تنوع کا اصول
جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں اس کا نظام تنوع اور رنگا رنگی کے اصول پر قائم ہے ۔ یہی تنوع انسانوں کے درمیان بھی مطلوب ہے ۔ ہمیں انسانوں کے درمیان یہ مزاج بنانا چاہیے کہ وہ اختلاف کے باوجود متحد ہوں ، وہ مختلف اور متنوع انسانوں کے ساتھ مل کر زندگی گزارنا سیکھیں ۔ انسانی ایکتا قائم کرنے کے لیے فرق کو مٹانا قدرت کے نظام کے خلاف ہے ، اس لیے وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔
مثال کے طور پر جانوروں کو لیجیے ۔ جانور کی ایک ملین سے بھی زیادہ قسمیں دنیا میں پائی جاتی ہیں اور ہر ایک کا ایک کام ہے جو اسی کے ساتھ مخصوص ہے ۔ یہاں زمین پر رینگنے والے کیڑوں کی بھی ضرورت ہے جو گندی اور بیکار چیزوں کو (decompose) کر کے ہماری فضا کو برابر پاک صاف کرتے رہتے ہیں یہاں بیل کی بھی ضرورت ہے جو ہمارے کھیت کو جوتے اور گھوڑے کی بھی ضرورت ہے جو ہماری سواری کے کام آئے ۔ ایک طرف اگر یہاں چڑیوں کی ضرورت ہے جو چہچہائیں ، تو دوسری طرف گدھے کی بھی ضرورت ہے کہ جب وہ چیخے تو آپ سوچیں کہ مجھے اس طرح چیخ کر نہیں بولنا چاہیے ۔
یہی معاملہ تمام دوسری چیزوں کا ہے ۔ اس دنیا میں بے حساب تنوع اور رنگا رنگی ہے ۔ اس تنوع پر اس کا سارا نظام چل رہا ہے ۔ اسی پیٹرن پر انسانوں کے پیدا کرنے والے نے انسانوں کے اندر بھی فرق اور تنوع رکھا ہے ۔ اس تنوع کو باقی رکھنے ہی میں انسانیت کی ترقی اور کامیابی ہے ۔ اس تنوع کو ختم کرنا ایسا ہی ہے جیسے انسانوں کو یکساں قد کا بنانے کے لیے لوگوں کو نیچے اوپر سے تراش کر برابر کیا جانے لگے۔
