ناکامی کااعتراف
الاخوان المسلمون1928ء میں قائم ہوئی۔ 1938ء میں اس نے سیاست میں حصہ لینا شروع کیا۔ بہت جلد اس کے اثرات اکثر عرب ملکوں میں پھیل گئے۔ اس جماعت کا فکر یہ تھا کہ حکومت کا ادارہ سب سے زیادہ طاقت ور ادارہ ہے۔ وہی سماج کی صورت گری کرتا ہے۔ اس لیے سماج کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ حکومت کے ادارے پر قبضہ کیا جائے۔
اس تحریک کے زیر اثر اس کے افراد مختلف عرب ملکوں کی حکومتوں سے ٹکرا گئے۔ انہوں نے حکمراں افراد کو اقتدار سے بے دخل کرنے میں ساری طاقت لگا دی۔ یہی کام پاکستان میں وہاں کے اسلام پسندوں کے ذریعہ 1947ء میں شروع ہوا جو آج تک برابر جاری ہے۔ مگر پچھلی نصف صدی کی کوششوں کے نتائج مکمل طور پر برعکس صورت میں برآمد ہوئے ہیں۔ ان حضرات کی کوششوں نے مسلم معاشروں کے فساد اور بربادی میں تو ضرور اضافہ کیا مگر وہ ان کو تعمیر اور اصلاح کی طرف لے جانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ مزید یہ کہ ان ہنگامہ خیز کوششوں کا آخری نتیجہ یہ ہوا کہ مصر اور پاکستان دونوں جگہ سیکولر افراد حکومت کے شعبوں پر قابض ہیں ، اور اسلام پسندوں کا اقتدار میں کوئی حصہ نہیں۔
ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالمحسن الترکی کے جس مقالےکا اوپر حوالہ دیا گیا ، اس میں موصوف نے بجاطور پر کہا ہے کہ معاشرہ چھلانگ کے ذریعہ نہیں بدلتا، اس کو صرف تدریج کے ذریعہ بدلا جا سکتا ہے:إِنَّ الْمُجْتَمَعَاتِ لَاتَتَغَیَّرُ بِالطُّفْرَۃِ بَلْ بِالتَّدْرِیْجِ۔ (صوت الامۃ، بنارس رجب 1408ھ، صفحہ21)
اصل یہ ہے کہ صالح حکمراں صالح معاشرہ سے پیدا ہوتا ہے۔ جب بھی حکمراں میں بگاڑ نظر آئے تو مصلحین کو معاشرے کی اصلاح میں سرگرم ہو جانا چاہیے ۔ کیوں کہ صالح معاشرےکی زمین ہی سے صالح حکمراں برآمد ہو گا۔ ایسی حالت میں حکمراں سے سیاسی جنگ شروع کرنا صرف حالات کو مزید بگاڑنے کے ہم معنی ہے۔
اس کی زندہ مثال پاکستان ہے۔ پاکستان جن علاقوں پر مشتمل ہے۔ اس کے باشندوں کی دینی و اخلاقی حالت 1947ء سے پہلے اس سے بہتر تھی جو آج وہاں پائی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد وہاں کے اسلام پسند رہنما، حکمرانوں کے خلاف سیاسی لڑائی لڑنے میں مشغول ہو گئے۔ اس لڑائی میں وہ یہاں تک گئے کہ انہوں نے تمام روایتیں توڑ ڈالیں۔ مثلاً سیاسی قتل ، سطحی مظاہرے، عوام پسند نعرے، سیاسی پارٹیوں والے ہتھکنڈے، ناجائز کو جائز اور جائز کو ناجائز کرنا (مثلاً فاطمہ جناح کی صدارت) اسلامائزیشن کے نام پر کوڑے اور پھانسی کی سیاست، وغیرہ۔
ان چیزوں کا نتیجہ صرف یہ ہوا کہ پاکستان کے عوام کو اسلام سے اور علماء سے نفرت ہو گئی۔ 45 سالہ اسلامی سیاست کے بعد نومبر1988ء میں جب عوام کو آزادانہ انتخاب کا موقع ملا تو پہلے ہی الیکشن میں انہوں نے اسلام پسندوں کو ہرا کر سیکولر لیڈروں کو کامیاب کر دیا۔
موجودہ زمانے میں نام نہاد اسلامی سیاست کی ناکامی ، بلکہ اس کا الٹا نتیجہ برآمد ہونا ایک ایسا واقعہ ہے جس کو خود اس حلقہ کے سنجیدہ لوگ اب تسلیم کر رہے ہیں۔ اس کی ایک مثال اخوانی رہنما ڈاکٹر حسن ترابی کا وہ مقالہ ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔
یہ بات جو ان رہنماؤں کو اب معلوم ہوئی ہے ، وہ انہیں نصف صدی کے ناکام تجربےسے پہلے ہی معلوم ہو سکتی تھی۔ بشرطیکہ انہوں نے سنّتِ رسول کا گہرا مطالعہ کر کے اپنی تحریک شروع کی ہوتی۔ الاخوان المسلمون (اور اسی طرح پاکستان کی اسلام پسند جماعت) کا آغاز بطور ردّعمل ہوا۔ اپنے قریبی سیاسی حالات سے متاثر ہو کر وہ حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔
اس کے برعکس، اگر وہ ایسا کرتے کہ تحریک شروع کرنے سے پہلے سنّتِ رسول کا گہرا مطالعہ کرتے تو وہ اس معاملے میں اصل حقیقت کو اوّل دن ہی پا سکتے تھے۔ اس کے بعد ان کی تحریک صحیح اسلامی رخ پر چلتی، اور بالآ خر صحیح اسلامی انجام تک پہنچتی۔
