ہمارے لیے سبق
ہندستان کے حالات نے اگرچہ اس کی اجازت نہ دی کہ یہاں کوئی شخص ’’ ہٹلر ‘‘ بن سکے۔ مگر ایک اعتبار سے ہمارے اکثر لیڈر ہٹلر ہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ۔ ہمارے ملک کے بیشتر لیڈر خواہ وہ کمیونٹی لیڈر ہوں یا قومی لیڈر ، یہی کرتے رہے ہیں کہ وہ فرقہ یا قوم کو پیش آنے والی کسی مصیبت کو لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ وہ بگڑے ہوئے حالات کی پوری ذمہ داری وقت کی حکومت پر ڈال کر اس کے خلاف دھواں دھار تقریریں شروع کر دیتے ہیں ۔ جلسہ ، جلوس، اخباری بیانات کا ہنگامہ کھڑا ہو جاتا ہے ، اور ان سب کا رخ ہمیشہ حکومت وقت کی طرف ہوتا ہے ۔
عوام اپنی مخصوص نفسیات کی بنا پر جوق در جوق ایسے لیڈروں کا ساتھ دیتے ہیں ۔ ان کے گرد بہت جلد عوام کی بھیڑ جمع ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ وقت کی حکومت کا خاتمہ کر دیں ۔ مگر اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے وہ یہ کہ حالات پہلے سے بھی زیادہ بد تر ہو جاتے ہیں ۔ کسی کا یہ قول اس قسم کے تمام انقلابات پر صادق آتا ہے کہ انقلاب اس بات کی ایک کامیاب کوشش ہے کہ ایک بری حکومت کو ختم کر کے اس سے بھی زیادہ بری حکومت کو اپنے اوپر مسلط کر لیا جائے ۔
A revolution is a successful effort to get rid of a bad government and set up a worse.
