دوسری مثال

ایک طرف ہٹلر کی یہ تاریخ ہے۔ دوسری طرف اسی یوروپ میں برطانیہ کی ایک تاریخ ہے۔ برطانیہ میں اس کے بالکل بر عکس انداز میں ایک ’’پارٹی‘‘ بنی۔ جو عام طور پر فیبین سوسائٹی کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس کا طریقہ فکر اور اس کا انداز اس سے مختلف تھا جو ہٹلر کا اور اس کی نیشنل سوشلست (نازی ) پارٹی کا تھا۔ فیبین سوسائٹی برطانیہ میں کبھی عوامی مقبولیت حاصل نہ کر سکی مگر اس نے برطانیہ کے لیے جو کام کیا وہ نازی پارٹی کے مقابلہ میں ہزاروں گنا زیادہ اہم تھا۔

فیبین سوسائٹی لندن میں 1883میں قائم ہوئی ۔ اس کا مقصد سرمایہ دار انہ نظام کی برائیوں کو دور کرنا تھا۔ اس سوسائٹی میں ابتداء ً جو لوگ شریک ہوئے ان میں سے ایک جارج برنا رڈ شاہ (1856-1950) تھا۔ برناڈشا اپنے اندر عوام پسند تقریر کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ چنانچہ اس کی تقریروں نے اس تحریک کے گرد ایک بھیڑ جمع کر دی۔ نوجوان برنارڈ شا نے اس کے بعد عوامی مظاہرہ کا منصوبہ بنایا اور اپنے ساتھیوں کو لے کر ایک جلوس نکالا۔ اس جلوس میں زیادہ تر درمیانی طبقہ کے لوگ شامل تھے۔ یہ لوگ جب مارچ کرتے ہوئے لندن کے ان علاقوں میں پہنچے جہاں بڑے بڑے دولت مند رہتے تھے تو ان کے کچھ افراد تشدد پر اتر آئے اور توڑ پھوڑ کرنے لگے ۔

اس پہلے تجربہ کے بعد ہی فیبین سوسائٹی کے رہنما جلوس اور مظاہرہ کے سخت مخالف ہو گئے انھوں نے کہا کہ عوام کو ’’پر امن مظاہرہ‘‘ کا پابند رکھنا انتہائی حد تک مشکل ہے۔ اس لیے ہم اپنی اصلاحی جدوجہد کو مظاہرہ کے بغیر چلائیں گے۔ اس کے بعد فیبین سوسائٹی پریس، اجتماعات، علمی ریسرچ وغیرہ جیسے غیر مظاہراتی طریقوں کی پابند رہ کر کام کرنے لگی۔ فیبین سوسائٹی نے تدریجی طریقہ کار کی ناگزیریت (Ineviableness of gradualism) پر زور دیا۔ اس تحریک کے لوگ سوشلزم کو مانتے تھے مگر وہ ارتقائی سوشلزم کا عقیدہ رکھتے تھے نہ کہ انقلابی سوشلزم کا:

The Fabians put their faith in evolutionary socialism rather than in revolution (4/20).

غیر مظاہراتی طریق عمل اختیار کرنا کوئی آسان کام نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ موجودہ دنیا کا مشکل ترین کام ہے ۔ اس کام میں اپنے آپ کو روکنا پڑتا ہے ۔ تو سیع کے بجائے استحکام پر قانع ہونا پڑتا ہے ۔ شہرت اور مقبولیت کے مواقع ہوتے ہوئے اپنے آپ کو گمنامی میں دفن کرنے کے لیے راضی ہونا پڑتا ہے ۔ چنانچہ فیبین سوسائٹی کے ساتھ یہ سب کچھ پیش آیا ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ فیبین سوسائٹی نے برطانیہ میں ایک زبردست تاریخ بنائی۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ برطانی عظمت کو قائم کرنے کے لیے اس کے رہنماؤں کو اپنی ذاتی عظمت سے دست بردار ہو جانا پڑا۔

اپنے معتدل طرز فکر اور اپنے غیر عوامی طریق کار کی فیبین سوسائٹی کو یہ قیمت دینی پڑی کہ وہ کبھی برطانیہ کی مقبول عام تحریک نہ بن سکی۔ 1946کا زمانہ اس کا عروج کا زمانہ شمار کیا جاتا ہے ۔ مگر اس عروج کے زمانہ میں بھی فیبین سوسائٹی کے ممبروں کی تعداد 8400 سے زیادہ نہ تھی ۔ وہ ہمیشہ ’’خواص ‘‘ کی تحریک شمار کی جاتی رہی ۔

