ترقی اور اتحاد
آج کل جو چیز سب سے زیادہ بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے وہ قومی ایکتا (کلچرل انٹگریشن ) ہے۔ وسیع تر معنوں میں اس کو انسانی ایکتا بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ یہ ایکتا آج ہماری بہت بڑی ضرورت ہے۔ اسی پر ملک کی ترقی اور کامیابی کا دارومدار ہے۔ مگر اس معاملہ میں بولنے والے جو کچھ بول رہے ہیں یا لکھنے والے جو کچھ لکھ رہے ہیں ان کو دیکھ کر مجھے ایسا لگتا ہے کہ اس بارے میں لوگوں کا ذہن صاف نہیں کہ وہ جو کچھ چاہتے ہیں اس کو حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے۔
اکثر لوگوں کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ نیشنل انٹگریشن کا ذریعہ کلچر ل انٹگریشن ہے۔ یعنی لوگوں میں ایکتا پیدا کرنے کی تدبیر یہ ہے کہ ان کا کلچر ایک کر دیا جائے ۔ زبان، مذہبی رسوم ، لباس، تیو ہار، شادی بیاہ، اس قسم کی تمام چیزوں کو سب کے لیے یکساں اور مشترک بنا دیا جائے ۔ اس طرح لوگوں کے اندر وہ ایکتا یا انٹگریشن پیدا ہو جائے گا جس کی ہمیں ضرورت ہے۔
مگر اس تجویز کو میں ایسا ہی سمجھتا ہوں جیسے کسی ملک میں تمام باشندوں کے درمیان اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کے لیے یہ تجویز پیش کی جائے کہ پلاسٹک سر جری کے ذریعہ تمام انسانوں کو ایک نقشہ کا بنا دیا جائے۔ جس طرح یکساں قسم کی پلاسٹک سرجری کے ذریعہ مختلف قسم کے لوگوں میں اتحاد پیدا نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح مذکورہ قسم کی تدبیروں سے قومی ایکتا یا نیشنل انٹگریشن بھی پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ قومی ایکتا کا راز ایک کلچر میں نہیں ہے بلکہ ایک ذہن میں ہے۔ اس مقصد کے لیے ہمیں لوگوں کے اندر اس کے موافق سوچ پیدا کرنی ہو گی۔ پلاسٹک سرجری جیسا کوئی عمل ظاہری نقشہ کو بدل سکتا ہے مگر وہ اندرونی سوچ کو نہیں بدل سکتا ۔ اور محض ظاہری چیزوں کو ایک کر دینے سے کبھی حقیقی ایکتا نہیں آسکتی۔
