حیاتیاتی اخوت

وحدت انسانیت یا وحدتِ بنی آدم کی حقیقت جس کا اعلان پیغمبر اسلام نے چودہ سو سال پہلے کیا تھا، اب وہ جدید تحقیقات کے نتیجہ میں ایک سائنسی واقعہ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔

موجودہ زمانہ میں مالے کیول حیاتیا ت (molecular biology) نے بہت ترقی کی ہے ۔ ڈی این اے (DNA) کے ذریعہ گہری نسلی رازوں کو دریافت کرنا ممکن ہو گیا ہے ۔ چنانچہ امریکہ میں چین کے ماہرین (geneticists)کی ایک ٹیم نے یہ کام اپنے ذمہ لیا کہ وہ انسان کے مشترک جدّ اعلیٰ (common ancestor) کو دریافت کریں گے ۔ ڈی این اے کے طریقہ میں ابتدائی باپ (great-grandfather)کو دریافت کرنا زیادہ مشکل تھا۔ انھوں نے (great-grandmother) (ابتدائی ماں ) کا پتہ لگانے پر اپنی ساری توجہ مرکوز کر دی ۔

ان حیاتیاتی سائنس دانوں نے مختلف علاقوں کی 147حاملہ خواتین کو تیار کیا کہ وہ غیر مولود بچہ کے مادے (placentas)انھیں بطور عطیہ دیں ۔ اس مادہ پر وہ سالہا سال تک امریکہ کی ایر کنڈیشنڈ لیبارٹریوں میں تحقیق کرتے رہے جو برکلے میں واقع تھیں ۔ انھوں نے ان سے جسمانی نسیج (body tissue)کے نمونے نکالے اور ان پر طرح طرح سے تجربات کیے ۔ آخر کار انھوں نے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے پہلی خاتون (first woman) یا مذہبی اصطلاح میں حوا ( eve) کو دریافت کر لیا ہے ۔ سائنس دانوں کے نزدیک یہ خاتون 200 ہزار سال پہلے زمین پر آباد تھی ۔ وہ تمام انسانوں کی مشترک ماں ہے ، وہ ہم سب کی تقریباً 10,000ویں دادی ہے ۔

تحقیقات نے بتایا ہے کہ وہ تمام ظاہری فرق جن کی بنیاد پر نسلی اختلاف یا اونچی نسل اور نیچی نسل کے نظریات بنائے گئے تھے ، وہ محض وقتی اور سطحی تھے ۔ مثال کے طور پر جِلد کا رنگ محض آب و ہوا سے مطابقت کا نتیجہ ہوتا ہے ۔ افریقہ میں کالا رنگ سورج سے بچاؤ کے لیے ، یورپ میں سفید الٹراو ائلٹ شعاعوں کو جذب کرنے کے لیے جو کہ ویٹامن ڈی کی پیدائش میں مدد گار ہے ۔ جلد کا رنگ صرف چند ہزار سال کے عمل سے بدل جاتا ہے

Skin color, for instance is a minor adaptation to climate. Black in Africa for protection from the sun, White in Europe to absorb ultraviolet radiation that helps produce vitamin D. It takes only a few thousand years of evolution for skin colour to change (p.42).

سائنس دانوں نے اپنے نتائج تحقیق کے مطابق اعلان کیا ہے کہ تمام بچوں کے ڈی این اے آخر کار ایک عورت تک جا پہونچتے ہیں ۔ پہلی نظر میں یہ ناقابل قیاس دکھائی دے سکتا ہے کہ تمام انسانوں کا حیاتیاتی ذریعہ ایک واحد عورت تھی ۔ مگر یہ قانونِ اتفاق کے تحت حاصل ہونے والا ایک نہایت ثابت شدہ نتیجہ ہے :

All the babies 'DNA could be traced back, ultimately to one woman... At first glance it may seem inconceivable that the source of all mitochondrial DNA was a single woman, but it's a well established out come of the laws of probability (p. 42).

برکلے کے حیاتیاتی سائنس دانوں (geneticists) کی مذکورہ ٹیم کے علاوہ ایموری یونیورسٹی (Emory University)کی ٹیم نے بھی اس سلسلہ میں کام کیا ہے ۔ اس ٹیم کے سر براہ پروفیسر ڈگلس (Douglas Wallace) تھے ۔ اس ٹیم نے مزید یہ امکان ظاہر کیا ہے کہ پہلی خاتون (حوا ) ممکن ہے ایشیا کے کسی حصہ میں رہتی ہو :

Eve might have lived in Asia (p.42)

یہ نتیجہ انھوں نے جنینی شہادت (genetic evidence) کی بنیاد پر نکالا ہے جو مختلف براعظموں کے ساتھ سو آدمیوں کے خون کی خصوصی جانچ کے بعد حاصل کیا گیا ہے ۔ یہ تحقیق خالص سائنسی سطح پر یہ ثابت کر رہی ہے کہ تمام انسانی نسل، ظاہری فرق کے باوجود، ایک عظیم خاندان (Great family)کی حیثیت رکھتی ہے (صفحہ 43-44)۔

اسی نوعیت کی تحقیقات انگلینڈ اور فرانس وغیرہ میں بھی ہو رہی ہیں ۔ ان تحقیقا ت پر امریکہ کے کئی سائنسی جرنل میں مقالات شائع ہو چکے ہیں ۔ اس سلسلے میں دو مقالات کا خلاصہ نیو یارک (امریکہ ) کے انگریزی ہفت روزہ نیوزویک (11جنوری1988) میں سات صفحات پر شائع ہوا ہے۔

ان تحقیقات کے مطابق جنینی شہادت (genetic evidence) نے اس قدیم خیال کی تردید کر دی ہے کہ انسانی نسل مختلف الگ الگ شاخوں سے تعلق رکھتی ہے ۔ اس سے ثابت ہوا ہے کہ تمام اولاد آدم ایک ہی مشترک انسانی برادری کا حصہ ہے ۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اسٹفن جے گولڈ (Stephen Jay Gould)نے کہا :

This idea is tremendously important. It makes us realize that all human beings, despite differences in external appearance, are really members of a single entity that's had a very recent origin in one place. There is a kind of biological brotherhood that's much more profound than we ever realized (p.39).

یہ تصور حیرت ناک حد تک اہم ہے ۔ یہ ہم کو یقین دلاتا ہے کہ تمام انسان ، خارجی ظواہر میں فرق کے باوجود ، حقیقتاً ایک ہی واحد نسل کے افراد ہیں جو کہ بہت قریبی عہد میں ایک مقام پر شروع ہوئی تھی۔ یہاں ایک قسم کی حیاتیاتی اخوت ہے جو کہ اس سے بہت زیادہ گہری ہے جو اب تک ہم نے سمجھا تھا۔

وہ اخوت جو حیاتیاتی واقعہ کے طور پر پہلے سے پائی جا رہی ہے ، اس کو سماجی سطح پر اختیار کر لینا ، یہی انسانی اتحاد اور انسانی یک جہتی کا واحد راز ہے ۔ یہ اتحاد اور یک جہتی کا وہ فطری نسخہ ہے جس کا اشارہ خود ہماری پیدائشی بناوٹ میں موجود ہے ۔ اس تحقیق نے ایک طرف ان تمام نظریات کو باطل ثابت کر دیا ہے جو رنگ اور نسل کے فرق کی بنا پر انسانیت کو مختلف گروہوں میں بانٹے ہوئے تھے ، دوسری طرف اس نے بتا دیا ہے کہ انسانوں کے درمیان یک جہتی قائم کرنے کی فطری تدبیر کیا ہے ۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion