دفع کا قانون
قرآن کی دو آیتوں (البقرۃ،2:251؛ الحج، 22:40)میں دفع کا قانون بتایا گیا ہے۔دفع کا لفظی مطلب ہے ، ہٹانا (to repel)۔ خالق نے اس دنیا کو آزادی کے اصول پر بنایا ہے، اس بنا پر دنیا میں قوموں کے درمیان ہمیشہ مقابلے کا عمل جاری رہتا ہے۔ اس دوران ایک گروہ دوسرے گروہ کے اوپر غالب آجاتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو اور ایک گروہ کو مسلسل طور پر غلبہ کا موقع ملتا رہے،تو دنیا میں فساد پیدا ہوجائے۔ اس لیے خدا اس معاملے کو اس طرح مینج کرتا ہے کہ ایک گروہ اور دوسرے گروہ کے درمیان مقابلہ پیش آتا ہے۔ یہاں تک کہ جو گروہ مفسد گروہ ہوتا ہے، اس کو دوسرا گروہ ہٹا دیتا ہے، جو نسبتاً غیر مفسد گروہ ہوتا ہے۔ یہ عمل اگرچہ ارتقا کا عمل نہیں ہے، مگر وہ بقائے اصلح (survival of the fittest) کے مشابہ ہے۔
اصل یہ ہے کہ انسان کی پیدائش فطرت کے جس نظام کے تحت ہوئی ہے، اس کے مطابق، انسان کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ وہ مسلسل طور پر متحرک رہے۔ حرکت سے انسان کے اندر ترقی ہوتی ہے، اور ٹھہراؤ سے انسان کے اندر جمود (stagnation) آجاتا ہے۔جب کوئی انسانی گروہ ترقی کی انتہا کو پہنچ جائے تو اس کے اندر جمود آنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس بنا پر خالق نے یہ مقدر کردیا کہ انسان کو ہمیشہ شاک لگتا رہے۔ اس بنا پر انسان کے لیے شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) کا طریقہ مقرر کیا گیا۔دفع کا قانون گویا انسانی سماج کے لیے ایک شاک ٹریٹمنٹ ہے۔
یہ عمل اس طرح پیش آتا ہے کہ کچھ مصلحین یا منذرین اٹھتے ہیں ، وہ لوگوں کو ان کی غلطیوں سے آگاہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد یہ ہوتا ہے کہ صالح گروہ کو بقا مل جاتی ہے، اور دوسرا گروہ جو غیر صالح ہوتاہے، اس کو قیادت و غلبہ کے میدان سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ یہ عمل پوری انسانی تاریخ میں جاری رہا ہے۔
اس عمل کا پہلا مظاہرہ حضرت نوح کے زمانے میں ہوا۔ حضرت نوح نے اپنے زمانے کے لوگوں پر انذار کا عمل کیا۔ کچھ لوگوں نے پیغمبر نوح کی اصلاح کو قبول کیا، اور زیادہ تر لوگ بگاڑ پر قائم رہے۔ اس کے بعد ایک بڑا طوفان (Great Flood) آیا۔ اس طوفان میں مفسد لوگ ختم ہوگئے، اور جو لوگ نسبتاً صالح تھے، ان کو حضرت نوح نے کشتی پر سوار کیا۔ یہ کشتی عراق کے علاقے سے بہتی ہوئی ترکی کی سرحد پرارارات کے علاقے میں پہنچی ۔ یہ جگہ تین براعظموں کا سنگم تھی، ایشیا، افریقہ اور یوروپ۔
حضرت نوح کی کشتی یہاں رکی، اس کے بعد جو لوگ طوفان سے بچ گئے تھے، وہ کشتی سے نکل کر دھیرے دھیرے منتشر (disperse) ہوگئے۔ آخر کار یہ لوگ تین بر اعظموں ، ایشیا، افریقہ، اور یورپ میں بس گئے۔ ان لوگوں کے ذریعے ایک نئی نسل بنی، جو ان براعظموں میں پھیلی تھی۔ ان لوگوں نے انسانیت کی نئی تاریخ بنائی۔ یہ لوگ پیغمبر نوح کے تین بیٹوں، حام ،سام اور یافث کی نسل سے تھے۔
لیکن بعد کے زمانے میں ان لوگوں میں دوبارہ بگاڑ آیا۔یہی وہ زمانہ ہے، جس کے بارے میں حضرت ابراہیم نے ان الفاظ میں اشارہ کیا تھارَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيراً مِنَ النَّاسِ(14:36)۔ یعنی، اے میرے رب، انھوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کردیا۔
