رسول کو ماننا

احد کی جنگ میں جب ایک غلطی سے مسلمانوں کو شکست ہوئی تو لوگ ادھر ادھر منتشر ہوگئے۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی عزم و توکل کے ساتھ اپنی جگہ قائم رہے۔ آپ کے ساتھ پندرہ افراد بھی تیروں اور تلواروں کی بارش میں جمے رہے۔ اس وقت ایک مشرک عبد اللہ بن قمیہ نے آپ پر پتھر سے حملہ کیا۔ یہ دیکھ کر آپ کے ساتھیوں میں سے حضرت مصعب بن عمیر اس کی طرف بڑھے۔ دونوں میں جنگ ہوئی ۔ عبد اللہ بن قمیہ نے حضرت مصعب بن عمیر کو قتل کر دیا ۔ اس نے سمجھا کہ یہ خود رسول اللہ تھے، اور اس نے آپ کو اپنی تلوار سے ہلاک کر دیا ہے۔چنانچہ وہ یہ کہنے لگا :قَتَلْتُ ‌مُحَمَّدًا (میں نے محمد کو قتل کردیا)۔ یہ خبر پھیلی تو مسلمانوں میں سے جو لوگ ادھر ادھر بکھر گئے تھے، وہ بھی اس سے متاثر ہوئے (سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ 73-78

 حضرت عبد اللہ بن عباس کی ایک طویل روایت ہے۔ اس میں یہ الفاظ آئے ہیں کچھ اہل نفاق نے کہا کہ اگر محمد قتل کر دیے گئے ہیں تو اب پہلے دین میں شامل ہو جاؤ۔ اس موقع پر سچے اہل ایمان نے ثابت قدمی کا ثبوت دیا۔ مثلاًحضرت انس بن نضر نے کہا :يَا قَوْم إِنْ كَانَ مُحَمَّدٌ قَدْ قُتِلَ، ‌فَإِنَّ ‌رَبَّ ‌مُحَمَّدٍ ‌لَمْ ‌يُقْتَلْ(تاریخ الطبری،جلد 2، صفحہ 520)۔ یعنی،اے لوگو، اگر محمد قتل کر دیے گئے ہیں تو محمد کا رب تو قتل نہیں ہوا۔

حضرت ثابت بن الدحداحہ نے کہا :إنْ ‌كَانَ ‌مُحَمّدٌ ‌قَدْ ‌قُتِلَ فَإِنّ اللهَ حَيّ لَا يَمُوتُ! فَقَاتِلُوا عَنْ دِينِكُمْ، فَإِنّ اللهَ مُظْهِرُكُمْ وَنَاصِرُكُمْ(مغازی الواقدی،جلد1، صفحہ 281)۔ یعنی، اگر محمد قتل کردیے گئے تو اللہ، بیشک زندہ ہے، تم اپنے دین کے لیے قتال کرو، اللہ تم لوگوں کا ہے۔ 

ایک روایت کے مطابق ایک انصاری نے کہا :إِنْ كَانَ مُحَمَّدٌ قَدْ قُتِلَ فَقَدْ بَلَّغَ، فَقَاتِلُوا عَنْ دِينِكُمْ(ا گر محمد قتل کر دیے گئے ہیں تو وہ اپنا دین پہنچا چکے تو اب تم اس دین کے لیے لڑو )۔اس پس منظر میں قرآن کی یہ آیت اتری:

‌وَما ‌مُحَمَّدٌ ‌إِلَاّ ‌رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلى أَعْقابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللهَ شَيْئاً وَسَيَجْزِي اللهُ الشَّاكِرِينَ(3:144)۔یعنی، محمد تو صرف ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے بہت سے رسول گزرچکے ہیں۔ پھر کیا اگر وہ مر جائیں یا قتل کردیے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے۔ اور جو شخص الٹے پاؤں پھر جائے تو وہ ہرگز اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا، اور اللہ شکر گزاروں کو بدلہ عطا فرمائے گا ۔

(دلائل النبوۃ للبیہقی،جلد2، صفحہ249

کچھ لوگ وہ ہیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حیثیت سے پہچانتے ہیں کہ انھوں نے دنیا کو فتح کیا۔ کچھ لوگ وہ ہیں جو آپ کو اس حیثیت سے پہچانتے ہیں کہ آپ نے لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا ۔حقیقی مومن وہ ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو شاہد، مبشر اور نذیر کے روپ میں پہچانے ۔ جو لوگ آپ کو فاتح کے روپ میں پہچانیں ان کی پہچان صرف مؤرخ کی پہچان ہے، نہ کہ مومن کی پہچان ۔

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion