قرآن کی رہنمائی
اب میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ بتانا چاہتا ہوں کہ اس معاملہ میں ہمیں قرآن سے کیا رہنمائی ملتی ہے۔ یہ رہنمائی ایک لفظ میں، یہ ہے کہ انسان کے سوا بقیہ کائنات جس قانون پر چل رہی ہے، اسی کو انسان بھی اختیار کر لے۔ کائنات واضح طور پر مختلف اور متفرق اجزاء کا مجموعہ ہے۔ اس میں آگ بھی ہے اور پانی بھی۔ اس میں نازک پودے بھی ہیں اور سخت پتھر بھی ۔ اس میں دن کی روشنی بھی ہے اور رات کی تاریکی بھی۔ مگر ان تمام اختلافات کے باوجود، پوری کائنات ایک ہم آہنگ کُل کی طرح عمل کرتی ہے۔ یہ گویا ایک خدائی ماڈل ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ بھی اسی ماڈل کو اپنے لیے رہنما بنا لے۔
قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اور بقیہ کائنات دونوں ایک اکائی کے دو حصے ہیں۔ دونوں میں جو فرق ہے وہ یہ ہے کہ انسان ذاتی شعور اور ذاتی ارادہ رکھتا ہے، جب کہ کائنات کی دوسری چیزیں ذاتی شعور اور ذاتی ارادہ نہیں رکھتیں۔ جامد مادہ قانونِ فطرت (law of nature) سے کنٹرول ہوتا ہے اور جاندار چیزیں اپنے اندر چھپی ہوئی جبلت (Instinct) سے۔
قرآن کے مطابق ، کائنات کا جو دین (نظام عمل ) ہے ۔ وہی انسان کا دین (نظام عمل ) بھی ہے ۔ دونوں کی کامیاب کارکردگی کا راز ایک ہی فطری نقشہ میں چھپا ہوا ہے ۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے اَفَغَيْرَ دِيْنِ اللہِ يَبْغُوْنَ وَلَہٗٓ اَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْھًا(3:83)۔ یعنی، کیا وہ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں ، حالانکہ اسی کے تابع ہے وہ سب کچھ جو زمین وآسمان میں ہے ، خوشی سے یا نا خوشی سے ۔
دوسرے مقام پر ارشاد ہوا ہے کہ:وَلَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِہَا (3:83)۔ یعنی، زمین میں فساد نہ کرو اس کی اصلاح کے بعد۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس زمیں میں انسان کو بسایا گیا ہے وہ ایک اصلاح یافتہ زمین ہے۔ اس کے تمام اجزاء صحیح ترین کارکردگی پر قائم ہیں ۔ ان میں کسی قسم کا کوئی نقص نہیں۔ اب انسان کو چاہیے کہ وہ اس نافذ شدہ نظام اصلاح سے مطابقت کر کے زمین پر زندگی گزارے۔ اگر وہ اس نقشہ سے مطابقت نہ کرے تو یہ زمین پر فساد برپا کرنے کے ہم معنی ہو گا ۔ کسی مجموعہ کا ایک جزء اگر مجموعہ سے مطابقت کر کے رہے تو نظام درست رہے گا۔ اور اگر مجموعہ کا کوئی جزء اصل مجموعہ کے غیر مطابق ہو جائے تو پورا نظام بگڑ جائے گا۔ یہ اصلاحی نقشہ میں فساد برپا کرنے کا موجب بن جائے گا۔
اس کو ایک لفظ میں کائناتی پیٹرن کہا جا سکتا ہے ۔ جو کائناتی پیٹرن کائنات کو کامیابی کے ساتھ چلا رہا ہے ، وہی انسان کے لیے بھی مفید اور کامیاب ہے ۔