اس آیت کو سمجھنے کے لیے صحرائی زندگی کو سامنے رکھنا چاہیے ۔ صحرائی زندگی میں سورج ، چاند اور ستارے، بہت زیادہ روشن نظر آتے ہیں۔ اس سے انسان کے اندر روشن اجرام سماوی کے بارے میں تحیر کا مزاج (sense of awe) پیدا ہوا، اور انسانوں کے اندر وہ چیز پیدا ہوئی، جس کو تاریخ میں فطرت پرستی (nature worship) کہا جاتا ہے۔ اس دور سے فائدہ اٹھا کر وہ ظاہرہ پیدا ہوا، جس کو شرک کہا جاتاہے۔ یہیں سے بادشاہت وجود میں آئی۔ بادشاہوں نے فوج بناکر بزور اپنی حکمرانی قائم کرلی۔ بادشاہ لوگ اجرامِ سماوی کے حوالے سے اپنی مطلق حکمرانی (absolute sovereignty)کے دعویدار بن گئے۔
اپنی اس مطلق حکمرانی کے جواز کے لیے یہ نظریہ ایجاد کیا کہ جو بادشاہ کا دین ہے، وہی سب کا دین ہے۔بادشاہ کا دین ہی حکومت سے وفاداری کا نشان بن گیا۔ یہ تصور بڑھتے بڑھتے مذہبی جبر (religious persecution)کی شکل میں ہر جگہ قائم ہوگیا۔ شرک کو ختم کرنے کے لیے پہلے اگر تبلیغ کا عمل کافی ہوسکتا تھا، تو اب اس کو ختم کرنے کے لیے اس سے لڑنا ضروری ہوگیا۔
تاریخ کا یہی وہ موڑ ہے، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا کے حکم سے ایک نئی پلاننگ شروع کی۔ انھوں نے عرب کے صحرا میں ایک بے حد مشکل عمل شروع کیا، جس کو ڈیزرٹ تھرَپی (Desert Therapy)کہا جاسکتا ہے۔ انھوں نے اپنے بیٹے اسماعیل کو بے آب و گیاہ صحرا میں لاکر آباد کردیا۔ جو گویا کہ ان کو قربان کر دینے کے ہم معنی تھا۔ اس قربانی کو قرآن میں ذِبح عظیم (الصافات، 37:107) کہا گیا ہے۔ اس طرح صحرا میں ایک نئی نسل بننا شروع ہوئی، جو نیچر پرستی کی برائی سے پاک تھی۔
یہ وہی نسل تھی، جس میں چھٹی صدی عیسوی میں رسول اور اصحابِ رسول پیدا ہوئے۔ پھر ایسا ہوا کہ اپنے زمانے کی دو عظیم سپر پاوروں کے ساتھ ان کے ٹکراؤ کا واقعہ پیش آیا، جس میں وہ دونوں عظیم سلطنتیں ختم ہوگئیں۔ مگر ان کا خاتمہ قانونِ دفع کے تحت انجام پایا۔ کیوں کہ یہ دونوںسپر پاور اپنے زمانے میں مذہبی جبر (religious persecution) کا مرکز بنے ہوئے تھے۔ چنانچہ ان کے خاتمے کے بعد خدا نے رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے انسانی تاریخ میں وہ انقلابی پراسس جاری کیا، جس کا کلمینیشن(culmination) موجودہ زمانے کا جمہوری اور سائنسی انقلاب ہے۔
دفع کی ایک صورت وہ ہے، جب کہ دو فریقوں میں سے ایک کے ذریعہ دوسرے غالب فریق کو دنیا کی قیادت سے ہٹادیا جائے۔ دفع کی دوسری صورت یہ ہے کہ خود ایک ہی فریق کو بذریعہ اصلاح اس کی بے راہ روی سے ہٹا کر صحیح راستے پر لایا جائے۔
اس معاملے میں اصل اہمیت یہ ہے کہ جب کوئی نئی صورتِ حال پیش آئے تو انسان غیر جانب دارانہ تجزیہ کے ذریعے اس کی حقیقت کو دریافت کرے۔اس طرح اس قسم کے منفی واقعات اس کے لیے مثبت نتیجہ کا سبب بنیں گے۔ وہ بار بار اپنے عمل کی ری پلاننگ کرے گا۔اس کو اپنی غلطیوں سے اپنے لیے نیا ڈائریکشن (new direction) ملے گا۔ اس طرح ہر غیر مطلوب تاریخ کے بعد مطلوب تاریخ بنے گی، اور انسان کی تاریخ عملاً صحیح رخ پر سفر کرتی رہے گی، اور وہ بڑے بڑے نتائج تک پہنچے گی۔