تاریخ بتاتی ہے کہ فیبین سوسائٹی نے اپنی خاموش فکری سرگرمیوں کے ذریعہ برطانیہ کے ذہنی طبقہ پر گہرا اثر ڈالا ۔ ملک کی عام آبادی میں اس کے ارکان کی تعداد اگرچہ ایک فی صد سے زیادہ نہ تھی ۔ مگر اعلیٰ ترین اذہان کی قابل لحاظ تعداد اس سے متاثر ہو گئی ۔ چنانچہ اس کے ممبروں کی فہرست میں جارج برناڈشا، سڈنی ویب اور کلیمنٹ اٹیلی جیسے لوگوں کے نام شامل ہیں ۔

فیبین سوسائٹی کے ارکان اگلے مرحلہ میں برطانیہ کی لیبر پارٹی میں شریک ہوگئے۔ یہ لوگ لیبر پارٹی میں اس حد تک دخیل ہوئے کہ وہ اس کا دماغ بن گئے ۔ چنانچہ 1945 کے انتخابات میں لیبر پارٹی برطانیہ میں برسر اقتدار آئی تو اس کے ممبرانِ پارلیمنٹ کی نصف تعداد وہ تھی جو فیبین سوسائٹی سے تعلق رکھتی تھی ۔ پارٹی کے لیڈر کلیمنٹ اٹیلی بھی اس کے ایک ممبر تھے ۔ فیبین سوسائٹی ملک کی مجموعی آبادی میں بمشکل ایک فی صد تھی مگر حکمراں پارٹی میں اس کی تعداد پچاس فی صد تک پہنچ گئی ۔

1945 سے پہلے برطانیہ میں سر ونسٹن چرچل کی پارٹی بر سر اقتدار تھی ۔ اس وقت برطانیہ کے نو آبادیاتی مقبوضات میں آزادی کی تحریکیں چل رہی تھیں۔ بظاہر برطانیہ کی طاقت ان تحریکوں کو دبانے میں ناکام ثابت ہو رہی تھی ۔ مگر چرچل نے برطانی مقبوضات کو آزاد کرنے کا مطالبہ بے نیاز انہ طور پر رد کر دیا۔ انھوں نے پارلیمنٹ میں اپنی تاریخی تقریر میں کہا تھا کہ وہ ملک معظم کے وزیر اعظم اس لیے نہیں بنے ہیں کہ سلطنت برطانیہ کے خاتمہ کی تقریب کی صدارت کریں :

He had not become His Majesty's first minister to preside over the liquidation of His Majesty's empire.

ونسٹن چرچل کی پالیسی برطانیہ کو اسی قسم کے انجام کی طرف لے جانے والی تھی جہاں ہٹلر نے جرمنی کو پہنچا یا تھا۔ یعنی اپنے مقبوضہ ممالک سے پر تشدد جنگ اور بالآخر ظلم کا ٹائٹل لے کر ان کی آزادی پر راضی ہونا ۔

مگر 1945 میں جب لیبر پارٹی بر سر اقتدار آئی تو اس نے اپنے فیبین ممبروں کے زیر اثر پورے معاملہ پر از سر نو غور کرنا شروع کیا۔ ان کے حقیقت پسندانہ انداز فکر نے انھیں بتایا کہ نو آبادیاتی ممالک کو موجودہ حالات میں زیادہ دیر تک اپنے قبضہ میں رکھنا ناممکن ہے ۔ جدید حالات کے نتیجہ میں بہر حال ایک نہ ایک دن وہ آزاد ہو کر رہیں گے ۔ لیکن اگر برطانیہ پر امن طور پر انھیں آزاد کر دے تو یہ اس کے لیے کھونے سے زیادہ پانے کے ہم معنی ثابت ہو گا ۔ یہ دراصل فیبین دماغ ہی تھا جس کے تحت برطانیہ نے 1947 میں یہ تاریخی فیصلہ کیا کہ وہ ہندستان کو ( اور اس کے بعد دوسرے ممالک کو )پُر امن طور پر آزاد کر دے ۔

اس حقیقت پسند انہ فیصلہ کا زبردست فائدہ برطانیہ کو ملا ۔ایک طرف اس کے عالمی اقتصادی فائدے بڑی حد تک محفوظ رہے ۔ دوسری طرف برٹش کا من ویلتھ کی صورت میں اس نے مزید کم از کم نصف صدی تک اپنے عالمی سیاسی وقار کا تحفظ کر لیا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion