اخوت و مساوات کا مذہب

انسان اور انسان کے درمیان فرق یا عدم مساوات قدیم ترین زمانے سے چلا آ رہا ہے۔ قدیم زمانے میں توہمات (superstitious) کا غلبہ تھا۔ انسان طرح طرح کے توہماتی عقائد کے تحت انسانوں کے درمیان اِس غیر مساوی تقسیم کو برحق سمجھے ہوئے تھا۔ مثلاً یہ کہ سفید فام لوگ کسی اعلیٰ مادۂ تخلیق سے بنے ہیں اور سیاہ فام لوگ کسی ادنیٰ مادہ تخلیق سے۔ چنانچہ کچھ لوگ نسلی اعتبار سے برتر (superiors) ہیں اور کچھ لوگ ان سے کمتر (inferiors) ۔

موجودہ زمانے میں سائنسی افکار نے اس قسم کے عقیدے کو بالکل بے بنیاد ثابت کر دیا۔ تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ عدم مساوات کو جائز قرار دینے والے تمام عقائد سراسر فرضی ہیں۔ علمی اعتبار سے ان کی کوئی واقعی بنیاد نہیں ۔ موجودہ زمانے میں نسلی امتیاز کے افسانوں (racial myths) کو بے بنیاد ثابت کرنے کے لیے کثرت سے علمی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ایک اہم کتاب کانام یہ ہے:

I. Comas, The Race Question in Modern Science, 1956

اب انسان اپنے آپ کو ایک دوراہے پرکھڑا ہوا پاتا ہے۔ ایک طرف اس کا آبائی اور روایتی مذہب ہے۔ جس کی تعلیمات بدستور انسانی نابرابری کی تصدیق کر رہی ہیں۔ دوسری طرف اس کا سائنسی علم ہے جو اس قسم کے کسی عقیدےکو سراسر لغو قرار دیتا ہے۔ جدید انسان یہ محسوس کر رہا ہے کہ اپنے آبائی مذہب کو مانتے ہوئے وہ سائنسی بنیاد پر اپنی زندگی کی تشکیل نہیں کر سکتا۔

یہاں صرف اسلام ہے جو غیر محرّف ہونے کی بنا پر صحیح ترین تعلیمات کا حامل ہے نہ صرف یہ کہ اس معاملے میں اسلام کی تعلیمات عین سائنسی حقائق سے ہم آہنگ ہیں بلکہ اسلام عملی طور پر بھی انسانی مساوات کی واحد شاندار تاریخ رکھتا ہے۔ ایچ جی ویلز نے اعتراف کیا ہے کہ اسلام نے نہ صرف لفظی طور پرانصاف اور مساوات کی تعلیم دی بلکہ اس نے عملی طور پر ایک ایسا سماج بنایا جو تاریخ کے کسی بھی پچھلے سماج سے زیادہ بے رحمی اور اجتماعی ظلم سے پاک تھا:

‘‘They created a society more free from widespread cruelty and social oppression than any society had ever been in the world before .’’ (p. 325)

مشہور ہندو مصلح سوامی ویویکا نند نے لکھا ہے کہ اگر کوئی مذہب کبھی قابل لحاظ حد تک عملی مساوات کے درجے کوپہنچا ہے تو وہ اسلام اور صرف اسلام ہے:

‘‘My experience is that if ever any religion approached to this equality in an appreciable manner, it is Islam and Islam alone.’’ (Letters of Swami Vivekananda, p. 379)

اسلام کےاس عملی پہلو نے اس کو اجارہ داری کی حد تک صداقت کا حامل بنا دیا ہے۔ آج کا انسان اخوت اور مساوات اور انصاف کی بنیاد پر جو انسانی سماج بنانا چاہتا ہے اس کے لیے ساری معلوم تاریخ میں عملی نمونہ صرف ایک ہے اور وہ اسلام کا نمونہ ہے۔ اقوام متحدہ کا ڈکلریشن آف ہیومن رائٹس موجودہ حالت میں صرف ایک لفظی یوٹوپیا ہے، کیوں کہ اس کے پیچھے کوئی عملی نمونہ موجود نہیں۔ مگر اسلامی تعلیمات کی پشت پر ایک معلوم مثالی تاریخ ہے جو ان تعلیمات کو عملی نمونہ کے روپ میں پیش کر رہی ہے۔یہ نمونہ انسان کو یقین دلاتا ہے کہ اعلیٰ اخلاقی تعلیمات قابلِ عمل بھی ہیں ، نہ کہ محض لفظی خیال آرائی۔

Maulana Wahiduddin Khan
Book :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion