک کی بڑائی کی ،ان کو اپنا لیڈر بنا لیا۔میں نے ہر ایک کو چھوڑ کر صرف خدا کی بڑائی کی تو سارے لوگ میرے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ کیسی عجیب ہے یہ دنیا جہاں ہر بڑائی لوگوں کو گوارا ہے، مگر ایک خدا کی بڑائی کسی کو گوارا نہیں۔

میرے اوپر کوئی شخص یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ میں نے اللہ کی وحدت میں کوئی کمی کی۔ اللہ کے رسول کو نہیں مانا۔ آخرت کے حساب کتاب کا انکار کیا۔ میرے اوپر سارا الزام صرف یہ ہے کہ تم ہمارے اکابر پر تنقید کیوں کرتے ہو۔مزید یہ کہ کوئی شخص آج تک یہ ثابت نہ کر سکا کہ میری تنقید قرآن و حدیث کے اعتبار سے غلط ہوتی ہے۔

کیسے عجیب ہوں گے وہ لوگ جن کے پاس بولنے کے لیے کچھ نہ ہو تب بھی وہ ضروری سمجھتے ہیں کہ بولیں۔ جو ایک بندہ کے اوپر دست درازی کا کوئی حق نہ رکھتے ہوں، پھر بھی وہ ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ اس پر لازماً دست درازی کریں۔

آہ، وہ انسان جو خدا کی پکڑ سے اتنا بھی نہیں ڈرتا، جتنا کوئی شخص چیونٹی کے کاٹنے سے ڈرتا ہے۔

14 جولائی 1986

12 اور 13 جولائی کو میں پٹنہ میں تھا۔ پٹنہ کے مدرسہ شمس الہدیٰ (قائم شدہ 1912) میں مجھے استقبالیہ دیا گیا۔ اس استقبالیہ کا آغاز اس جملہ سے ہوتا تھا ہم عظیم آباد کے اس تاریخی شہر میں اپنے مہمان خصوصی کا استقبال کرتے ہیں۔

اورنگ زیب (1618-1707)کے ایک پوتے کا نام شہزادہ عظیم (1664-1712)تھا۔ اسی کے نام پر پٹنہ کا نام عظیم آباد رکھاگیا تھا۔ مگر انگریزوں کے زمانے میں وہ دوبارہ پٹنہ بن گیا۔اس وقت سے آج تک تمام سرکاری کاغذات میں اس شہر کا نام پٹنہ ہی لکھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پٹنہ کسی’’ پٹن دیوی‘‘ کے نام سے ابتداء ًموسوم ہوا تھا۔

موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا یہ مزاج ان کے لیے غیر ضروری مسائل پیدا کرنے کا سبب بنا ہے۔ جس شہر کو ہندو متفقہ طور پر ’’پٹنہ‘‘ کہتے ہوں، اس کو’’ عظیم آباد‘‘ کا نام دینا غیر ضروری قسم کی نفسیاتی پیچیدگی پیدا کرنا ہے۔اور ایک طبقہ کو یہ کہنے کا موقع دینا ہے کہ مسلمان اس ملک میں دوبارہ اورنگ زیب کا عہد واپس لانا چاہتے ہیں۔

1971 میں، میں پاکستان گیا تھا اور لاہور میں ٹھہرا تھا۔ اس وقت معلوم ہوا کہ لاہور میں تقسیم سے پہلے ہندوؤں نے ایک کالونی بنائی تھی، جس کا نام انھوں نے کرشن نگر رکھا تھا۔تقسیم کے بعد مسلمانوں نے اس کا نام بدل کر اسلام نگر رکھ دیا۔دوسری طرف کشمیر میں ایک شہر ہے، جس کا پرانا نام اننت ناگ ہے۔اس کا نام بھی مسلمانوں نے بطور خود بدل کر اسلام آباد رکھ چھوڑا ہے۔ سرکاری کاغذات میں یہ شہر اننت ناگ کہا جاتا ہے اور مسلمانوں کے خودساختہ کاغذات میں اسلام آباد۔

مسلمانوں کا یہ معاملہ بھی عجیب ہے۔ وہ پاکستان میں بھی اسلام آباد بنانا چاہتے ہیں اور ہندستان میں بھی اسلام آباد۔ جو لوگ اتنے غیر حقیقت پسند ہوں، ان کے لیے موجودہ دنیا میں کوئی مستقبل مقدر نہیں۔

15جولائی 1986

ابوالبرکات علوی(نظام پور، اعظم گڑھ) دہلی آئے۔ ملاقات کے دوران انھوں نے ایک واقعہ بتایا۔ بابری مسجد کے مسئلہ پر ایک مولانا صاحب نے دھواں دھار تقریر کی۔ تقریر کےد وران انھوں نے بار بار پر جوش طور پر کہا

بابری مسجد آج خون مانگتی ہے۔

ابوالبرکات صاحب تقریر کے بعد ان سے ملے اور کہا کہ آپ نے جو کچھ فرمایا وہ درست ہے۔میں آپ سے صرف ایک سوال کرنا چاہتا ہوں۔آپ نے اپنی تقریر میں کہا کہ بابری مسجد خون مانگتی ہے۔ مجھ کو صرف اتنا اور بتا دیجیے کہ کس کا خون، آپ کے لڑکوں کا ،یا قوم کے لڑکوں کا۔اگر آپ اس کے لیے اپنے لڑکوں کا خون دینے کے لیے تیار ہوں تواس کے بعد میں بھی اپنے بچوں کا خون پیش کروں گا۔

یہ سن کر مولانا صاحب خاموش ہو گئے اور کچھ دیر کے بعد فرمایا کہ آپ الرسالہ تو نہیں پڑھتے؟

یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ الرسالہ نے پہلی بار قوم کو سوچنے سمجھنے کی طاقت دی ہے۔آج لوگ باشعور ہوتے جا رہے ہیں۔جب کہ اس سےپہلے قوم کے پاس بے شعوری کے سوا اور کوئی سرمایہ نہ تھا۔

ہمارے قائدین نے قوم کا ذہن اتنا بگاڑ دیا تھا کہ ہماری قوم سوچنے سمجھنے کی طاقت سے محروم ہو گئی تھی۔جذباتی ہنگاموں کا نام لوگوں کے نزدیک پروگرام تھا۔اور جوشیلے اشعار اور لفظی تقریروں کو لوگوں نے اسلامی فکر سمجھ لیا تھا۔ اللہ کا فضل ہے کہ اس نے الرسالہ کو نئے انقلاب کا ذریعہ بنایا۔

16 جولائی 1986

17جولائی 1986 کے اخبارات میں بیک وقت دو خبریں شائع ہوئی ہیں۔ ایک خبر میں نے ٹائمس آف انڈیا (15جولائی،ص 16) پر دیکھی۔اس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے احمد آباد کے فساد میں مسلمانوں کے قتل پر اظہار تشویش کیا ۔

دوسری خبر میرے سامنے انڈین اکسپریس(15جولائی،ص 7) ہے۔ اس میں ایک خبر ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ بنگلہ دیش میں اس وقت تین لاکھ کی تعداد میں بہاری مسلمان ہیں، جنہوں نے بنگلہ دیش کرائسس کے وقت اپنے کو پاکستانی لکھوایا تھا۔ وہ پاکستان جانا چاہتے ہیں، مگر پاکستان ان کو لینے سے انکار کر رہا ہے۔ ان ’’بہاری مسلمان‘‘ نے اولاً ہندستان چھوڑا۔ اس کے بعد وہ بنگلہ دیش کی شہریت سے محروم ہوئے اور اب پاکستان میں داخلے کی اجازت سے بھی محروم ہیں۔

ہندستان میں مسلمانوں کے ساتھ کوئی زیادتی ہو تو پاکستان کے لوگ زور و شور کے ساتھ اس کی مذمت کرتے ہیں۔دوسری طرف ان پاکستانیوں کا حال یہ ہے کہ وہ خود مسلمانوں کے ساتھ اس سے زیادہ بڑی بڑی زیادتیاں کر رہے ہیں جو ہندستان کر رہا ہے۔

جب میں اس قسم کی خبریں پڑھتا ہوں تو میرے اندر سخت اشتعال پیدا ہوجاتا ہے۔یہ بدترین جرم ہے کہ آدمی خود جس فعل میں مبتلا ہو اسی فعل کے لیے دوسروں کے خلاف چیخ پکار کرے اور اس کو اسلامی اخوت کا نام دے۔یہ کفر سے بھی زیادہ سنگین چیز ہے۔ کافر کھلم کھلا منکر حق ہوتا ہے اور یہ لوگ وہ ہیں جو کافرانہ فعل کرتے ہیں اور اس پر اسلام کا لیبل لگائے ہوئے ہیں۔

17جولائی 1986

ابو البرکات علوی( پیدائش 1929) دہلی آئے۔آج انھوں نے اپنا ایک واقعہ بتایا۔ وہ نومبر 1946 میں دیوبند گئے تھے۔ وہاں وہ مولانا حسین احمد مدنی کے مہمان رہے۔

یہ زمانہ وہ تھا جب کہ کانگریس اور مسلم لیگ کا جھگڑا اپنے عروج پر تھا۔مسلم لیگ کے آدمی مولانا حسین احمد صاحب کی مخالفت کر رہے تھے، بلکہ ان کے ساتھ انھوں نے ہر قسم کا ذلت آمیز سلوک بھی کیا تھا۔اشتعال انگیزی کی یہی فضا تھی جب کہ ابو البرکات صاحب نے دیوبند کا سفر کیا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ مولانا حسین احمد مدنی کے مہمان خانہ میں تھے۔مولانا اپنی چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ اس وقت ایک شخص آیا اور اس نے کہا:

’’مولانا ، قائداعظم جناح کا اللہ کے یہاں کیا حشر ہوگا؟‘‘

مولانا حسین احمد مدنی یہ سوال سن کر کچھ دیر چپ رہے ۔پھر فرمایا’’اگر اس کے ارادے نیک ہیں تو اس کا اجر بھی نیک ہوگا۔اور اگر اس کے ارادے نیک نہیں ہیں توا س کا اجر بھی نیک نہیں ہوگا‘‘۔

یہ مثال بتاتی ہے کہ سخت ترین اختلاف کی حالت میں بھی مومن کا طریقہ کیا ہوتا ہے۔ مومن اللہ سے ڈرنے والا انسان ہے۔ اس کو یقین ہوتا ہے کہ اس کا خدا اس کو دیکھ رہا ہے اور اس کے ہر قول و فعل کااس سے حساب لے گا۔یہ احساس اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ایک حد پر قائم رہے، وہ ہر حال میں انصاف کی بات کہے۔

مولانا حسین احمد مدنی صاحب مسٹر جناح کے سخت مخالف تھے۔ دونوں کے درمیان تعلقات اشتعال انگیزی کی حد تک خراب ہو چکے تھے۔ اس کے باوجود جب انھیں مسٹر جناح کے بارے میں بولنا ہوا تو وہ عبدیت کے دائرے میں رہ کر بولے۔اپنےناپسندیدہ شخص کے بارے میں بھی وہ انصاف کی حد سے باہر نہ جا سکے۔

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion