قومی بے عزتی یا محبت رسول
مولانا محمود حسن دیوبندی (وفات1920)دارالعلوم دیوبند میں شیخ الحدیث تھے۔ ایک بار جب وہ صحیح بخاری کا درس دے رہےتھے۔ ایک حدیث کی تشریح کے دوران انھوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ مسلمان رسول کی بے حرمتی کے نام پر سخت مشتعل ہو جاتے ہیں۔ اس کا سبب بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ رسول کی بے حرمتی یا سُبکی جو مسلمانوں کے لیے نا قابلِ برداشت بن جاتی ہے، اس کی وجہ رسول کی محبت تو نہیں ہو سکتی ۔درحقیقت رسول کی سُبکی میں اپنی سُبکی کا غیر شعوری احساس پوشیدہ ہوتا ہے۔ مسلمانوں کی خودی اور انانیت مجروح ہوتی ہے، ہم جس کو اپنا پیغمبر اور رسول مانتے ہیں۔ تم اس کی اہانت نہیں کرسکتے۔ چوٹ درحقیقت اپنی اسی ’’ہم‘‘ پر پڑتی ہے، لیکن مغالطہ یہ ہوتا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نے انتقام پر آمادہ کیا ہے، نفس کا یہ دھوکہ ہے۔( احاطہ دارالعلوم میں بیتے ہوئے دن از مولانا مناظر احسن گیلانی، صفحہ153-155)
اصل یہ ہے کہ مسلمانوں نے شعوری یا غیر شعوری طور پر رسول کو اپنا قومی فخر بنا رکھا ہے۔ اس لیے جب کوئی شخص کوئی ایسی بات کہے جو مسلمانوں کے نزدیک رسول کی اہانت کے ہم معنی ہوتو وہ اس کو اپنی قومی بے عزتی سمجھ لیتے ہیں۔ ایسے کسی واقعے پر مسلمانوں کے قومی فخر کےجذبات بھڑک اٹھتے ہیں، اور وہ ہنگامے کرنے لگتے ہیں۔ مگر اس قسم کے ردّ عمل کا تعلق نہ اسلام سے ہےاور نہ عقل سے ۔اسلام سے اس کا تعلق اس لیے نہیں ہے کہ اسلام میں دعوت کی تعلیم دی گئی ہے، یعنی کوئی شخص منفی بات بولے تب بھی اس کو ایسا انسان سمجھنا چاہیے جو سچائی سے بے خبر ہو۔ چنانچہ یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ایسے انسان کو دشمن سمجھنے کے بجائے اس کےسامنےدینِ حق کا پیغام پرامن انداز میں رکھاجائے۔ اور اس قسم کا ردّ عمل عقل پر مبنی اس لیے نہیں ہے کہ کسی شخص کے منفی کلام کا تعلق آدمی کی فطری آزادی سے ہے، جو کہ خدائی منصوبۂ تخلیق کے تحت اس کو اللہ کی طرف سے ملی ہوئی ہے۔ چونکہ مسلمان اس منصوبۂ تخلیق کو منسوخ نہیں کر سکتے۔ اس لیے اہانت جیسے واقعات کا خاتمہ بھی ان کے لیے ممکن نہیں۔ اِس طرح کے معاملے میں مسلمانوں کے لیے کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ وہ غصہ اور نفرت میں مبتلا نہ ہوں، بلکہ وہ ایسے لوگوں کے حق میں ہدایت کی دعا کریں اور پُر امن اندازی میں حکمت اور خیرخواہی کے ساتھ ان کو اللہ کا پیغام پہنچائیں۔
