قربت ِخداوندی
قرآن کی سورۂ العلق میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے :
وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ (19:96)۔ یعنی، سجدہ کر اور میرے قریب ہوجا ۔
بندہ اورخدا کے درمیان قربت کی یہ بات ایک حدیث ِرسول میں ان الفاظ میں آئی ہے:أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ(صحیح مسلم ،حدیث نمبر482)۔ یعنی، انسان اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے، جب کہ وہ سجدے میں ہو ۔
بندہ اور خدا کے درمیان قربت کی یہ بات بائبل میں بھی آئی ہے۔عہد نامہ قدیم کے بارے میں زبور میں حضرت داؤد کی زبان سے آیا ہے ―لیکن میرے لیے یہی بھلا ہے کہ میں خدا کی نزدیکی حاصل کروں، میں نے خداوند کو اپنی پناہ گا ہ بنا لیا ہے
But it is good for me to draw near to God: I have put my trust in the Lord God. (Psalm, 73:28)
سورۂ العلق کی آیت اور صحیح مسلم کی حدیث میں سجدہ کا لفظ علامتی معنی میں ہے ،نہ کہ حقیقی معنی میں۔ سجدہ کی اصل حقیقت کا مل سپردگی (total submission)ہے۔ یہ سپردگی اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک داخلی کیفیت ہے۔معروف سجدہ اللہ کے لیے اسی داخلی سپردگی کی ایک خارجی علامت ہے۔ وہی سجدہ سجدہ ہے، جس میں یہ حقیقت پائی جا ئے ۔جو سجدہ اس حقیقت سے خالی ہو وہ صرف ایک بےروح رسم ہے، نہ کہ قربتِ خداوندی کا ایک زندہ تجربہ ۔
جب ایک شخص نماز اداکرتاہےتو آخر میں وہ اپنی پیشانی زمین پر رکھ دیتاہے، جس کو سجدہ کہا جاتاہے۔مگر نمازی اس سجدے سے پہلے اور بہت سے افعال کرتاہے۔ یہ تمام افعال دراصل پِری سجدہ (pre-sajdah)کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سجدے سے پہلے کیے جانے والے افعال گو یا سجدہ کی تیاری ہیں، اور سجدہ اس تیاری کا نقطۂ انتہا۔
