متعصبانہ طرزِ فکر
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے۔ حضرت ابودرداء روایت کرتے ہیں، رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: حُبُّكَ الشَّيْءَ يُعْمِي وَيُصِمُّ (مسند احمد ، حدیث نمبر 21694)۔یعنی کسی چیز کی محبت تم کو اندھا اور بہرا بنادیتی ہے۔
اس حدیث میں حُبّ سے مراد سادہ طور پر صرف محبت نہیں ہے،بلکہ اس سے مراد غلوآمیز محبت ہے۔ اس حدیث میں حُبّ کے جس غیر مطلوب نتیجے کا ذکر ہے، اس کا تعلق غلوآمیزمحبت سے ہے، نہ کہ صرف محبت سے۔ غلو آمیز محبت آدمی کے اندر جو غیر مطلوب صفت پیدا کرتی ہے، وہ وہی چیز ہے جس کو متعصبانہ فکر (biased thinking)کہا جاتا ہے۔ یہی متعصبانہ فکر ہے، جو آدمی کو کسی چیز کے بارے میں اندھا اور بہرا بنادیتی ہے۔ مثلاً موجودہ زمانے میں قوم پرستی اس کا ایک ظاہرہ ہے۔ لوگوں کا حال یہ ہےکہ جب اپنی کمیونٹی اور دوسری کمیونٹی کا کوئی معاملہ پیش آجائے تو وہ اپنی کمیونٹی کی غلطی سمجھ نہیں پاتے۔ ان کا ذہن یہ بن جاتا ہےکہ میں ہر حال میں اپنی کمیونٹی کے ساتھ ہوں، خواہ وہ صحیح ہو یا غلط (my community, right or wrong)۔
اس متعصبانہ طرز فکر کے بیک وقت دو نقصان ہیں ۔ ایک یہ کہ خود آدمی کے اندر ابدی طور پر منفی سوچ (negative thinking) پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ اس صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہےکہ وہ چیزوں کو غیر جانبدارانہ انداز (impartial way)میں دیکھ سکے۔ دوسرا نقصان یہ ہےکہ وہ خود اپنی کمیونٹی کے لیے ایک برا قائد بن جاتا ہے۔ اختلافی معاملات میں وہ اپنی کمیونٹی کو صحیح رہنمائی نہیں دے پاتا۔
متعصبانہ طرز فکر ہر حال میں ایک تباہ کن طرز فکر ہے۔ ایسا آدمی اس سے محروم ہوجاتا ہےکہ وہ دنیا میں اس صالح فکری غذا کو لے سکے جو اس کے خالق نے اس کے لیے مہیا کر رکھا ہے، اور جس کو قرآن میں رزقِ رب کہا گیا ہے۔ رزقِ رب کا حصول اس دنیا میں ربّانی شخصیت کی تعمیر کے لیے ضروری ہے،لیکن اپنے اندر ربّانی شخصیت کی تعمیر کی سعادت صرف اس شخص کو ملتی ہے، جس کے اندر مثبت سوچ پائی جائے۔
