داخل کے بجائے خارج
ہندستان میں پچھلی تقریباً نصف صدی سے جو مسئلہ مسلمانوں کے ذہنوں پر سب سے زیادہ چھایا رہا ہے، وہ ہندو ظلم کا مسئلہ ہے۔ اس مدت میں مسلمانوں نے اپنی سب سے زیادہ طاقت اسی مسئلے پر خرچ کی ہے۔ مگر نتیجے کے اعتبار سے دیکھیے تو اب تک مسلمان کچھ بھی حاصل نہ کر سکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس معاملےمیں مسلمانوں کی تمام کوششیں اتباع ِسبل کے طریقہ پر چل رہی ہیں ، وہ اتباعِ صراط کے طریقہ پر نہیں چل رہی ہیں۔ اور یہی ان کی ناکامی کی اصل وجہ ہے۔
اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مسلمان جو کوششیں کر رہے ہیں ، وہ بظاہر مختلف اور متعدد ہیں۔ مگر وسیع تر تقسیم میں ان سب کا خلاصہ ایک ہے۔ وہ سب کی سب ’’خارج رخی‘‘ ہیں ، ان میں سے کوئی بھی ’’داخل رخی‘‘ نہیں۔ یہ تمام کی تمام تحریکیں مسلمانوں کے مسائل کو ہندو فرقہ پرستی کے خانے میں ڈال رہی ہیں۔ وہ مسلمانوں کو بے قصور ٹھہراتے ہوئے یک طرفہ طور پر اکثریتی فرقے کے خلاف فریاد و احتجاج کا طوفان برپا کرنے میں مشغول ہیں۔
یہ واضح طور پر ’’اتباع سُبل‘‘ ہے۔ کیوں کہ قرآن و حدیث کی تصریحات کے مطابق مسلمانوں کو دوسروں کی سازشیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔ مسلمانوں کو جب بھی کوئی نقصان پہنچے گا وہ اصلاً ان کی داخلی کمزوریوں کے سبب سے پہنچے گا۔ خدا و رسول کے ان فرمودات کے مطابق ہندستانی مسلمانوں پر لازم تھا کہ وہ تمام معاملے کی ذمہ داری اپنے اوپر لیتے ہوئے اپنی داخلی اصلاح کی مہم میں لگ جاتے۔ اس کے بجائے وہ فریقِ ثانی کے خلاف چیخ پکار کے راستے پر چل پڑے۔ اس طرح انھوں نے اتباعِ صراط کے بجائے اتباع سُبل کا طریقہ اختیار کیا۔ اور جو لوگ اتباعِ سبل کا طریقہ اختیار کریں انھیں کبھی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔
ہندستانی مسلمانوں کے لیے جڑ کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی اندرونی کمزوریوں کو دور کریں۔ اندرونی کمزوریوں کو دور کرنے کے بعد کسی کو ان کے اوپر دست درازی کا موقع ہی نہیں ملے گا۔
