اعلیٰ کامیابی کا راز
مذکورہ امریکی کتاب (The Hundred)کا مسلمانوں میں بہت چرچا ہے جس میں پیغمبر اسلام کو سب سے زیادہ کامیاب انسان(supremely successful) قرار دیا گیا ہے۔ اس مقبولیت کی وجہ یہ ہے کہ اس سے ان کے جذبہ ٴفخر کو تسکین ملتی ہے۔ مگر قرآن کے نقطۂ نظر سے اصل اہمیت کی چیز آپ کا اسوہ ہے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو ہمیں ’’سپریملی سکسِس فل‘‘ سے زیادہ یہ دیکھنا چاہیے کہ آپ کی سپریم سکسِس(supreme success) کا راز کیا تھا۔
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی اصل کمی یہ ہے کہ انہوں نے پیغمبر اسلام کو فخر کے طور پر جانا، مگر انہوں نے آپ کو اسوہ کے طور پر نہیں جانا۔ وہ سپریملی سکسِس فل پیغمبر کو جانتے ہیں، مگر وہ اس پیغمبر سے واقف نہیں جس نے اپنی کامل زندگی کے ذریعے سپریم سکسِس کا راز بتایا ہے۔ یہ فرق اتنا زیادہ واضح ہے کہ وہ موجودہ زمانے کے کسی بھی مسلمان کی تقریر کو سن کر یا اس کی تحریر کو پڑھ کر معلوم کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کے سابق صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے یکم اکتوبر1980کو اقوام متحدہ (نیویارک) کی جنرل اسمبلی میں ایک تقریر کی تھی۔ اس تقریر کو انہوں نے دنیا بھر کے 90کروڑ مسلمانوں کے دل کی آواز بتایا تھا۔ یہ تقریر مسلم حلقوں میں عام طور پر پسندیدگی کی نظر سے دیکھی گئی۔ اس تقریر میں انہوں نے کہا تھا کہ اسلامی قوموں نے موجودہ زمانے میں اپنے مذہب اور کلچر میں اپنے فخر کو دوبارہ دریافت کیا ہے:
‘‘The Islamic peoples have rediscovered their pride in their religion and their great culture.’’
موجودہ زمانے کی مسلم بیداری کے لیے یہ صحیح ترین لفظ ہے۔ انہوں نے اسلام کو بطور فخر دریافت کیا ہے ، نہ کہ بطور ہدایت۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں نے تقریروں، تحریروں اور دوسری صورتوں میں جو ’’اسلامی سرگرمیاں‘‘ دکھائی ہیں، وہ تقریباً سب کی سب فخر(pride)کے جذبے کے تحت ابھری ہیں، وہ اتباع کے جذبے کے تحت نہیں ابھریں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے نام پر ان کی تمام سرگرمیاں محض نمائشی دھوم بن کر رہ گئیں، وہ ان کے حال کو بدلنے کے معاملے میں مؤثر ثابت نہ ہو سکیں۔ کیوں کہ اسلام کی برکتیں اسلام پر عمل کرنے سے ظاہر ہوں گی ، نہ کہ اسلام پر فخر و ناز کرنے سے۔
