حد بندی کا نظام
کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں حد بندی کا نظام قائم ہے ۔ ہر چیز اپنے متعین دائرہ میں رہ کر اپنا کام کرتی ہے ، وہ اپنے دائرہ سے نکل کر دوسرے دائرہ میں داخل نہیں ہوتی ۔ یہی بات قرآن میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے:اور سورج اپنے مستقر پر چلتا ہے ، یہ زبردست علم والے کا باندھا ہوا اندازہ ہے ۔ اور چاند کے لیے منزلیں مقرر ہیں ۔ یہاں تک وہ ایسا رہ جاتا ہے ۔ جیسے کھجور کی ٹہنی ۔ نہ سورج کی مجال ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے ۔ سب ایک ایک دائرہ میں چل رہے ہیں (یٰس36:38-40)۔
ان آیتوں میں اس فلکیاتی حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اس کائنات کے تمام گھومنے والے ستارے اور سیارے حد درجہ صحت کے ساتھ اپنے اپنے مدار (orbit) میں گھومتے ہیں۔ وہ کبھی اپنی حد کو چھوڑ کر دوسرے کی حد میں داخل نہیں ہوتے۔
یہی حد بندی انسان سے بھی مطلوب ہے ۔ چنانچہ قرآن میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ کی قائم کی ہوئی حدوں کی خلاف ورزی کریں وہ اللہ کی نظر میں ظالم ہیں ۔ وَمَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللہِ فَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ (البقرۃ 2:229)۔
یہی بات حدیث میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے:وَحَدَّ حُدُودًا فَلَا تَعْتَدُوهَا (المعجم الکبیر للطبرانی،حدیث نمبر 589)۔ یعنی، اور اللہ نے حدیں قائم کر دی ہیں تو تم ان حدوں کی خلاف ورزی نہ کرو۔ ایک اور حدیث میں اس بات کو مثال کے ذریعے اس طرح واضح کیا گیا ہے:
مَثَلُ الْمُؤْمِنِ وَمَثَلُ الْإِيمَانِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ فِي آخِيَّتِهِ يَجُولُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى آخِيَّتِهِ (مسند احمد ، حدیث نمبر 11526)۔ یعنی، مومن کی مثال اور ایمان کی مثال ایسی ہے جیسے گھوڑا جو اپنی رسی میں بندھا ہوا ہو۔ وہ گھومتا ہے پھر وہ اپنی رسی کی طرف لوٹ آتا ہے ۔
ایک گھوڑے کی گردن میں 5 میٹر کی رسی ہو، وہ رسی ایک کھونٹے سے بندھی ہوئی ہو تو گھوڑا اپنی عادت کے مطابق چارون طرف گھومے گا مگر وہ رسی کی لمبائی سے زیادہ نہ جا سکے گا۔ رسی اگر 5میٹر کی ہے تو اس کی حرکت کا دائرہ بھی 5 میٹر تک محدود رہے گا۔
آسمان کے ستارے ایک ان دیکھی رسی میں بندھے ہوئے ہیں جو انھیں ان کے مقرر مدار (orbit) سے باہر نہیں جانے دیتی ۔ اسی طرح انسان کو بھی ایک اخلاقی رسی میں باندھا گیا ہے۔ یہ رسی صحیح اور غلط کی رسی ہے ۔ اس کو صحیح کام کرنا ہے مگر غلط کام کی طرف قدم نہیں بڑھانا ہے۔ انسان کو انصاف پر قائم رہنا ہے ، اس کو ظلم کرنے کی اجازت نہیں ۔ اس کو جب بولنا ہے ، سچ بولنا ہے ۔ جھوٹ بولنا اس کے لیے جائز نہیں ۔ اس کو اپنی ترقی اور کامیابی کے لیے سر گرم ہونے کی اجازت ہے مگر اس کو یہ اجازت نہیں کہ وہ دوسرے کو نقصان پہنچانے کی قیمت پر اپنے لیے فائدہ حاصل کرے ۔
یہ حقیقت ایک لطیفہ میں بہت اچھی طرح واضح ہوتی ہے ۔ ایک ملک کا واقعہ ہے ۔ اس کو بیرونی اقتدار سے آزادی ملی ۔ اس کے بعد وہاں کا ایک شہری سڑک پر نکلا۔ وہ خوشی سے جھومتا ہوا جا رہا تھا اور اپنے دونوں ہاتھ زور زور سے ہلا رہا تھا۔ اس دوران اس کا ہاتھ ایک راہگیر کی ناک سے ٹکرا گیا۔ راہگیر نے غصہ ہو کر پوچھا کہ تم اس طرح ہاتھ ہلاتے ہوئے کیوں چل رہے ہو۔ آہستگی کے ساتھ کیوں نہیں چلتے۔ شہری نے کہا کہ آج میرے ملک کو آزادی مل چکی ہے ۔ اب میں آزاد ہوں کہ جو چاہوں کروں ۔ راہگیر نے آہستگی کے ساتھ جواب دیا کہ تمہاری آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے :
Your freedom ends where my nose begins
اس دنیا میں ہر آدمی کو عمل کی آزادی ہے ۔ مگر ایک شخص کو اپنا ’’ہاتھ ‘‘ ہلانے کی آزادی وہیں تک ہے جہان وہ دوسرے کی ’’ناک ‘‘ سے نہ ٹکرائے ۔ جیسے ہی دوسرے شخص کی ناک سے ٹکرانے کی حد شروع ہو، وہیں ہاتھ ہلانے والے کی آزادی کی حد بھی ختم ہو جائے گی ۔
