تزئین کیا ہے
ابلیس، انسان کا دشمن ہے۔قرآن میں بتایا گیا ہےکہ ابلیس (شیطان )نے آغاز ِانسانیت میں یہ چیلنج دیا تھا کہ وہ انسانی نسل کی اکثریت کو گمراہی میں ڈال دے گا ۔اس نے کہا تھا :
قالَ أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَاّ قَلِيلاً (17:62)یعنی، اس نے کہا، ذرا دیکھ، یہ شخص جس کو تو نے مجھ پر عزت دی ہے اگر تو مجھ کو قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں تھوڑے لوگوں کے سوا اس کی تمام اولاد کو کھا جاؤں گا۔
ابلیس کویہ اختیار نہیں کہ وہ انسان کے خلاف کوئی جارحانہ (aggressive) کارروائی کرے۔ ابلیس کے بس میں صرف ایک چیز ہے، اور وہ ہے انسان کے ذہن میں وسوسہ ڈالنا، انسان کو فکری اعتبار سے بہکانا۔ اس معاملے میں شیطان کا طریقہ کیا ہے۔ قرآن کے مطابق، وہ وسوسہ (الاعراف،7:20) اور تزئین (الحجر، 15:39)کا طریقہ ہے۔یعنی انسان کے خلاف ابلیس کی کارروائیاں ہمیشہ ذہنی سطح (intellectual level) پر ہوتی ہیں، نہ کہ جسمانی سطح (physical level) پر۔ اس لیے ابلیس کے فتنوں سے بچنے کے لیے انسان کو ذہنی تحفظ کی ضرورت ہے، نہ کہ جسمانی تحفظ کی۔
ابلیس کا وسوسہ اورتزئین کوئی یک طرفہ معاملہ نہیں،بلکہ وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ،دو طرفہ (bilateral) معاملہ ہے۔ ابلیس اپنے وسوسہ اور تزئین میں اس لیے کامیاب ہو تا ہےکہ وہ انسان کے اندر ایک کمزوری تلاش کرتاہے۔اس کمزوری کو تلاش کر کے وہ انسان کو بذریعہ وسوسہ اور تزئین گمراہی میں ڈال دیتا ہے۔کہا جاتا ہےکہ قانون داں (وکیل)قانون میں لوپ ہول تلاش کرکے اس کو استعمال کرتاہے:
Lawyers always exploit the legal loopholes.
یہی طریقہ ابلیس کا ہے۔ ابلیس چاہتاہےکہ وہ انسان کی سوچ اور جذبات میں ایک لوپ ہول تلاش کرے اور پھر اس لوپ ہول کو استعمال کر کے وہ انسان کو صحیح راستے سےبھٹکا دے۔
Satan always exploits the loopholes of human sentiments.
مثال کے طور پر ابلیس نے آدم کو بہکانے کے لیے جو طریقہ اختیار کیا تھا ،اس کا ذکر قرآن میں ان الفا ظ میں کیا گیا ہے:
فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ الشَّيْطانُ قالَ يَا آدَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لا يَبْلى(20:120)۔ یعنی، پھر شیطان نے ان کو بہکایا۔ اس نے کہا کہ اے آدم، کیا میں تم کو ہمیشگی کا درخت بتاؤں۔ اور ایسی بادشاہی جس میں کبھی کمزوری نہ آئے۔
اس سے معلوم ہوتاہےکہ ابلیس نے آدم کے اندر موجود خواہش ِابدیت کو استعمال کر کے ان کو بہکایا تھا۔یہاں ظاہر ہے کہ وسوسہ ایک غیر محسوس چیز ہے۔ وسوسہ کو چھوکر یا دیکھ کرنہیں جانا جاسکتا، وسوسہ کے شر سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنے عقل کو استعمال کرکے وسوسہ کو دریافت کرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے ذہن کو بیدار رکھے۔ اس کے بعد وہ اس قابل ہوجائے گا کہ وہ شیطان کے وسوسہ کا تجزیہ کرے اور اس طرح وہ اس سے متاثر نہ ہو۔ ایسے آدمی کی ذہنی بیداری اُس کو ایسے مواقع پر ابلیس سے محفوظ رکھنے کی ضامن بن جائے گی۔
