دو پہلو

وہ چیز جس کو ہم نے کائناتی پیٹرن کہا ہے ، اس کے دو پہلو ہیں ۔ ایک فنی (ٹیکنکل ) پہلو ، دوسرا اخلاقی (ایتھیکل) پہلو۔ جہاں تک کائناتی پیٹرن کے ٹیکنکل پہلو کا تعلق ہے، اس معاملہ میں انسان نے عین وہی کیا ہے جو اسے ازروئے واقعہ کرنا چاہیے۔ وہ اس معاملہ میں حد درجہ سنجیدہ ہے۔ وہ انتہائی محنت سے اس کو دریافت کرتا ہے اور اس کی کامل پیروی کرتا ہے ۔ کائناتی پیٹرن کے ٹیکنکل پہلو سے وہ ادنی درجہ میں بھی انحراف نہیں کرتا، کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ ٹیکنکل پہلو کی کامل پیروی ہی کے ذریعہ وہ تمدنی ترقیاں حاصل کر سکتا ہے ۔ مگر کائناتی پیٹرن کے اخلاقی پہلو کے بارےمیں اس کا رویہ یکسر مختلف ہے۔ یہاں وہ پیروی کے بجائے انحراف کی روش اختیار کرتا ہے۔

اس معاملہ کی وضاحت کے لیے ایک سادہ مثال لیجیے ۔ اس ہال میں ہمارے سامنے دو واقعے نظر آرہے ہیں۔ ایک بجلی جو ہم کو روشنی دے رہی ہے ، دوسرے پنکھا جس سے ہمیں ٹھنڈی ہوا ملتی ہے۔ یہ دونوں چیزیں کائناتی پیٹرن کے ٹیکنکل پہلو کی پیروی کر کے حاصل کی گئی ہیں۔ کائنات میں قانونِ قدرت کے تحت پیشگی طور پر ایک امکان موجود ہے۔ وہ یہ کہ اگر آپ ایک ایسی مشین بنائیں جس میں میگنیٹک فیلڈ (مقناطیسی میدان) اور موشن (حرکت ) کو یکجا کیا گیا ہو تو فوراً اس کے اندر الکٹران متحرک ہو جائیں گے اور وہ چیز پیدا ہو جائے گی جس کو کرنٹ (بجلی ) کہتے ہیں۔ جنریٹر میں اسی طریقہ کو استعمال کر کے بجلی پیدا کی جاتی ہے جس سے بلب روشن ہوتا ہے اور دوسرے کام کیے جاتے ہیں۔

کائناتی پیٹرن کا ایک اور ٹیکنکل پہلو یہ ہے کہ اگر آپ ایک ایسی مشین بنائیں جس میں میگنیٹک فیلڈ (مقناطیسی میدان ) اور کرنٹ (بجلی ) کو یکجا کیا جائے تو فوراً اس کے اندر موشن (حرکت ) پیدا ہو جائے گی ،یہی قدرتی تدبیر ہے جس کے ذریعہ حرکت پیدا کر کے پنکھا چلایا جاتا ہے اور دوسری تمام مشینیں متحرک کی جاتی ہیں۔

یہ کائناتی پیٹرن کے ٹیکنکل پہلو کی مثال ہے ۔ دنیا کے تمام انسان ، خواہ وہ کسی بھی قوم یا فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں، وہ اس پہلو کی صد فی صد پیروی کرتے ہیں۔ وہ بال برابر بھی اس سے نہیں ہٹتے۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ یہاں نتیجہ کا یا بالفاظ دیگر، صحیح کارکردگی کا انحصار، تمام تر اس پر ہے کہ خارجی قانون کی کامل پیروی کی جائے۔

مذکورہ مثال بتاتی ہے کہ کائناتی پیٹرن میں ٹیکنکل پہلو پایا جاتا ہے ۔ یہی مثال یہ بھی بتاتی ہے کہ کائناتی پیٹرن میں ایک اور متعین پہلو موجود ہے ۔ اس کو با عتبار نوعیت ، اخلاقی پہلو (ایتھیکل پہلو ) کہا جا سکتا ہے ۔ اس سے میری مراد کائنات میں پیشین گوئی کیے جانے کی قابلیت (predictability)ہے ۔ کائنات مکمل طور پر قابل پیشین گوئی کردار (predictable character)کی حامل ہے ۔ مثلاً مذکورہ بالا مثال میں ، غیر متغیر طور پر یہ پیشین گوئی کی جا سکتی ہے کہ جب بھی میگنیٹک فیلڈ اور موشن کو یکجا کیا جائے گا تو لازماً وہاں کرنٹ پیدا ہو جائے گی۔ اسی طرح جب بھی میگنیٹک فیلڈ اور کرنٹ کو یکجا کیا جائے گا تو لازماً موشن پیدا ہو جائے گا۔ کائنات کا اس طرح قابل پیشین گوئی ہو نا گویا اس کا وہ پہلو ہے جس کو انسان زبان میں اخلاقی (ایتھیکل) پہلو کہا جاتا ہے۔

موجودہ دنیا میں ہم یہ تضاد دیکھ رہے ہیں کہ ہماری ٹکنالوجی نہایت صحت کے ساتھ اپنا کام کر رہی ہے ۔ وہ ہمیشہ وہی مطلوبہ نتیجہ برآمد کرتی ہے جس کی اس سے امید کی گئی ہے۔ اس کے برعکس، انسان غیر صحیح بنا ہوا ہے، انسان اس مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتا جس کی اس سے بجا طور پر امید قائم کی گئی ہو۔ اس تضاد کا واحد سبب یہ ہے کہ انسان نے کائناتی پیٹرن کے ٹیکنکل پہلو کو تو پوری طرح اپنایا، مگر وہ اس کے اخلاقی پہلو کو اپنانے کے لیے تیار نہ ہو سکا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion