لینن اور اتاترک
حقیقت یہ ہے کہ قومی ایکتا کا معاملہ ہو یا اور کوئی معاملہ ، ہر چیز سوچ کی سطح پر ختم ہوتی ہے اور سوچ ہی کی سطح پر دوبارہ اسے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ اس معاملہ کی وضاحت کے لیے ایک تقابلی مثال لیجیے۔ یہ تقابلی مثال لینن (1924-1870) اور اتاترک (1938-1881) کی ہے ۔ دونوں تقریباً ہم زمانہ تھے ۔ دونوں کو یکساں طور پر اقتدار ملا ۔ مگر لینن کا نام کامیابی کی علامت ہے اور اتاترک کا نام ناکامی کی علامت ۔
کمال اتاترک کو ترکی میں 1919 میں اقتدار ملا اور 1938 تک (19 سال ) جاری رہا۔ کمال اتاترک نے چاہا کہ ترکی اور یورپ کی دوئی کو مٹا دے اور ترقی کے نقشہ پر دونوں کو یکساں مقام دیدے ۔ اس کا راز اس نے ’’کلچرل یکسانی ‘‘ میں دریافت کیا۔ اس نے ریاستی قوت کے ذریعہ یہ کوشش کی کہ ترکی کے لوگ یورپ والوں کی طرح ہیٹ اور پتلوں پہنیں ۔ وہ اہل یورپ کے آداب اختیار کریں ۔ حتی کہ کمال اتاترک نے ترکی زبان کا رسم الخط بدل کر اس کو یورپی رسم الخط میں لکھنے کا حکم دیا جو اس سے پہلے عربی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی، وغیرہ ۔
کمال اتاترک نے ان ’’اصلاحات‘‘ کو بزور پورے ترکی میں نافذ کر دیا۔ مگر ان اصلاحات کے نفاذ پر تقریباً ستر سال گزرنے کے بعد بھی ترکی بد ستور ایک مریض اور پسماندہ ملک ہے ۔ یورپ کے نقشہ میں وہ ترقی یافتہ ملک کا درجہ حاصل نہ کر سکا۔
اس کے بر عکس مثال لینن کی ہے ۔ لینن کو روس میں 1917 میں اقتدار ملا اور 1924 تک (7سال) جاری رہا۔ حالات کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد اس نے جانا کہ موجودہ زمانہ کی اصل طاقت سائنس ہے۔ اس نے پہلا کام یہ کیا کہ روس میں بڑے پیمانہ پر ایک دار الترجمہ قائم کیا۔ جس کے کارکنوں کی تعداد بعد کے مرحلہ میں ، ایک لاکھ تک پہنچ گئی۔ اس نے حکم دیا کہ جرمن، فرنچ، انگلش وغیرہ زبانوں سے تمام سائنسی کتابوں کا ترجمہ روسی زبان میں کیا جائے۔ یہ کام اعلیٰ پیمانہ پر شروع ہو گیا اور برابر جاری رہا۔ یہ صحیح رخ پر صحیح اقدام تھا۔ چنانچہ روس کو اس کا یہ فائدہ ملا کہ وہ آج دو سپر پاور میں سے ایک سپر پاور کی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ ہے تدبیر کا فرق ۔ کمال اتاترک نے ترکی اور یورپ کے درمیان کلچر کے فرق کو مٹانا چاہا۔ مگر دونوں کے درمیان کلچر کے فرق کو مٹا دینے کے بعد بھی اس کو کچھ حاصل نہ ہو سکا۔ اس کے بر عکس لینن نے روس اور یورپ کے درمیان علم وشعور کے فرق کو مٹانے کا منصوبہ بنایا۔ چنانچہ جب یہ فرق مٹا تو روس دنیا کی دوسری سب سے بڑی طاقت بن چکا تھا۔
یہ مثال بتاتی ہے کہ ہمیں غیر متعلق کارروائیوں میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ ورنہ ہماری کارروائیوں کی تکمیل کے بعد بھی اصل مسئلہ وہیں باقی رہے گا جہاں وہ آج ہمیں دکھائی دے رہا ہے ۔
