کلیات کے بجائے جزئیات

اسلامی شریعت کے دو بڑے حصے ہیں۔ ایک کلیات اور دوسرے جزئیات۔ شریعت کے کلی احکام واضح نصوص پر مشتمل ہیں۔ اس لیے ان میں کوئی اختلاف نہیں۔ شریعت کے اس پہلو پر تمام فقہاء یکساں طور پر متفق ہیں۔ مگر جزئیات کے شرع میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس لیے شریعت کے اس حصے میں فقہاء کے درمیان اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر تمام فقہاء اس پر متفق ہیں کہ فجر کی نماز دو رکعت ، ظہرکی نماز چار رکعت اور مغرب کی نماز تین رکعت ہے۔ مگر نمازکے بعض جزئی مسائل مثلاً آمین ، رفع یدین اور قرأتِ فاتحہ خلف الامام کے معاملہ میں ان کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔

بعد کے دور میں مسلمانوں کے درمیان جو مختلف فقہی مکاتب بنے ان کے الگ الگ ہونے کی بنیاد دراصل یہی اختلافی جزئیات تھیں۔ کلی نوعیت کے احکام میں الگ الگ فقہی مکتب بننے کاکوئی سوال نہیں۔ کیوں کہ ان امور میں ایک فقیہ اور دوسرے فقیہ کی رائے میں کوئی فرق ہی نہیں۔ ایک فقہی مکتب کو دوسرے فقہی مکتب سے جو چیز جدا کرتی ہے وہ دراصل اختلافی مسائل ہیں ، نہ کہ اتفاقی مسائل۔

موجودہ زمانے میں ہندستان میں جو دینی مدارس قائم ہوئے وہ کسی ایک یا دوسرے فقہی مکتب فکر کے تحت قائم ہوئے۔ مثلاً کوئی مدرسہ دیوبندی مسلک کے تحت قائم ہوا اور کوئی بریلوی مسلک کے تحت اور کوئی سلفی مسلک کے تحت۔ ان مسالک کو جو چیز ایک دوسرے سے ممیز کرتی ہے وہ یہی اختلافی مسائل ہیں، نہ کہ اتفاقی مسائل۔ اس بنا پر عملاً یہ ہواکہ ہر مدرسے میں سب سے زیادہ زور اختلافی مسائل پر دیا جانے لگا۔ ہر مدرسے کا مقصد یہ قرار پایاکہ وہ دوسرے مسلک کے بالمقابل اپنے مسلک کو قرآن و سنت سے صحیح ثابت کرے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کاسارا تعلیمی نظام اختلافی جزئیات کے گرد گھومنے لگا۔ مثال کے طور پر ہماری موجودہ درس گاہوں کا یہ حال ہے کہ وہاں جب حدیث پڑھائی جاتی ہے تو توحید اور آخرت سے متعلق حدیثوں سے استاد اور شاگرد بالکل سرسری گزر جاتے ہیں۔ اور جہاں کوئی ایسی حدیث آ گئی جس میں ایک مسلک اور دوسرے مسلک کے درمیان اختلاف کا پہلو پایا جاتا ہو وہاں استاد زبردست مہارت دکھاتا ہے ، حتٰی کہ بعض اوقات اس پرایک ایک ہفتے تک بحث ہوتی رہتی ہے۔

اس تعلیمی نظام سے جو لوگ تربیت پا کر نکلتے ہیں قدرتی طور پر ان کے ذہن پر کلیاتِ شریعت سے زیادہ جزئیاتِ شریعت کا غلبہ رہتا ہے۔ وہ انہی اختلافی جزئیات میں اپنے مسلک کو برتر ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ اس کا بدترین انجام موجودہ زمانے میں یہ نکلا ہے کہ یورپ، امریکہ میں  مقیم مسلمانوں نے ان علماء کو بطور امام اور مدرس بلایا تو وہاں پہنچ کر بھی انھوں نے یہی تمام جھگڑے چھیڑ دیے  ۔ ہمارے علماء کے لیے یورپ اور امریکہ پہنچنا اس کا وسیلہ نہ بن سکا کہ وہ ان ملکوں میں اسلامی دعوت کا کام کریں۔ وہ وہاں بھی وہی کرتے رہے جس کی مہارت انہوں نے اپنی درسگاہوں میں حاصل کی تھی۔ یعنی جزئی اختلافی امور پر مسلمانوں میں تفریق پیدا کرنا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Book :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion