تبدیلی ِانسان کے بجائے تبدیلی ِحکومت

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ یہ المیہ پیش آیا کہ مغربی قومیں جدید طاقتوں سے مسلح ہو کر اپنے علاقوں سے نکلیں اور لاکھوں نے ایشیا اور افریقہ میں پھیلی ہوئی تقریباً پوری مسلم دنیا پر سیاسی غلبہ حاصل کر لیا۔ اس کے بعد خود اللہ تعالیٰ نے ان کے ’’دفع‘‘ کا انتظام کیا۔ پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم نے مغربی اقوام کو اتنا کمزور کر دیا کہ ان کے لیے یہ ممکن نہ رہا کہ وہ خود اپنی طاقت سے ایشیا اور افریقہ کے ملکوں پر اپنا قبضہ باقی رکھ سکیں۔ چنانچہ انھوں نے ایک کے بعد ایک اپنے مقبوضہ ملکوں کو آزاد کرنا شروع کیا یہاں تک کہ بیسویں صدی کے وسط تک تمام مسلم ممالک ان کے سیاسی قبضے سے آزاد ہو گئے۔

آزادی کے بعد ان ملکوں کی حکومت جن مسلم افراد کے ہاتھ میں آئی وہ اگرچہ مغربی طرز کی تعلیم پائے ہوئے تھے۔ مگر قدیم روایتی نظام کا اثر بھی ان کے اوپر نہایت گہرا تھا۔ وہ خواہ بظاہر ’’کوٹ پتلون‘‘ پہنتے ہوں مگر ان کے دلوں میں اسلام کے لیے نرم گوشہ موجود تھا۔ یہ ایک زبردست امکان تھا جس کو استعمال کر کے آزاد شدہ مسلم ممالک میں اسلام کے ایک نئے دور کا آغاز کیا جا سکتا تھا۔ مگر مسلمانوں کے دینی رہنماؤں نے ہر جگہ صرف مواقع کو برباد کرنے کا کام انجام دیا ہے۔ وہ کہیں بھی مواقع کو استعمال کرنے کی لیاقت کا ثبوت نہ دے سکے۔ اس کی واحد وجہ یہی تھی کہ وہ ’’اتباع سُبل‘‘ کے طریقے پر دوڑتے رہے ، وہ      ’’اتباعِ صراط‘‘ کا طریقہ اختیار کرنے میں ناکام رہے۔

اس سلسلے میں مصر اور پاکستان کی مثال لیجیے ۔ مصر میں شاہ فاروق کی حکومت ختم ہونے کے بعد فوجی افسر برسرِاقتدار آئے۔ ان فوجی افسروں کے دل میں اسلام کی گہری ہمدردی موجود تھی۔ انھوں نے وہاں کی دینی جماعت (الاخوان المسلمون) کو ملک کی وزارتِ تعلیم کی پیش کش کی۔ انہوں نے کہا کہ آپ ملک کے تعلیمی نظام کو اپنے ہاتھ میں لے کر جدید نسل کی تربیت کیجیے اور یہاں اسلام کے لیے ایک نئے مستقبل کی داغ بیل ڈالیے۔ مگر مصر کی دینی جماعت کے رہنما اس پیش کش کو قبول نہ کر سکے۔ اس کے برعکس، انھوں نے خود فوجی حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی لاحاصل کوشش شروع کر دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دینی رہنماؤں اور فوجی حکمرانوں میں ٹکراؤ شروع ہو گیا۔ تمام بہترین مواقع برباد ہو کر رہ گئے۔

یہی صورت حال پاکستان میں پیش آئی۔ پاکستان کے سابق حکمراں جنرل محمد ایوب خاں نے وہاں کی دینی جماعت (جماعت اسلامی پاکستان) کو پیش کش کی کہ آپ لوگ ایک انٹرنیشنل معیار کی اسلامی یونیورسٹی بنائیے۔ اس کا سارا خرچ حکومت فراہم کرے گی۔ حکومت کی اس پیشکش کو قبول کرکے وہاں کے دینی رہنما ایک نئی مسلم نسل تیار کر سکتے تھے جو دور جدید میں اسلام کے احیاء کا کام کر سکے۔ مگر پاکستان کے دینی رہنما دوبارہ اس مہم میں لگ گئے کہ وہ حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کریں۔ نتیجہ دوبارہ یہی ہوا کہ تمام بہترین تعمیری امکانات باہمی ٹکراؤ میں برباد ہو گئے اور بالآخر ملت کے حصے میں کچھ بھی نہ آیا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Book :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion