تبدیلی کا اصول

کائناتی پیٹرن کا ایک پہلو یہ ہے کہ یہاں کا پورا نظام تبدیلی (conversion) کے اصول پر قائم ہے۔ یہاں کسی چیز کی افادیت کا معیار یہ ہے کہ وہ کنورژن کے اصول پر پوری اتر ے ۔ مثلاً اس دنیا میں انسان کی سانس سے اور دوسرے اسباب سے بڑی مقدار میں کاربن ڈائی آکسائڈ گیس پیدا ہوتی ہے۔ درخت اس کو اپنے اندر لے لیتے ہیں ۔ درخت کے اندر جو کاربن ڈائی آکسائڈ داخل ہوتی ہے۔ اگر وہ دوبارہ اس کو کاربن ڈائی آکسائڈ ہی کی صورت میں نکالیں تو پوری فضا زہریلی ہو جائے اور انسان اور حیوانات کے لیے اس دنیا میں زندہ رہنا نا ممکن ہو جائے۔ مگر درخت اس کاربن ڈائی آکسائڈ کو مخصوص عمل کے ذریعہ آکسیجن میں تبدیل کرتے ہیں اور اس کو آکسیجن کی صورت میں خارج کرتے ہیں۔ وہ دوسروں سے زہریلی گیس لے کر دوسروں کو مفید گیس کا تحفہ پیش کرتے ہیں۔

اسی طرح مثلاً گائے کو دیکھیے۔ گائے گویا قدرت کی انڈسٹری ہے جو گھاس کھاتی ہے اور اس کو دودھ کی صورت میں ہمیں لوٹاتی ہے۔ وہ انسان کے لیے ناقابل خوراک چیز کو قابل خوراک چیز میں کنورٹ کرنے کا قدرتی کارخانہ ہے ۔ گائے اگر ایسا کرے کہ وہ گھاس کھا کر گھاس خارج کرنے لگے تو وہ اپنی قیمت اور افادیت کھو دے گی۔

کنورژن (تبدیلی ) کا یہ اصول جو بقیہ دنیا میں قائم ہے ، وہی انسان سے بھی مطلوب ہے بقیہ دنیا کی صحیح کارکردگی کا راز یہ ہے کہ وہ کنورژن کے اصول پر کام کر رہی ہو ۔ اسی طرح بہتر زندگی اور کامیاب انسانی سماج بنانے کا راز بھی یہی ہے کہ اس کے افراد اس صلاحیت کا ثبوت دے سکیں کہ وہ ’’گھاس‘‘ پائیں اور اس کو ’’دودھ‘‘ کی صورت میں دنیا والوں کی طرف لوٹا سکیں۔

قرآن میں سچے انسانوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ جب انھیں غصہ آتا ہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں یعنی دوسروں کی طرف سے انھیں ایسے سلوک کا تجربہ ہوتا ہے جو ان کے اندر غصہ اور انتقام کی آگ بھڑکانے والا ہو ، مگر وہ غصہ اور انتقام کی آگ کو اپنے اندر ہی اندر بجھا دیتے ہیں اور دوسرے شخص کو جو چیز لوٹاتے ہیں وہ معافی اور در گذر کاسلوک ہوتا ہے نہ کہ غصہ اور انتقام کا سلوک ۔

قرآن میں ارشاد ہو اہے کہ بھلائی اور برائی دونوں یکساں نہیں ۔ تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی ، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی قریبی دوست (حم السجدہ 41:34) اس آیت کے بارہ میں حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے فرمایا :

أَمَرَ اللهُ الْمُؤْمِنِينَ بِالصَّبْرِ عِنْدَ الْغَضَبِ، وَالْحِلْمِ عِنْدَ الْجَهْلِ، وَالْعَفْوِ عِنْدَ الْإِسَاءَةِ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمَهُمُ اللهُ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَخَضَعَ لَهُمْ عَدُوُّهُمْ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (السنن الکبری للبیہقی، اثر نمبر 13299)۔ یعنی، اللہ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ غصہ کے وقت صبر کریں۔ کوئی جہالت کرے تو اس کو برداشت کریں۔ برائی کی جائے تو معافی اور در گذر کا طریقہ اختیار کریں جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ ان کو شیطان سے بچائے گا اور ان کے دشمن کو اس طرح جھکا دے گا کہ وہ ان کا قریبی دوست بن جائے۔

یہ وہی صفت ہے جس کو اوپر ہم نے کنورژن سے تعبیر کیا ہے ۔ خدا پرست آدمی کی خدا پرستی اس کے اندر ایسی صلاحیت پیدا کر دیتی ہے کہ وہ برُائی کو بھلائی میں تبدیل کر سکے۔ جو لوگ اسے گالی دیں ، ان کے لیے وہ دعا کرے۔ جو لوگ اس کے ساتھ غیر انسانی سلوک کریں ان کے ساتھ وہ انسانی سلوک کا طریقہ اختیار کرے۔ جو لوگ اس سے کڑوا بول بولیں، ان کا استقبال وہ میٹھے بول سے کرے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بہتر سماج کی تعمیر کے لیے ہماری کوششوں کا رُخ کیا ہونا چاہیے وہ یہ ہونا چاہیے کہ ہم افراد کے اندر ’’کنورژن‘‘ کی صلاحیت پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ موجودہ دنیا میں صالح سماج اسی کنورژن کے ذریعہ بنایا جا سکتا ہے ، اس کے سوا صالح سماج بنانے کا اور کوئی طریقہ نہیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion