عدل وانصاف

حضرت عمر بن عبد العزیز (62-101ھ ) پانچویں خلیفہ راشد ہیں ۔ آپ کے خادم ابو امیہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک روز آپ کی اہلیہ سے کہا کہ مسور کی دال کھاتے کھاتے میرا برا حال ہو گیا ہے۔ خاتون نے جواب دیا:تمھارے خلیفہ کا بھی روز کا کھانا یہی ہے۔ آپ سے پہلے خلیفہ کی حفاظت کے لیے ایک سو سپاہی مقرر تھے ، جب آپ خلیفہ ہوئے تو آپ نے سب کو دوسرے سر کاری کاموں میں لگا دیا اور فرمایا:میری حفاظت کے لیے قضاو قدر ہی کافی ہے۔ یہ اس شخص کا حال تھا جس کی سلطنت کے حدود سندھ سے لے کر فرانس تک پھیلے ہوئے تھے۔

آپ کی خلافت کے زمانہ کا واقعہ ہے کہ سمر قند کے باشندوں کا ایک وفد آیا ۔ اس نے ایک فوجی سردار قتیبہ بن مسلم باہلی کے بارے میں یہ شکایت کی کہ اسلامی قاعدہ کے مطابق انھوں نے ہم کو پیشگی تنبیہ نہیں کی اور ہمارے شہر میں اچانک اپنی فوجیں داخل کر دیں ۔ لہٰذا ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے ۔ سمر قند کی فتح حضرت عمر بن عبد العزیز سے پہلے ہوئی تھی ۔ اور اب اس پر سات سال گزر چکے تھے ۔ مگر آپ نے انصاف کے تقاضے کو پورا کرنا ضروری سمجھا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے عراق کے حاکم کو لکھا کہ سمر قند کے لوگوں کے مقدمہ کی سماعت کے لیے ایک خصوصی قاضی مقرر کریں ۔ عراق کے حاکم نے فوراً حکم کی تعمیل کی اور جمیع بن حاضر الباہلی کو اس کا قاضی مقرر کیا۔ ان کی عدالت میں مقدمہ پیش ہوا ۔ دونو ں فریق نے آزادانہ طور پر اپنے اپنے دلائل پیش کیے ۔ آخر میں قاضی نے سمر قندوالوں کی شکایت کو درست قرار دیتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ — مسلمانوں کی فوج سمر قند کو چھوڑ کر باہر آجائے اور اہلِ سمر قند کو ان کا قلعہ اور تمام دوسری چیزیں واپس کر دی جائیں ۔ اس کے بعد اسلامی قاعدہ کے مطابق مسلمانوں کا فوجی سردار ان کے سامنے ضروری شرطیں پیش کرے ۔ اگر وہ تمام شرطوں کو ماننے سے انکار کر دیں تو پھر اس کے بعد ان سے جنگ کی جائے ۔

اسلامی فوج اس وقت فاتحانہ حیثیت رکھتی تھی۔ اس نے چین جیسے ملک کے بادشاہوں کو بھی ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا تھا ۔ مگر جب قاضی نے اپنا فیصلہ سنایا تو اسلامی فوج کے سردار نے کسی بحث کے بغیر اس کو مان لیا ۔ اس نے فوراً حکم دیا کہ پوری فوج سمر قند چھوڑ کر نکل آئے ۔ تاہم اس پر عمل درآمد کی نوبت نہیں آئی۔ سمر قند کے لوگوں نے جب دیکھا کہ مسلمان اس قدر با اصول اور انصاف پسند ہیں تو وہ حیران رہ گئے۔ اس سے پہلے انہوں نے کبھی ایسے بے لاگ انصاف کا تجربہ نہیں کیا تھا۔ انھوں نے محسوس کیا کہ مسلم فوج کا آنا ان کے لیے رحمت کا آنا ہے۔ چنانچہ انھوں نے اپنی مرضی اور خوشی سے مسلم حکومت کو قبول کر لیا۔ وہ کہہ اٹھے:خوش آمدید ، ہم آپ کے مطیع وفرماں بردار ہیں۔ مرحبا  (سمعنا واطعنا، فتوح البلدان للبلاذری

یہ واقعہ عدل وانصاف کا جو نمونہ پیش کر رہا ہے ۔ اس کی مثال ساری تاریخ میں مشکل سے ملے گی ۔ اس واقعہ میں عدل وانصاف کا اصول اپنے آخری اعلیٰ مقام پر نظر آتا ہے ۔ عدل بلا شبہ انسانی زندگی کی بلند ترین قدر ہے ، او ر یہ واقعہ اس قدر کے اعتراف کی بلند ترین عملی مثال۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion